• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے یوٹیلٹی اسٹورز کو ختم کرنے کی تجویز دیدی

اسلام آباد(نمائندہ جنگ) پبلک اکائونٹس کمیٹی نے یوٹیلٹی سٹورز میں کرپشن کےمعاملات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو مکمل طور ختم کرنے کی تجویز دے دی جبکہ ایف آئی اے سے یوٹیلیٹی اسٹورز میں کرپشن کی تحقیقات کی رپورٹ 10دنوں میں طلب کر لی ،ایف آئی اے نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فرنیچر پاکستان کمپنی اسکینڈل میں ملوث ملزمان کو ایک ہفتہ میں گرفتار کر لیا جائے گا ۔

بدھ کو کمیٹی کا اجلاس رانا تنویرحسین کی زیر صدارت ہوا جس میں بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر غیرمعیاری اشیا فروخت نہ کرنے کی رپورٹ دے کر گھٹیا اشیا فروخت کی گئیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز نے ارکان پارلیمنٹ اور عوام کو بیوقوف بنا رکھا ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر دنیا کا سب سے غیرمعیاری گھی فروخت ہو رہا ہے.

یوٹیلیٹی اسٹورز اشیا کی خریدوفروخت میں اربوں روپے کی کرپشن کر رہی ہے، کورونا فنڈز میں یوٹیلیٹی اسٹورز کو 50ارب میں 10ارب جاری کیے گئے، سیکرٹری وزارت خزانہ ایسا نااہل آدمی ہے اس کو کچھ معلوم ہی نہیں،خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کی ناکامی کی وجہ بیوروکریسی ہے.

بیوروکریسی نے ملک کا بیڑا غرق کیا،کمیٹی رکن نورعالم نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر دستیاب اشیائےخوردونوش پکانے سے بھی نہیں پکتی، اس ملک میں سول، ملٹری اور ججز کا کوئی احتساب نہیں ہے .

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے بارہ سو ارب روپے کافنڈجاری ہوا، اس کی تقسیم بہت عجیب طریقے سے ہوئی ، سب نے اپنااپناحصہ نکالا، سیکرٹری خزانہ نااہل ہیں ، انہیں کچھ پتہ نہیں ،10 ارب روپے یوٹیلیٹی اسٹورز کو اور 70 ارب روپے ایف بی آر کو دیدیئے گئے، چیئرمین کمیٹی نے وزارت صنعت و پیداوار حکام سے پوچھا کہ فرنیچر پاکستان کمپنی کا اب کیا بنا؟۔

اہم خبریں سے مزید