• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے ڈی سی آر، اسلام آباد کو نوٹس جاری، قید/جرمانے کی سزا کا امکان

اسلام آباد (قاسم عباسی) اے ڈی سی آر ، اسلام آباد کو عدالت کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا ہے ، جس کے بعد انہیں قید/جرمانے کی سزادیئے جانے کا امکان ہے۔ عدالت نے عبدالخالق بنام اقبال بیگم کیس میں اے ڈی سی آر کو ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی، جس پر عمل درآمد نہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق، اسلام آباد انتظامیہ کے ایک عہدیدار کو عدالت میں جعلی شواہد پیش کرنے اور معلومات روکنے پر توہین عدالت کے سبب سنگین سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔ سول عدالت کے ایک سینئر جج نے اے ڈی سی آر اسلام آباد کو ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 175 کے تحت ان کا جرم قابل سزا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وضاحت کریں کیوں نہ ان کے خلاف سیکشن 195(آئی) (اے) کے تحت فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں؟ 22نومبر، 2021کو اسلام آباد کے سینئر سول جج ہمایوں دلاور نے اے ڈی سی آر اسلام آباد کو نوٹس جاری کیا تھا جو کہ عبدالخالق بنام اقبال بیگم کے کیس کے حوالے سے تھا۔ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ آپ کو 30اکتوبر، 2021کو ہدایت کی گئی تھی کہ ریکارڈ فراہم کریں (یہ حکم نامہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، شرقی، اسلام آباد کا 2دسمبر، 2020کا تھا جو کہ آر ایل۔2 میں دکھایا گیا ہے)۔ اس میں آپ کا اعتراض مسترد کیا گیا تھا جو کہ چیف مصالحتی کمشنر کی مرضی کے بغیر مذکورہ ریکارڈ کی فراہمی میں رکاوٹ سے متعلق تھا، اور یہ کہ تاریخ 20 نومبر، 2021تک ملتوی کی گئی اور اس تاریخ کو اے ڈی سی آر ، اسلام آباد کا کلرک لجیٹیشن امجد حسین عدالت میں پیش ہوا اور کیس ملتوی کرنے کی درخواست کی اور 22نومبر، 2021کو بھی پیش نہیں ہوئے۔ اس طرح آپ نے جان بوجھ کر دستاویزات/ریکارڈ فراہم نہیں کیے جو کہ قانونی طور پر آپ پیش کرنے کے پابند تھے ، آپ کا یہ اقدام تعزیرات پاکستان دفعہ 175کے تحت قابل سزا جرم ہے۔ اور اب آپ کو وضاحت کی جاتی ہے کہ وضاحت کریں کیوں نہ آپ کے خلاف دفعہ 195(آئی) (اے) کے تحت فوجداری مقدمات قائم کیے جائیں۔ آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ 25نومبر، 2021کو اپنی وضاحت جاری کریں۔تعزیرات پاکستان دفعہ 175کے تحت کوئی بھی عہدیدار جو قانونی طور پر کسی بھی سرکاری ملازم کو کوئی بھی دستاویز فراہم کرنے کا پابند ہو اور وہ جان بوجھ کر ایسا نہ کرے تو اسے ایک ماہ تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ تاہم، اسے دفعہ 175کے تحت جاری وارنٹ کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

اہم خبریں سے مزید