• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جولائی تا اکتوبر، بیرونی سرمایہ کاری کم، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا

اسلام آباد ( تنویر ہاشمی ) رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران کرنٹ اکائونٹ خسارہ 4.7فیصد اضافے کے ساتھ پانچ ارب 10کروڑ ڈالر ہوگیا .

ترسیلات زر میں 11.9فیصد اضافہ ، برآمدات میں 32.2جبکہ درآمدات میں 66.3فیصد اضافہ ہوا، نان ٹیکس ریونیو میں27.4فیصد کمی ہوئی جبکہ ٹیکس ریونیو میں 36.8فیصد اضافہ ہوا، 4 ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.7فیصد رہی، براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 11.8فیصد کمی ہوئی

پہلے چار ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران پاکستان کی بیرون ملک سے ترسیلات زر 11.9فیصد اضافے سے 10ارب60کروڑ ڈالر ، برآمدات 32.2فیصد اضافے کے ساتھ 9ارب70کروڑ ڈالر رہی ، درآمدات 66.3فیصد اضافہ ہوااور 23ارب50کروڑ ڈالر کی ہوئیں نان ٹیکس ریونیو میں27.4فیصد کمی ہوئی جبکہ ٹیکس ریونیو میں 36.8فیصد اضافہ ہوا.

چار ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 8.7فیصد رہی ، وزارت خزانہ کی چار ماہ کی اقتصادی آئوٹ لک رپورٹ کےمطابق پہلے تین ماہ جولائی تا ستمبر میں پاکستان کا مالی خسارہ 0.8فیصد کے ساتھ 438ارب روپے رہا .

پرائمری بیلنس 184ارب روپے سرپلس رہا ، رپورٹ کے مطابق 23نومبر تک پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 22ارب57کروڑ90لاکھ ڈالر اور سٹیٹ بنک کے ذخائر 16ارب4کروڑ50لاکھ ڈالر رہے ، کرنسی کی قدر 174.30روپے فی امریکی ڈالر رہی جو کہ گزشتہ برس اس تاریخ کو 161روپے فی امریکی ڈالر تھی.

چار ماہ میں ایف بی آر کے ریونیو 36.8فیصد اضافے کے ساتھ 1843ارب ر وپے جمع کیے گئے نان ٹیکس ریونیو 27.4فیصد کمی کے ساتھ 249ارب روپے جمع ہوئے

جولائی تا اکتوبر کے چار ماہ میں زرعی قرضوں کی فراہمی میں 6.5فیصد اضافے کے ساتھ 381ارب30کروڑ روپے جاری ہوئے ، نجی شعبے کو 226ارب50کروڑر وپے کے قرضے جاری کیے گئے۔

اہم خبریں سے مزید