• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کارپوریٹ کمپنیوں کی ماحولیاتی تحفظ میں سرمایہ کاری

رواں صدی کے وسط تک عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج کو صفر کی سطح پر لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ عالمی رہنماؤں نے 2030ء تک تمام صنعتوں سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کم از کم 50 فی صد کمی کا ہدف مقرر کررکھا ہے۔ اس میں جنگلات کی کٹائی اور زمین کا غیرذمہ دارانہ استعمال روکنا شامل ہے، جس کا زہریلی گیسوں کے سالانہ اخراج میں 25 فی صد حصہ ہے۔ یہ ہدف صرف فطرت کے تحفظ میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق، زہریلی گیسوں کے اخراج کو بتدریج کم کرکے صفر پر لانے کے لیے ’فطرت کے تحفظ میں سرمایہ کاری‘ کے ذریعے عالمی درجہ حرارت کو مقرر کردہ سطح کے اندر رکھنے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت کو ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہ بڑھنے دینے کا قدرتی طریقہ ’ٹیکنالوجیکل سلوشن‘ کے مقابلے میں کم لاگت کا حامل ہے۔ 

انسان کی سرگرمیوں اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کے ہماری زمین پر شدید اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں روئے زمین پر انسانی ذات کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔ ’نیچرل کلائمیٹ سلوشن‘ ماحولیات اور فطرت کی حمایت کرتے ہوئے زمین پر زندگی کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس (COP26) میں بھی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فطرت کے کردار پر بڑے پیمانے پر بحث کی گئی ہے، جہاں کچھ ممالک نے اسے اپنے لائحہ عمل کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہےکہ عالمی سطح پر حکومتوں کی جانب سے کیے گئے وعدے کافی نہیں ہیں۔

کمپنیاں اور ذیلی قومی حکومتیں بھی تسلیم کرتی ہیں کہ فطرت ایک اچھی ماحولیاتی سرمایہ کاری ہے۔ اس میں محفوظ جنگلاتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ شامل ہے – جو جنگلات کی کٹائی سے ہونے والے اخراج کو روکتا اور کم کرتا ہے۔ مزید برآں، اس میں جنگلات کی بحالی بھی شامل ہے، جو ماحول میں پہلے سے موجود زہریلی گیسوں کو جذب کرتے ہیں۔ فطرت دیگر قیمتی فوائد اور لچک فراہم کرتی ہے، جیسے: ماحولیاتی نظام اور خطرے سے دوچار حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، تنزلی زدہ زمینوں کی بحالی اور ذریعہ معاش کی حمایت۔ یہ ایک مستحکم اور خوشحال وپائیدار معیشت کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی عالمی خطرات کی سال 2020ء اور 2021ء کی رپورٹس میں حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو امکانات اور اثرات کے لحاظ سے 5 سرفہرست خطرات میں سے ایک کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ فطرت میں سرمایہ کاری آب و ہوا کے ساتھ ساتھ، اس سے وابستہ دونوں خطرات کو دور کرتی ہے۔

مشترکہ خدشات کو دور کرنا

اس سلسلے میں کچھ شراکت داروں کے کچھ جائز خدشات بھی ہیں جو موسمیاتی تخفیف یا مقامی ماحول اور اس کے لوگوں کی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ وہ کیا ہیں، اور ان پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟

اخراج کو کم کرنے اور اس سے بچنے کے لیے قابل اعتماد کوششوں کے بغیر سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیاں:

زہریلی گیسوں کے اخراج کے لیے ’خالص صفر‘ (نیٹ زیرو) کا ہدف طے کیے بغیر درختوں کے تحفظ، بحالی اور اُگانے میں سرمایہ کاری کرنا، اور کارپوریٹ سپلائی چینز میں اخراج میں تیزی سے کمی لانا، گرین واشنگ ہے۔ تاہم، جب کوئی کمپنی اس سلسلے میں ایک بلند نظر ہدف کا عہد کرتی ہے، تو مناسب یہ ہے کہ حال اور مستقبل میں ہونے والے یقینی اخراج (جس سے گریز نہیں کیا جاسکتا) کی تلافی کی جائے۔ چونکہ درختوں کو اُگنے میں وقت لگتا ہے، آج فطرت کے تحفظ میں سرمایہ کاری، مستقبل کے اخراج کی تلافی کرے گی۔ کمپنیاں اپنے پائلٹ پروگراموں سے نتائج اَخذ کرتی ہیں، جو مستقبل میں ان کی حکمتِ عملی کی تیاری میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

سائنسی تحقیق پر مبنی اہداف

سائنسی تحقیق کی روشنی میں مقرر کیے گئے اہداف ’نیٹ۔زیرو اسٹینڈرڈ‘ تمام شعبوں میں کمپنیوں کو پابند کرتے ہیں کہ وہ 2030ء تک اپنے زہریلی گیسوں کے اخراج کو نصف کر دیں (بشمول جنگلات کی کٹائی، زمین کے استعمال اور زراعت کے ذریعے گیسوں کا اخراج) اور فطرت میں ان کی سرمایہ کاری اس کے تحفظ، بحالی اور پائیدار طریقے سے زمین کے استعمال کےمعیار پر پورا اُترتی ہو۔

فطرتی حل میں صرف کاربن کیلئے سرمایہ کاری

کاربن اخراج کو روکنے کے لیے غیر ذمہ دارانہ شجرکاری کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، جن میں مقامی ماحول کے لیے ناموافق انواع کا داخل ہوناشامل ہے، جن کا مقامی آبادی کو فائدہ پہنچنے کے بجائے طویل مدتی نقصانات اور بقاکے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ کارپوریٹ اداروں کو مقامی علم اور سائنسی شواہد کی روشنی میں ماحولیاتی اور سماجی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے، فطرت میں اس طرح سرمایہ کاری کرنی چاہیے جو جنگلات اور مقامی کمیونٹیز کی ضروریات کو پورا کرتی ہو۔ 

اس طرح کے فورم کمپنیوں کو سیکھنے اور اشتراک کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں جہاں – مستقبل کی حکمت عملیوںپر عمل کرنے سے پہلے انھیں بحث کے لیے پیش کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں غلطیوں کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔