• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اومیکرون پر کووڈ ویکسین کی افادیت چالیس فی صد کم، بوسٹر شاٹ ضروری

کراچی (رفیق مانگٹ)جنوبی افریقا سے ابھرنے والی کرونا کی نئی قسم اومیکرون اب تک 14 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس کی علامات کے حوالے سے کوئی تفصیل نہیں دی اور تسلیم کیا کہ وائرس کے متعلق صورت حال غیر یقینی ہے،ابھی تک واضح نہیں کہ اس کے خلاف کونسی ویکسین موثر ہے۔

اس وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور یہ وبا ایک نیاخطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے کیونکہ اس کا پھیلاؤ دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہے ،اس لئے نظام صحت پر دباؤ آسکتا ہے، اور خاص کر ان ممالک میں جہا ں ویکسی نیشن کی شرح کم ہے۔

ابھی تک اومیکرون سے متاثرہ کسی شخص کے اسپتال میں داخل ہونے یا موت کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

جنوبی افریقی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وائرس کی اس قسم میں شدت کا عنصر کم ہے، اس کی علامات میں سر درد،تھکاوٹ ہیں،جس پر جرمن ماہر کا کہنا تھا کہ اگر یہ ہلکی علامات کا حامل ہے تو کرسمس کا تحفہ ہوسکتا ہے اوریہ وبا کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اومیکرون کووڈ ویکسین کو 40 فی صد کم موثر بنا سکتا ہے، اس لئے بوسٹر شاٹ ضروری ہے۔سائنس دان طویل عرصے سے خبردار کرتے آرہے ہیں کہ دنیا سے کرونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں ہے لیکن یہ ہلکے سردی والے وائرس میں تبدیل ہوجائے گا۔

ماہرین کورونا کی اس نئی قسم کے حوالے سے حتمی رائے دو ہفتے کے بعد قائم کرسکیں گے۔ کیونکہ سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اومیکرون کی تشویشناک تبدیلیاں اسے ڈیلٹا سے زیادہ متعدی بنا سکتی ہیں اور ویکسین کے خلاف کتنی مزاحم ہوگی۔ابھی تک اومیکرون کا شکار زیادہ تر کم عمر یا نوجوان ہیں۔

ویکسین سازکمپنیاں موڈرنااورفائزر پہلے سے اومیکرون قسم سے نمٹنے کے لئے کام کررہی ہیں۔ آئندہ برس کے نصف تک وہ اس کیلئے ویکسین تیار کرلیں گی۔ ماہرین اس نئی قسم کے حوالے سے اسلئے پریشان ہیںوہ سمجھتے ہیں کہ اب تک کی بدترین شکل ہے، وہ اس میں ہونے والی تبدیلیوں سے پریشان ہیں۔

اس نئی قسم میں ری انفیکشن کاخطرہ زیادہ ہے کیونکہ اس وائرس کے جنیاتی اسٹرکچر میں بہت زیادہ تبدیلیاں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قسم میں پچاس جنیاتی تبدیلیاں سامنے آئیں ہیں۔ اس وائرس میں موجود اسپائک پروٹین جسے ویکسین نشانہ بناتی ہے بہت مختلف نظر آتا ہے، اس میں32جنیاتی تبدیلیاں ہیں جو کہ ڈیلٹا سے دوگنی ہیں، اس لئے جسم کا مدافعتی نظام اسے پہچاننے اور اس سے لڑنے کے لئے جدو جہد کرسکتا ہے۔

اس میں ڈیلٹا وئیرینٹ میں پائے جانے والے تغیرات بھی شامل ہیںجواسے زیادہ آسانی سے پھیلنے دیتے ہیںجس کا مطلب ہے کہ یہ قسم زیادہ کو متاثر کرسکتی ہے لیکن اس کی شدت یا مہلک پن کم ہے، یعنی سانس کے وائرس زیادہ تر اسی طرح کا انداز اپناتے ہیں۔

یہ ایک مثبت پہلو بھی ہے کہ انتہائی تبدیل شدہ شکل کووڈ سے بچ جانے والوں یا ویکسینز کے مدافعتی نظام کے لئے مکمل طور پر ناقابل شناخت نہیں ہے۔

جن ممالک میں اومیکرون کے کیسز سامنے آچکے ہیں ان میں جنوبی افریقا، چیک ری پبلک، فرانس، آسٹریلیا ، اٹلی، جرمنی، برطانیہ، اسرائیل، ہانگ کانگ ، بوٹسوانا ، بیلجیم، سوئٹزر لینڈ ، کینیڈا،پرتگال،آئرلینڈ اور نیدرلینڈ شامل ہیں۔خدشہ ہے کہ پرتگال فٹ بالر میںبھی اومیکرون کی تشخیص ہوئی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ وائرس کی یہ قسم امریکا میں پہلے ہی پہنچ چکی ہے۔ کووڈ کی اومیکرون قسم کا پہلا کیس 23نومبرکوہانگ کانگ کی طرف سے انٹرنیشنل ویرئنٹ ڈیٹا بیسGISAIDمیں اپ لوڈ کیا گیا۔

یہ شخص جنوبی افریقا سے ہانگ کانگ آرہا تھا۔24نومبر کوا س قسم کو سائنسی یا تکنیکی نامB.1.1.529 دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید