• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
رابطہ…مریم فیصل
برطانیہ اور اس جیسے ترقی یافتہ ممالک ایک ایسی جنت ہیں جہاں پہنچتے ہی دودھ کی نہریں بہتی نظر آتی ہیں اور ہر سو آسائشیں ہی آسائشیں موجود ہیں ،سونے چاندی کے پہاڑ ہیں جو جتنا چا ہے ان سے لے سکتا ہے ۔۔یہ ہم نہیں کہہ رہے بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے دلو ں کی آواز ہے جو ترقی پذیر یا پھر جنگ زدہ قحط زدہ ممالک کے شہری ہیں ۔ ان کی نظر میں یہاں کی سہولیات پر ان کا بھی اتناہی حق ہے جتنا یہاں کے اصلی شہریوں کا ہے اور ان تمام آسائشوں کو حاصل کرنے کے متلاشی ہر قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہیں چا ہے وہ ان کی جان کی قیمت ہی کیوں نہ ہو۔ حال ہی میں جو کشتی ڈوبی ہے اس میں مرنے والے ایسے ہی افراد تھے جو اپنی زندگیوں کو سنوارنا چاہتے تھے لیکن ہوا کیا وہ اپنی جان سے گئے ۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ایسی ان گنت کشتیاں ڈوبتی رہی ہیں اور ان کے سوار اپنی منزل کی طرف نہیں موت کے منہ میں گم ہوتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکتا بھی نظر نہیں آرہا ۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا حل نہ برطانیہ نکالنے کو تیار ہے نہ ہی فرانس کسی انتہائی اقدام کی جانب جاتا نظر آرہا ہے ۔ بلکہ دونوں ممالک اس معاملہ پر سیاست کھیل رہے ہیں تاکہ دونوں کی گردن پر ان مظلوموں کے قتل کا الزام نہیں پڑےحالانکہ دونوں ممالک نے غیرقانونی تارکین کو روکنے کے لئے قوانین مرتب کئے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی کشتیاں آنے کا سلسلہ رکا نہیں ہے اعداد و شمار یہ بتارہے ہیں کہ یہ تعداد بڑتی جارہی ہے ۔ ذرا نظر ان قوانین پر بھی ڈال لیتے ہیں جو سمندر کے راستے آنے والے غیر قانونی تارکین پر لاگو ہوتے ہیں ۔ ان کے تحت یا تو ان تارکین وطن کو برطانیہ کے بارڈر پر لایا جاتا ہے اور اگر وہ امیگریشن کے لئے درخواست دینا چاہیں تو انھیں بطور اسایلم سیکر مان کر ان کی درخواست پر کارروائی کی جاتی ہے ورنہ ایک صورت میں ان کی کشتی کو واپس سمندر میں بھیج دیا جاتا ہے ۔ عجیب قوانین ہیں جو ان تارکین وطن کی آمد کے سلسلے کو روک نہیں سکے ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان قوانین کے ڈر سے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ بالکل نہیں بھی رکتا تو کم سے کم یہ سلسلہ کم ضرور ہو جاتا لیکن ہاے رے کیا کریں ان بڑی ریاستوں کی رحم دلی کا جو اپنے ملک میں ایسے لوگوں کو جگہ دینے کے لئے ہر دم تیار رہتی ہیں جو خود کو مصیبت زدہ ثابت کر تے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو یہ لوگ آفت زدہ مصیبت زدہ بنے بھی تو ان جنگوں کی وجہ سے ہیں جو ان پر مسلط کی گئیں اور جن میں بڑی مملکتوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ۔ اب اپنے اس گناہ پر پردہ ڈالنے کے کے لئے کشتیوں پر سوار آنے والوں کے لئے اپنی باہیں پھیلائے بیٹھے ہیں ۔ یہ اسایلم سیکرز جب برطانیہ یا د وسرے ممالک میں شہریت حاصل کر لیتے ہیں تب ان سے اپنے مقاصد بھی حاصل کئے جاتے ہیں جو ہم سب دیکھ کر بھی نظر انداز کر رہے ہیں ۔ کشتیاں آنے اور ڈوبنے کا سلسلہ بالکل رک سکتا ہے اگراقوام متحدہ جیسےادارے جنگ زدہ اور قحط زدہ ممالک کے لئے واقعی کچھ کر لیں ماسوائے ٹریٹیز بنانے کے تب ان ممالک کے لوگ بھی اپنے اپنے ملکوں میں سکون سے معاشی طور سے خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں ۔
یورپ سے سے مزید