• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کو شہر قائد‘ ملکہ مشرق اور روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ اسے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ سرچارلس نیپیئر نے کئی دہائیوں قبل کہا تھا کہ، کراچی ایشیاء کی دلہن بنے گا۔ اس وقت کراچی مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی تھی، کسی کو کیا معلوم تھا کہ سرچارلس نیپیئر کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوگی اور کراچی واقعی چمکتے دمکتے نظاروں‘ بلند ترین عمارتوں‘ جدید طرز تعمیر کے شاہکار پُلوں‘ فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا شہر بن جائے گا۔ 

یہ شہر قومی خزانے کو آج بھی 65فیصد سے زائد ریونیو فراہم کرتا ہے ۔یہاں بڑے پیمانے پر تیار شدہ مصنوعات کا 42فیصد حصہ تیار ہوتا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 25فیصد ہے۔ کراچی پاکستان کے مختلف شہروں اور دنیا بھر سے آئے ہوئے تارکین وطن کو خوش دلی سے خوش آمدید کہتا ہے۔یہ امیروں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے اپنے اندر بے انتہا کشش رکھتا ہے، جو ایک بار اس شہر میں آیا پھر لوٹ کر نہیں گیا، کیوں کہ اس شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں رات کو کوئی بھی بھوکے پیٹ نہیں سوتا اور یہ کسی نہ کسی طور ہر شخص کو کچھ نہ کچھ روزگار مہیا کرتا ہے۔

یہاں کے شہری بھی فراخ دل ہیں، غریبوں‘ یتیموں‘ مسکینوں کی دل کھول کر مدد کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اس شہر کی آبادی تین ساڑھے تین لاکھ تھی جو اب بڑھ کر ڈھائی کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ اس شہر کی کشش، سہانا موسم، روزگار اور تعلیم کے مواقع اور شہری سہولیات ہیں۔دنیا کے چھ بڑے شہروں میں شامل اس شہر کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کے ساتھ ساتھ ان کی آخری آرام گاہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ 

اس ساحلی شہر کی آبادی کم و بیش دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں سے زائد ہے۔ پاکستان کی بلند ترین عمارات بھی اس شہر میں تعمیر ہوئیں۔قیام پاکستان سے قبل 1924ء میں تعمیر ہونے والی لکشمی بلڈنگ کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ کراچی کی سب سے بلند ترین عمارت تھی۔ یہ عمارت ایک زمانے میں خاصی شہرت رکھتی، دوسرے شہروں سے کراچی آنے والے لوگ اس عمارت کو ساتھ دیکھ کر حیران ہوتے تھے لیکن پھر بلند عمارات کا سلسلہ شروع ہوگیا جو بدستور جاری ہے۔ اس ہفتے آپ کو اب تک کراچی میں تعمیر ہونے والی پانچ بلند ترین عمارتوں سے متعلق بتاتے ہیں۔

حبیب بینک پلازہ

یہ اعزاز سب سے پہلے آئی آئی چندریگر روڈ پر تعمیر ہونے والی عمارت حبیب بینک پلازہ کو حاصل ہوا۔ 12نومبر 1966ء کو حبیب بینک پلازہ کا سنگ بنیاد اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے رکھا۔3ستمبر 1971ء کوحبیب بینک پلازہ کا باقاعدہ افتتاح کیاگیا تاہم اس موقع پر کسی افتتاحی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا بلکہ پانچ لاکھ روپے کی رقم سے ایک ایجوکیشنل ٹرسٹ بنایا گیا جس کے سربراہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اوربورڈ آف ٹرسٹیز میں انسٹیٹیوٹ آف بینکرز کے نامزد نمائندے شامل تھے۔12نومبر 1966ء کو صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نےعمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ 

حبیب بینک پلازہ کا ڈیزائن امریکی آرکیٹکٹ لیو اے ڈیلی نے تیار کیا تھا۔ اس کی تعمیر3ستمبر1971ء کو مکمل ہوئی۔ حبیب بینک پلازہ 22منزلوں پر مشتمل ایک پُرکشش اور دلکش ڈیزائن سے مرصع عمارت ہے۔اس کی اونچائی 311فٹ یا 95میٹر ہے ۔ سائوتھ ایشیاء میں بلند ترین عمارت کا یہ اعزاز 33سال تک اس عمارت کو حاصل رہا۔ کراچی کی سیر کے لیے جو افراد آتے وہ اس بلڈنگ کو لازمی دیکھتے اوراس کی بلندی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتے۔ کچھ لوگ یہاں کھڑے ہو کر تصاویر بنواتے تاکہ اپنے دوستوں اوررشتہ داروں کو دکھاسکیں کہ وہ جنوبی ایشیاء کی اس حیرت انگیز طور پر بلند عمارت کو دیکھنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔

جو لوگ عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے وہ اس کا احوال دوسرے لوگوں کو بڑے فخر سے بتاتے۔ اس گول عمارت ہر ہر منزل پر بڑے بڑے کمروں کے ساتھ ساتھ صحن‘ واش روم‘ اسٹورروم اور کشادہ راہداریاں بنائی گئی ہیں جبکہ ہر فلور میں تین اطراف کھڑکیوں سے باہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ تیز رفتار لفٹس صبح سے شام تک ایک منزل سے دوسری منزل تک یہاں آنے والے لوگوں کو پہنچاتی ہے۔ ایمرجنسی سیڑھیاں اس کے علاوہ ہیں۔ عمارت کا داخلی دروازہ آٹومیٹک ہے۔ دروازے کے قریب قدم رکھتے ہی دروازہ از خود کھل جاتا ہے اورعمارت میں داخل ہونے کے بعد خود کار نظام کے ذریعے بند ہوجاتا ہے۔ 

ابتداء میں یہ بھی شہریوں کے لیے ایک حیرت انگیز بات تھی۔ رمضان اور عید کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس اکثر و بیشتر یہیں منعقد ہوتے تھے اور اسی عمارت سے ریڈیو، ٹیلی وژن پر کمیٹی کے چیئرمین کو چاند کا اعلان کرتے ہوئے دکھایا جاتا۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے تھے کہ حبیب بینک پلازہ کی چھت سے چاند دیکھنے کے لیے کسی دوربین کی ضرورت نہیں ہے‘ چاند سامنے خود ہی آجاتا ہے۔ 25اگست 1966ء کو اس بینک کی سلور جوبلی تقریبات کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ 

حبیب بینک کا قیام 25اگست 1941ء کو ہندوستان میں عمل میں آیاتھا۔ قیام پاکستان سے کچھ دنوں پہلے 7اگست 1947ء کو اس بینک کے صدر دفاتر پاکستان منتقل کر دیے گئے۔ اور اس بینک نے پاکستان میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا۔ بینک سلور جوبلی کی تقریبات انتہائی شاندار طریقے سے منائی گئیں۔ اخبارات نے خصوصی ضمیمے شائع کیے اور محکمہ ڈاک نے 15پیسے مالیت کا ایک یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا ۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقعہ تھا کہ جب محکمہ ڈاک نے کسی پرائیویٹ یا غیر سرکاری ادارے کے حوالے سے کوئی ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہو۔ ان سلور جوبلی تقریبات کو مزید یادگار اور تاریخی بنانے کے لیے حبیب بینک نے کراچی میں پاکستان کی بلند ترین عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نام حبیب بینک پلازہ رکھا گیا۔ بینک کی سلور جوبلی تقریبات کی صدارت فیلڈ مارشل اور صدر پاکستان جنرل ایوب خان نے کی۔

ایم سی بی ٹاور

2000ء میں ایم سی بی نے آئی آئی چندریگر روڈ پر ہی اپنے مرکزی دفتر ایم سی بی ٹاور کی تعمیر کا آغاز کیا۔ 3جنوری 2005ء کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان، جناب شوکت عزیز نے کی اس عمارت کا افتتاح کیا۔ ایم سی بی ٹاور کی کل بلندی 116میٹر ہے اور یہ تین بیسمنٹ اور 29منزلوں پر مشتمل ہے۔ 2005ء میں ایم سی بی ٹاور کی تکمیل کے بعد پاکستان کی بلند ترین عمارت کا تاج اس عمارت کے سر پر سج گیا ۔

جس پلاٹ پر یہ عمارت تعمیر کی گئی ہے اس کا کُل رقبہ 2500مربع گز ہے، جبکہ اس کا کورڈ ایریا 21285مربع میٹر ہے۔ عمارت میں چھ جدید ترین لفٹس اور ایلیویٹر لگائے گئے ۔ عمارت کے آرکیٹکٹ ارشد شاہد عبداللہ تھے جو اس سے قبل بھی کراچی میں کئی عمارتیں ڈیزائن کر چکے ہیں۔ عمارت کی تکمیل کے بعد ایم سی بی نے اپنے دفاتر فوری طور پر یہاں منتقل کر دیے۔ ایم سی بی ٹاور بلند ترین عمارت کا اعزاز بہ مشکل آٹھ سال تک ہی برقرار رکھ سکی۔

اوشین ٹاور

2013 میں کلفٹن میں انتہائی تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کرنے والی عمارت’’ اوشین ٹاور‘‘ نے پاکستان کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ کلفٹن میں دو تلوار چورنگی کے قریب واقع ہے۔ اس کی اونچائی 120میٹر یا 394فٹ بلند ہے ۔ اس میں 28فلور تعمیر کیے گئے۔ پہلے یہ عمارت سات ستارہ ہوٹل، سوفٹیل ہوٹل پلازہ (Softitel Hotel Plaza)کے نام سے شروع کی گئی اس کے بعد اس کا نام دی مال،(The Mall)رکھا گیا لیکن تکمیل کے بعد پراس کا نام اوشین ٹاور رکھ دیا گیا۔

عمارت کی تعمیر کا آغاز 2007ء میں کیا گیا۔ تیسری منزل پر 4جدید ترین سنیما ہال بنائے گئے، جنہیں''Cineplex''کے نام سے پکارا جاتا ہے۔یہ کراچی کے مہنگے سنیما ہال ہیں جس کا ٹکٹ500روپے سے لے کر 1000 تک ہے۔ ساتھ ہی فوڈ کوٹہے ۔ شاپنگ سینٹر ‘بچوں کے لیے پلے ایریا اور دیگر سہولیات بھی موجود ہیں‘ عمارت میں بڑے پیمانے پر آنے والے شہریوں کے لیے کارپارکنگ کا بھی انتظام ہے۔ اوپر کی منزلوں میں مختلف کمپنیوں اور اداروں کے دفاتر ہیں۔ ڈیزائن کے اعتبار سے بھی اسے ایک خوبصورت عمارت کہا جا سکتا ہے۔

سینٹر پوائنٹ ٹاور

2013ء میں کورنگی روڈ پر کراچی کی ایک اوربلند عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی ۔ ا عمارت کی تعمیر کا آغاز 2008ء میں کیا گیا تھا۔ یہ بلڈنگ ایکسپریس وے کورنگی روڈ پر واقع ہے،اسے’’ سینٹر پوائنٹ ٹاور‘‘ (Centre Point Tower)کا نام دیا گیا ہے۔ یہ عمارت 110میٹر یا 361فٹ بلند ہے‘ اس عمارت کی 28 منزلیں ہیں۔ عمارت کی خوبصورتی اور دلکشی میں اضافے کے لیے نیلگوں شیشے لگائے گئے ہیں، جبکہ باہر کی جانب مختلف رنگوں کی لاٹیں بھی لگائی گئی ہیں جو وقفہ وقفہ سے رنگ تبدیل کرتی ہیں۔ اس عمارت میں زیادہ تر دفاتر ہیں۔

بحریہ آئی کون ٹاور

پاکستان کی سب سے بلند ترین عمارت کا تاج اب کراچی میں عبداللہ شاہ غازی روڈ اور شاہراہ فردوسی کے سنگم پر واقع بحریہ آئی کون ٹاور کے سر سج چکا ہے۔ 15 اکتوبر 2017 کو اس کا اسٹرکچر مکمل کرلیا گیا تھا اور ایک خوبصورت تقریب میں ماسٹ نصب کرکے اس کے اسٹرکچر کی تکمیل کی گئی تھی ۔ اندرونی آرائش کا کام بھی کم و بیش مکمل ہوچکا ہے، شاپنگ مال اگلے سال کے وسط میں کھول دیا جائے گا ،کارپوریٹ دفاتر بھی تیار ہیں ،یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ بحریہ آئی کون کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد پاکستان اب جنوبی ایشیا کی 300 میٹر بلڈنگ کلب کا حصہ بن گیا ہے۔

62 منزلوں پر مشتمل یہ عمارت اپنی تکمیل کے بعد بلندی کا فقید المثال سنگ میل عبور کرچکی ہے۔

اس عمارت کے ایک جانب مشہور صوفی بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا مزار ہے جبکہ دوسری جانب اور عقب میں 130ایکڑ رقبے پر مشتمل کراچی کا سب سے بڑ ا پارک باغِ ابن قاسم ہے۔عمارت میں 40منزلیں سروسڈ اپارٹمنٹس پر مشتمل ہیں ۔ ان اپارٹمنٹس میں جدید سہولیات مہیا کی گئی ہیں جن میں سوئمنگ پول‘ جم‘ لگژری سپااور فائن ڈائننگ ریسٹورنٹ‘ سنی گولڈ سنیما‘ کھانے پینے کے لیے فوڈ کورٹ ‘ الٹرامارڈرن آئی ٹی اور کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔اس عمارت کے اوپر پاکستان کا بلند ترین ریسٹورنٹ تعمیر کیا گیا ہے۔ میٹنگز اور کانفرنسز کے لیے سہولیات اور جگہیں بھی مختص ہیں۔ ڈبل ڈیکر ہائی اسپیڈ ایلیویٹرز بھی لگائے گئے ہیں۔

دنیا کی تیز ترین 16 ہائی اسپیڈ لفٹ اور وسیع العریض پارکنگ کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ عمارت کی حفاظت کے لیے جدید سکیورٹی سسٹم قائم کیا گیا جبکہ کارپارکنگ کے لیے 7بیسٹمنٹ پارکنگ فلورز تعمیر کیے گئے ہیں۔ شہریوں کے لیے ایک ‘ دو اور تین بیڈ کے اپارٹمنٹس اور قومی اور بین الاقوامی اداروں کے لیے کارپوریٹ آفسز بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ 

 یہ عمارت جس جگہ تعمیر کی گئی ہے وہ کراچی کا انتہائی خوبصورت ‘ دلکش ،مہنگا اور پوش ترین علاقہ ہے۔ عمارت کی بالکونیوں سے نہ صرف سمندر کی لہروں سے محظوظ ہواجاسکتا ہے بلکہ باغِ ابن قاسم کا دلکش منظر بھی آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے اور کراچی کا فضائی نظارہ بھی دلکش ہے۔

چیئرمین بحریہ ٹائون ملک ریاض حسین کا کہنا ہے کہ بحریہ آئی کون ترقی یافتہ اور جدید پاکستان کا نشان بن کر ابھرا ہے۔ اس عمارت کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور سربراہ کثیر المنزلہ عمارات ملک حفیظ کہتے ہیں کہ بحریہ آئی کون بہت ہی مشکل اور چیلنجنگ پروجیکٹ تھا جسے ہم نے بڑی محنت ، لگن اور ہمت کے ساتھ مکمل کیا ہے۔

بحریہ آئی کون کراچی اپنے نام کے عین مطابق انتہائی منفرد ، جدید ڈیزائن اور بہترین سہولتوں سے آراستہ پاکستان کی سب سے اونچی عمارت ہے۔اسی سے ملحق دوسری بلڈنگ اپارٹمنٹ ٹاور ہے جو 42 منزلہ ہے اور جدید سہولتوں سے مزین ہے ،بحریہ آئی کون کراچی کی خاص بات اس میں موجود پارکنگ کے ساتھ لیولز ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ تمام جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی میں بھی پہلی سہولت ہے، روف ٹاپ اسکائی ویو ڈک بحرعرب اور شہر کراچی کی دلکش نظارے کے لئے مختص کیا گیا ہے، اپارٹمنٹ ٹاور بھی ڈبل ٹیکر لفٹ ، مکمل ایئرکنڈیشنڈز ، بہترین مینجمنٹ سسٹم، لائف اور فائبر سسٹم سنیما، شاپنگ مال ، فوڈ کورٹ اور بہت سی آسائشیں لئے ہوئے ہے۔اس پروجیکٹ کے لئے پاکستان کے بہترین کنسلٹنٹ ، کمپنیز بلکہ اسٹرکچر کے لئے دبئی اور ہانگ کانگ کی کمپنیز کی پیشہ ورانہ خدمات حاصل کی گئیں۔ یہ اپنی نوعیت اور تعمیر کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔

کراچی میں اب تک متعدد بلند ترین عمارتیں تعمیر کی جاچکی ہیں اور کچھ عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بلند ترین عمارت کا یہ اعزاز کب تک بحریہ آئی کون کے پاس رہتا ہے ۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرسکے گا۔