• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فکر فردا … راجہ اکبرداد خان
دنیا کے نیو کلیئر ملک ہمیں اس بلاک کا حصہ مانیں یا نہ مانیں ان پر منحصر ہے لیکن ہم ایک نیوکلیئر طاقت ہیں، آبادی کے لحاظ سے22 کروڑ افراد کےپاکستان کادنیا کے بڑے ملکوں میںشمار ہوتا ہےجسے اپنی افواج پر فخر ہے کہ ریاست کا دفاعی پہلو مضبوط اور منظم شکل میں موجود ہے، ریاست کے دیگر اہم ادارے مثلاً مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ تینوں اپنے مقام پر کام کرتے نظر آتے ہیں اور ان حقائق کی روشنی میں یہ تسلیم کرلینا کہ ہم ایک کام کرتی ریاست ہیں ایک درست سوچ ہے۔پریشانی ایسے مقامات پر سر اٹھاتی ہے جب یہ نیوکلیئر جمہوری پاکستان کی ریاست خود اپنے ہی بوجھ تلے دب کر پورے نظام کی کمزوریاں عیاں کر دیتی ہے جس سے متعدد بار حکومت کو اپنی ہی Legitmacy پر سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، ہال ہی میں ایک دھرنہ کے نتیجہ میں حکومت اور ریاست دونوں بے بس ہوگئیں جس کے نتیجہ میں پولیس اور دیگر شہدا کو جان سے مار دینے والوں کے خلاف نہ ہی قتل کے مقدمات قائم ہوسکے اور نہ ہی کسی طرح کی پراسیکیوشنز کے ذریعہ قانون حرکت میں آسکا، کئی ایسے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے جنکے جوابات تلاش کرناملک کیلئے ایک نہایت اہم معاملہ ہے۔ اگرچہ اس دھرنہ کے اثرات سے ملک ایک حد تک متاثر ہوا تاہم احتجاج کا مرکز پنجاب کے کئی شہر تھے جہاں مقامی حکومت حالات سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دی۔ مرکز اور صوبہ پنجاب کی حکومتیںیہ طے کرنے میں ناکام رہیں کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے گفت و شنید کیلئے کسے پہل کرنی ہے، غیر یقینی اور کنفیوژن کے درمیان احتجاجی شرکاء کی پرتشدد وارداتوں کے نتیجہ میں 9 پولیس افسران شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے، ابتدا سے ہی اعلیٰ ترین سطح سے ملے جلے پیغامات جاری ہونے کے نتیجہ میں واضح طور پر دکھائی دیا کہ معاملہ کو ایک سے زیادہ حکومتیں ڈیل کر رہی تھیں، ایک مذہبی جماعت کے اس احتجاج کو ایک لمحہ غیر ملکی فنڈنگ سے ہونے والا واقعہ قرار دینا اور ہر حالت میں ریاستی رٹ قائم کرنے کی بات کرنا اور دوسرے لمحہ اپنے بیان میں مختلف اپروچ اختیار کر لینے سے حکومت قدم بقدم کمزور ہوتی چلی گئی، متواتر کئی دن تک ایسا لگا جیسا کہ ملک میں نہ کوئی حکومت ہے اور نہ ہی حکومت کے ماتحت ادارے صورتحال پر قابو پانے کیلئے کچھ کرنا چاہ رہے ہیں بالاخر ایک بار پھر کہی اورسے مداخلت کرنے کی ضرورت پڑی اور لوگوں نےا سکرپٹ کے مطابق اپنے کردار ادا کئے۔ حکومتی پیغام رسانی میں وزیر اطلاعات کا مرکزی کردار ہے جسے وہ احسن طریقہ سے نباہ رہے ہیں، اہم مرکزی وزیر ہونے کے ساتھ وہ قانون دان بھی ہیں اس لئے اس احتجاج کے اردگرد کے واقعات سے متعلق ان کا یہ بیان کہ یہاں ریاست اور حکومت دونوں اس معاملہ سے نمٹنے سے پیچھے ہٹ گئیں، ایک حقیقت پسندانہ بیان ہے جو قوم کیلئے ایک الارم ہے اور مقتدرہ کیلئے جس میں عدلیہ اور حکومت بھی شامل ہیں ،کیلئے بھرپور توجہ کا متقاضی ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ملک اتنے غیر مربوط انداز میں کیوں چلایا جا رہا ہے، جہاں ایک احتجاج نے حکومت اور ریاست دونوں کو بظاہر فارغ کر دیا،وزیر اعظم، ان کے وزراء اور ترجمان مختصر مدت کیلئے مکمل طور پر غیر متعلق دکھائی دیئے اور ملک حالات کے رحم و کرم پر ہوا میں معلق دکھائی دیا، اس واقعہ نے واضح کردیا کہ ملک ایک جڑے ہوئےانداز میں نہیں چل رہا جو حکومت کیلئے نیک نامی کی وجہ نہیں ، کئی نامور آئینی ماہرین کی رائے میں حکومت اور ریاست دو مختلف اداروں کے نام ہیں جس میں حکومت ریاستی پالیسیوں اور ریاستی احکامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ملک کے بازو کے طور پر کام کرتی ہے جب کہ ملک کے آئینی تحفظ، نظام جمہوریت، ملک کے مکمل وقار کو محفوظ بنانا ریاست کا کام ہے اور یہ یقینی بنانے میں حزب اختلاف کا بھی نام آتا ہے، ریاستی عمل داری میں پارلیمنٹ کا اہم مقام ہے، بدقسمتی سے نہ ہی حکومت کام کرتی نظر آرہی ہے اور نہ ہی پارلیمانی حزب اختلاف، اپوزیشن کیلئے اچھا موقع تھا کہ پارلیمنٹ کااجلاس بلا کر ملک پر چھائی غیر مستحکم صورتحال پر بحث و مباحثہ کرکے ایک کمزور حکومت کی نالائقیاں گنوا دی جاتیں تاکہ لوگ ایک خوفناک صورتحال کی حقیقت جان لیتے، ایسا نہ ہوسکا اور ملک میں مارکٹائی کے نتیجہ میں جانیں ضائع ہوئیں، معیشت کو کروڑوں کا نقصان پہنچا ۔ حکومتی وزیر کی طرف سے یہ کہہ دینا کہ اس حالیہ احتجاج کے موقع پر حکومت اور ریاست دونوں کا اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے سے پیچھے ہٹ جانا ایک غیر معمولی بیان ہے جس کا دوسرے لفظوں میں یہ بھی مطلب ہے کہ چند دنوں کیلئے یہ دونوں ادارے تحلیل رہے اور اس دوران ملک کس طرح چلایا گیا، آنے والے وقتوں میں پڑھنے کے قابل ہوگا، کئی بار پہلے بھی اہم مواقع پردیگر قوتوں کو دھرنے اٹھانے کیلئے اپنے وسائل استعمال کرنے پڑے جس طرح اس دھرنہ کے معاملات طے کئے گئے، وہ عوامی معاملات جہاں لوگوں کی جانیں گئی ہوں اور کئی دن ملک کا نظام آمدورفت خراب ہوا ہو وہاں خاموشی سے اس معاملہ کو بند کردینا جیسا کہ کچھ ہوا ہی نہیں اور حکومت اور ریاست کی خاموشی وہ چیزیں ہیں جن پر تمام اداروں کو سوچ و بچار کی ضرورت ہے حکومت اور ریاست جب دونوں خاموش ہیں تو آئین کے پاسداران کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس قومی معاملہ پر غیر حقیقی پردہ کی چادر نہ ڈالنے دیں، اپوزیشن جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آواز بلند کریں کہ جن حالات میں اور جس انداز میں یہ تمام معاملہ بند کیا گیا ہے اسے عوام کے سامنے لایا جائے، پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ یقیناً اتنا مضبوط ہے کہ وہ ایسے واقعات کے اثرات سے نمٹ کر مستقبل کیلئے ایسی راہیں متعین کر سکتا ہے جہاں ملک کو ایسے حالات سے آئندہ نہ نمٹنا پڑے۔ ریاست ایسے واقعات کے خاتمہ کیلئے ایسا نظام مرتب کرے جہاں کسی وزیر کو یہ نہ کہنا پڑے کہ یہاں ریاست اور حکومت کسی معاملہ پر پیچھے ہٹ گئیں، ایسا ہونا پاکستان کے مفاد میں نہیں۔
یورپ سے سے مزید