• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طاہر محمود کی جانب سے’’مثبت رول ماڈل کا اثر‘‘پر ایونٹ

لوٹن (شہزاد علی) سماجی شخصیت ڈاکٹر طاہر محمود کی جانب سے " مثبت رول ماڈل کا اثر" کے موضوع پر چال اینڈ لین کمیونٹی سنٹر میں ایونٹ کا انعقاد ہوا۔ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل راجہ محمد اسلم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام برائیوں کی جڑ غربت ہے اور اس بات کو مد نظر رکھ کر لوٹن کونسل میں ملازمتوں کے وافر مواقع مہیا کیے جارہے ہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ہمارے نوجوان پُرتشدد جرائم کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں اور حالات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں، ہم مل کر پُرتشدد جرائم اور استحصال کا مقابلہ کرسکتے ہیں، میں اس حقیقت پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ تعلیم گھر سے شروع ہوتی ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ غربت برائی کی وجہ ہے، لہٰذا لوٹن بارو کونسل میں ہماری ایک ہی ترجیح ہے اور وہ ہے غربت کو کم کرنا، ہم واضح کرتے ہیں کہ غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تعلیم اور ہنرہیں، مرکزی حکومتی قرضوں میں کٹوتیوں کے باوجود ہم اپنے ہوائی اڈے اور ٹاؤن سینٹر کے ماسٹر پلان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور اپنے مقامی لوگوں کے لیے ہزاروں ملازمتیں پیدا کر رہے ہیں، تعلیم کے لیے پورٹ فولیو ہولڈر ہونے کے ناتے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ ہمارے مستقبل کے بچوں کے پاس نوکری کے لیے تعلیم اور ہنر ہوں اور انشاء اللہ مل کر ہم سب کے لیے ایک بہتر اور روشن مستقبل بنائیں گے، اس موقع پر کمیونٹی میں تشدد اور ایکسپلائٹیشن میں پازیٹو رول ماڈل کے ذریعے کیسے کمی واقع ہو سکتی ہے اس تھیم پر پروگرام میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق افراد نے خیالات کا اظہار کیا ۔معروف قانون دان عتیق ملک ایڈووکیٹ، مختلف سروسز کے سربراہان اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا، مختلف سروسز کے سربراہان نے والدین کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کم عمر بچوں کے ساتھ مل کر کام کریں جب کہ یہ بھی واضح کیا گیا کہ بچوں اور بالغوں کی مدد کے لیے بہت ساری سروسز موجود ہیں۔ان سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ نوجوانوں اور بالغوں میں مثبت رول ماڈلز ہماری کمیونٹی کو تبدیل کرنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں، والدین اپنے بچوں کی مدد کے لیے کیا کر سکتے ہیں، لوٹن میں رہنے اور اگے بڑھنے کے لیے ہمیں محفوظ بنانے کے لیے کام کرنے والے نوجوانوں اور سروسز کی مدد کے لیے کمیونٹی کیا کر سکتی ہے، ان مختلف سوالات پر سوچ بچار کی بھی دعوت دی گئی۔ تقریب کے آرگنائزر ڈاکٹر طاہر محمود نے تمام مہمانوں سے شرکت اور مباحثہ میں حصہ لینے پر تشکر کا اظہار کیا۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے رول ماڈلز نے شرکت کی۔ لوٹن کے میئر کونسلر محمود حسین نے کہا کہ لوٹن میں اچھے اسکول اور معیاری تعلیمی ادارے موجود ہیں ان کی تعلیمی سہولیات سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ شرکاء میں ڈپٹی لیفٹیننٹ بیڈفورڈ شائر ڈاکٹر جوئن ڈیبرا بیلی ایم بی ای ، ایگزیکٹو ممبر کونسلر جاوید حسین ،کرائم ایکسپلائٹیشن کی سربراہ کمبرلی لیمب، ہیڈ آف یوتھ افنڈنگ سروسز ڈیوڈ کولنز، پولیس افسران اور کمیونٹی سروسز سے متعلق متعدد شخصیات شامل تھیں۔ تقریب کے بعد ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل راجہ محمد اسلم خان نے جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے اس ایونٹ کو عمدہ کاوش قرار دیا۔ 
یورپ سے سے مزید