• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وبا کے سخت معاشی حالات، پاکستانی تاجروں کی سویڈن میں سرمایہ کاری

اسٹاک ہوم (زبیر حسین) کورونا وبا نے جہاں دنیا بھر کی معیشت کو دھچکہ دیا ہے،وہیں پاکستانی تاجروں نے اس وبا کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، ایسی ہی مثال سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کے تاجر اشتیاق خان کی ہےجنہوں نے حکومتی امداد سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کاروبار کی وسعت کو ترجیح دی، اشتیاق خان کا شمار ان تاجروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کم وقت میں چار جنرل اسٹورز سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں قائم کئے، گزشتہ دنوں اسٹاک ہوم کے علاقے فتیا میں انہوں نے اپنےچوتھے اسٹور کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا،تقریب میں پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر سعید شیخ، چیئرمین غلام محمد بھلی، غلام حسن، رضوان بھٹی، حیدر شاہ بخاری، اعجاز، بادشاہی ایوارڈ یافتہ تاجر جمشید گل، ملک شہزاد، یاسین خان، رفاقت اور دیگر نے شرکت کی۔اسٹور کا افتتاح مسلم لیگ ن کے صدر سعید شیخ اور چیئرمین غلام بھلی نے کیا۔ اس موقع پر نمائندہ جنگ سویڈن سے گفتگو کرتے ہوئے اشتیاق خان کا کہنا تھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ سویڈن میں کاروبار کرنا ایک مشکل ترین کام ہے مگر حقیقتاً سویڈن میں کاروبار کرنا بنسبت دیگر ذریعہ معاش سے کافی درجہ بہتر ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایک ایسے پاکستانی بزنس پلیٹ فارم کی ضرورت ہے جہاں پاکستانی کمیونٹی کے نئے تاجروں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جائے جس سے نہ صرف کمیونٹی معاشی طور پر مستحکم ہوگی بلکہ پاکستانی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر سعید شیخ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر ہماری کمیونٹی کے ایسے افراد جو سرمایہ کاری کرسکتے ہوں انہیں کاروبار میں دلچسپی لینی چاہئے تاکہ کمیونٹی کے ملازمت پیشہ افراد کو بھی کام کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔ غلام محمد بھلی کا کہنا تھا کہ کمیونٹی کے نوجوانوں کو اشتیاق خان کی طرح کاروباری سوچ مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی پاکستانی کو بھی سویڈن میں معاشی مسائل کا سامنا نہ ہو۔جمشید گل نے کہا کہ پاکستانی تاجروں نے ہمیشہ سویڈن میں پاکستان کا نام روشن کیا ہےاگر ہماری کمیونٹی چھوٹے پیمانے پر ہی کاروبار کرنا شروع کرے تو ہم سویڈن میں دیگر قومیتوں کے مقابلے میں کافی مستحکم اور منظم ہوجائیں گے۔تقریب کے اختتام پر شرکاءکے لئے ظہرانہ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ 

یورپ سے سے مزید