• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یکم جنوری سے ضم قبائلی اضلاع کے عوام صحت کارڈز علاج کراسکیں گے ، سلیم جھگڑا

پشاور ، بنوں (وقا ئع نگار ،نمائندہ جنگ) یکم جنوری سے ضم قبائلی اضلا ع کے عوام صحت کا رڈ ز علا ج کر ا سکیں گے،بائلی علاقوں میں 5ارب روپے بی ایچ یوز کی حالت زار بہتر بنانے پر خرچ کررہے ہیں،خسر ہ اورروبیلا مہم کو بہتر حکمت عملی سے کامیاب بنا یا ، جہا ں کو کوئی مسئلہ درپیش آیا ، فوری حل کیا ، ڈ ان خیا لا ت کا اظہار صو با ئی صحت اورخز انہ تیمور سلیم جھگڑ ا نے پاک جرمن تعلقات کے ستر سال مکمل ہونے کے سلسلے میں جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (جی آئی زی) کے توسط سے پشاور کے عجائب گھر میں قبائلی اضلاع کی تصویری نمائش کے افتتا حی تقر یب سے خطا ب اور بنوں میں خسرہ اور روبیلا مہم کےافتتا ح کے موقع پر کیا ، انھو ں نے جرمن سفارت خانے کے ناظم الامور ڈاکٹر ڈیش مان کے ہمراہ تصویری نمائش کا افتتاح کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاک جرمن تعلقات تاریخ کا روشن باب ہے، جرمنی پختونخوا حکومت کو قبائلی علاقوں کے کئی پروجیکٹس میں سپورٹ فراہم کررہی ہے۔ وزیرصحت و خزانہ نے بتایا کہ تاریخ دان پشاور کے عجائب گھر کی اہمیت سے متفق ہیں۔ حکومت ثقافت کو فروغ دینے کے سلسلے میں اقدامات اٹھا رہی ہے، سیاح پشاور کا رخ کررہے ہیں، قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی بارے ان کا کہنا تھا کہ رواں سال 60 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ضم شدہ قبائلی علاقوں کے لئے مختص کیا گیا ہے اور اگر باقی صوبے اپنا حصہ دیں تو یہ بجٹ 00 1 ارب روپے تک پہنچ جائے گا، قبائلی اضلاع میں صحت سہولیات کی بہتری بارے وزیر صحت نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں 5 ارب روپے بی ایچ یوز کی حالت زار بہتر بنانے پر خرچ کررہے ہیں۔ جرمن سفارت خانے کے ناظم الامور ڈاکٹر ڈیش مان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مختلف سطح پر باہمی تعاون شاندار طریقے سے جاری ہے، جی آئی زی اور دیگر پروگرام سے یہاں کے عوام کو نمایاں ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح بنوں ڈویژن میں خسرہ اورروبیلہ کی بیماریوں کے خلاف بچوں کی ویکسینشن کا عمل جاری ہے۔ یہ مہم بچوں کو ان دونوں خطرناک بیماریوں سے بچانے کیلئے نہایت اہم ہے اورصوبائی حکومت باالخصوص محکمہ صحت نے اس کی کامیابی کیلئے ایک جامع حکمت عملی طے کی ہے جس کے تحت مہم کو کامیاب بنانے میں جہاں محکمہ صحت کاعملہ دن رات کام کررہاہے وہاں ڈویژنل اورضلعی انتظامیہ کے افسران بھی ہر سطح پر اس مہم کی نگرانی اوراس کے اہداف کے حصول میں بھر پور معاونت فراہم کررہے ہیں۔ اسی طرح مہم کے دوران ویکسینیشن ٹیموں کو تحفظ دینے کیلئے پولیس اورقانون نافذ کرنے والے تمام ادارے بھی پوری طرح چوکس ہیں۔ خسرہ اورروبیلہ کے خلاف مہم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا،چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اورسیکرٹری صحت نے دیگر محکموں کی شراکت سے ایسی حکمت عملی ترتیب دی جس کے دوررس نتائج سب کے سامنے ہیں۔ صوبائی اورضلعی سطح پر روزانہ بنیادوں پرمہم کاجائزہ لیاگیا اورجہا ںکہیں بھی کوئی کوتاہی دیکھنے میں آئی اس کا بروقت ازالہ کیاگیا اورویکسینشن ٹیموں کی ضروریات کو پورا کیاگیا۔صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے انسداد خسرہ اور روبیلہ مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ سیکرٹری محکمہ صحت خیبرپختونخوا محمد طاہر اورکزئی، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نیاز محمد، ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر محمد عارف، کوآرڈینیٹر ای او سی عبدالباسط، یونیسف کے ڈاکٹر عبد الجمیل اور عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر بابر بھی موجود تھے۔اس موقع پر بچوں کو خسرہ اور روبیلہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے اور پولیو قطرے بھی پلائے گئے۔۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبرپختونخوا ڈاکٹر نیاز محمد نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مہم کے دوران صوبے کے 36 اضلاع میں نو ماہ سے پندرہ سال تک کے 15 ملین سے زیادہ بچوں کو ویکسین لگایا جائے گا۔ مہم کیلئے 13664 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں محکمہ صحت کے مختلف مراکز میں فکسڈ ٹیمیں اور آؤٹ ریچ ٹیمیں شامل ہیں ۔
پشاور سے مزید