• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن کا فیصلہ ہے ای وی ایم پر الیکشن کسی قیمت نہیں، رانا ثناء


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہےکہ اپوزیشن کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ ای وی ایم پر الیکشن کسی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے

ماہر ٹیکس امور شبر زیدی نے کہا کہ رواں مالی سال میں براہ راست ٹیکسوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے،ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ حکومت نے معیشت سے متعلق پالیسی فیصلے تاخیر سے لیے ہیں

ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دس سے بارہ ارب ڈالرز ہوسکتا ہے۔

ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ احتجاج کے دو ماڈل ہیں ایک وہ احتجاج جو اپوزیشن کررہی ہے دوسرا ٹی ایل پی ماڈل ہے، اپوزیشن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج ریکارڈ کروارہی ہے، حکومت نے ای وی ایم پر الیکشن کروانے کی کوشش کی تو ٹی ایل پی ماڈل بھی اپنایا جاسکتا ہے

الیکشن میں ہر پولنگ اسٹیشن پر وہ کچھ ہوگا جس کا حکومت کوا ندازہ نہیں ہے، ای وی ایم استعمال ہوئی تو 2023ء کا الیکشن ہونے سے پہلے متنازع ہوجائے گا۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ای وی ایم سمیت دیگر قانون سازی پر اتحادی حکومت کے ساتھ نہیں تھے، اتحادی کہہ رہے تھے کہ ہمیں ”اُدھر“ سے فون نہ آیا تو ہمارا پارلیمنٹ اجلاس میں جانے کا ارادہ نہیں ہے

تحریک انصاف کے 23ارکان بھی اجلاس میں نہیں جانا چاہتے تھے، پارلیمنٹ کے ارکان کو فون کر کے کہا گیا کہ عزت سے آنا چاہتے ہو تو گاڑی بھیج دیتے ہیں اگر عزت سے نہیں آنا چاہتے تو دوسرے لوگوں کو بھیجتے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہمارے جمہوری احتجاج کو اس طرح ناکام کیا جائے گا تو پھر ٹی ایل پی ماڈل ہی رہ جاتا ہے، اس ماڈل کیلئے زیادہ لوگوں کی ضرورت نہیں پندرہ سو دو ہزار لوگ کافی ہوں گے، جیسی مداخلت پارلیمنٹ میں ہوئی اگر سینیٹ میں ہونے کا خدشہ نہ ہو تو صبح ہی سینیٹ میں عدم اعتماد لے آئیں، اسی طرح قومی و پنجاب اسمبلی میں بھی تحریک عدم اعتماد لے آئیں گے، اپوزیشن کا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ ای وی ایم پر الیکشن کسی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے۔

ماہر ٹیکس امور شبر زیدی نے کہا کہ رواں مالی سال میں براہ راست ٹیکسوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے، اگر انکم بیسڈ ٹیکسوں میں 37 فیصداضافہ ہوا ہے تو بہت ہی بڑا کام ہے، درآمدات بڑھنے اور روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہونے کی وجہ سے ٹیکس ریونیو بڑھا ہے، درآمدات کم ہوتی ہیں تو ریونیو بھی کم ہوجائے گی

درآمدات میں تین چار ارب ڈالر سے زیادہ کمی نہیں آئے گی۔ شبر زیدی کا کہنا تھا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ڈاکومنٹڈ سیکٹر میں بدلنے کیلئے ویلیو ایشن بڑھانا پڑے گی، ریئل اسٹیٹ کسٹمر کی منی ٹریل دیکھنا بھی بہت اہم ہوگا کہ وہ پیسہ وائٹ ہے یا نہیں ہے

پاکستان میں ریئل اسٹیٹ ایسے پیسے کی پارکنگ لاٹ ہے جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ہو۔ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ حکومت نے معیشت سے متعلق پالیسی فیصلے تاخیر سے لیے ہیں، وزارت خزانہ نے امپورٹ کے نمبرز بڑھنے کے باوجود ابھی تک امپورٹڈ ڈیوٹی اور لگژری آئٹمز پر ٹیکس نہیں بڑھایا ہے

امپورٹس پر ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹی نہیں لگائی گئی تو سینٹرل بینک کے پاس کوئی چارہ نہیں رہے گا، شرح سود میں اضافہ ہونا ہے سوا ل یہ ہے کہ ایک فیصدبڑھے گا یا تین فیصد بڑھے گا، صنعتی شعبہ میں سلو ڈاؤن ہوگا جس کا اثر کافی حد تک سروسز سیکٹر پر بھی بڑھے گا

زرعی شعبہ میں بہتری ہے لیکن وہاں بھی کہیں اچھا تو کہیں برا ہے۔ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دس سے بارہ ارب ڈالرز ہوسکتا ہے، تیل کی قیمتیں کم ہونے سے پاکستان پر کافی اثر آتا ہے

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں 5ڈالر کی کمی آجائے تو امپورٹ بل پر ایک ارب ڈالر کا فرق پڑتا ہے، ایکسپورٹ میں والیوم بڑھانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، شرح سود بڑھائی گئی تو اس کا مقصد شاید مجموعی طور پر مہنگائی کو روکنا ہو۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نومبر کے مہینے کے ٹیکس محصولات، برآمدات اور مہنگائی کے اہم اعداد و شمار جاری کردیئے گئے ہیں، مہنگائی کے حوالے سے خدشات نہ صرف درست ثابت ہورہے ہیں بلکہ توقعات سے زیادہ مہنگائی کے اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید