• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو زمین پر پلاٹ کی مختلف اقسام اور زندگی کی تغیرات سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ بنیادی طورپر مختلف انواع اور جینیائی طور پر ماحولیاتی سطح پر تغیر کا ایک پیمانہ ہے۔ یہ عموماً خطہ استواء کے قریب ہوتا ہے جو کہ عموماً گرم آب وہوا اور اعلیٰ بنیادی پیداوار کا پیش خیمہ ہے۔ حیاتیاتی تنوع کی سطح کرئہ ارض پر یکساں نہیں ہوتی ہے۔ یہ عموماً Tropic علاقوں میں وافر مقدار میں جبکہ جنگلات میں تقریباً 10فی صد ہوتی ہے اور یہی جنگلات تقریباً 90 فی صد انواع کا مسکن ہوتے ہیں۔ 

اس کے برعکس سمندری حیاتیاتی تنوع کا تناسب مغربی بحرالکاہل کے ساحلوں پر زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سمندر کا درجۂ حرارت نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا تناسب آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے مستقبل قریب میں جنگلات کی مسلسل کمی/ کٹائی کے باعث اس میں خاطرخواہ کمی متوقع کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں ارتقائی اور ماحولیاتی دونوں عوامل بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ ہی عوامل زندگی کو متوازن رکھنے میں بہت کارگر ثابت ہوتے ہیں۔ 

دنیا میں تیزی سے برپا ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں زمین پر رہنے والی کئی نادر و نایاب انواع کے مکمل ناپید ہونے کا موجب بن رہی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 99 فی صد اقسام میں سے تقریباً 5ارب کے لگ بھگ اقسام اب مکمل طور پر غائب ہوچکی ہیں۔ دنیا میں پائی جانے والی انواع کی تعداد تقریباً 14ملین کے قریب ہے، جس میں سے 1.2ملین کی شناخت اور دریافت مکمل ہوچکی ہے تاہم اب بھی 80فی صد تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ اگر موجودہ صورت اس طرح ہی برقرار رہے تو کئی انمول انواع اپنی شناخت اور دریافت کے بغیر ہی معدوم ہوجائے گی اور ایک نامکمل ارتقائی عمل کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو کہ کسی بھی نوع تک مکمل رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگا۔ 

تحقیق کے مطابق DNA کی بنیادپر جوڑوں کی مکمل مقدار کا تخمینہ 5.0x1037 اور وزن تقریباً 50ارب ٹن ہے، جس کے نتیجے میں ہماری Biospere کا وزن 4کھرب ٹن کے برابر ہے۔ جولائی 2016ء کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق زمین پر رہنے والے تمام جانداروں کے آخری یونیورس کامن انسیٹر (LUCA) سے تقریباً 355جینن (Genes) کا مطالعہ کیا گیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ زمین کی عمر 4.544ارب سال ہے اور اس پر زندگی کے ابتدائی غیر متنازع شواہد کم ازکم 35بلین سال پہلے کے معلوم ہوتے ہیں۔ 

اس کے ٹھوس شواہد Erchean Eon کے دوران ایک ارضیاتی پرت کے بعد ملنا شروع ہوئے تھے۔ ابھی حالیہ رپورٹ جو کہ 2015ء میں شائع ہوئی تھی، اس کے مطابق زندگی کی باقیات مغربی آسٹریلیا میں 4.1ارب سال پرانے پتھروں میں پائی گئیں۔ ایک تاریخی تحقیق کے مطابق اگر زندگی نسبتاً جلد پیدا ہوجاتی تو یہ کائنات میں بہت جلد عام ہوسکتی تھی۔ زمین پر زندگی کی ابتداء کے ساتھ ہی پانچ بڑے پیمانے معدوم ہونے اور کئی معمولی واقعات کی نمودار ہونے کی وجہ سے حیاتیاتی تنوع میں بڑی اور اچانک کمی ہوتی ہے۔

Phenerizoic گزشتہ 540ملین سال پہلے کمبرین ٹائم پیریڈ نے حیاتیاتی ارتقاء میں خاطرخواہ پیش رفت ہوئی اور کئی انواع میں تیزی سے اضافہ ہوا خاص کر ملٹی سیلولر جانداروں کی اکثریت نمودار ہوئی، تاہم پھر اگلے 400ملین سالوں میں یک دم حیاتیاتی تنوع کے ارتقاء معدوم ہوتے چلے گے، جس کی بنیادی وجہ یونیفرس میں بارش اور جنگل کے گرنے سے پودوں اور جانوروں کی زندگی کا بڑا نقصان تھا۔ 

اس کے بعد بڑا ٹاسک معدومیت کا واقعہ نمودار ہوا اور Vertebrate کو اس بازیابی میں تقریباً 30ملین سال کا عرصہ لگ گیا۔ اس کے بعد Cretaceous Paleogen کا واقعہ نمودار ہوا جو کہ زیادہ توجہ طلب رہا۔ اس کے نتیجے میں ڈائناسور جیسی دیوئی مخلوق کے آثار دنیا سے ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے۔ اقوام متحدہ نے 2011ء سے2020ء کی دہائی کو حیاتیاتی تنوع اور 2021ء سے 2030ء کی دہائی کو ایکوسٹم دہائی کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ 2019ء کی عالمی رپورٹ کے مطابق حیاتیاتی تنوع اور ایکوسٹم میں تقریباً 25فی صدخطرے سے دوچار ہیں اور کئی نادرو نایاب اقسام تو بالکل معدوم ہوچکی ہیں۔ 

ان انواع کی معدومیت کی اہم وجہ انسانی طاقت کی قدرتی نظام میں مداخلت ہے۔ اس کی تصدیق 2020ء میں (IPBES) کی رپورٹ میں حیاتیاتی تنوع کے ارتقاء اور ایکوسٹم کی تنزلی کی اہم اور بنیادی وجہ ہی انسانی بے جا مداخلت ہے، جس کی وجہ سے ان دونوں نظاموں میں خاطرخواہ خلل کے ساتھ ساتھ ایک نہ ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ ان نظاموں میں خرابیوں کے باعث ایسا کوئی بھی ہدف پایہ تکمیل تک پہنچنا اب ممکن نہیں رہا ہے جو کہ ماحولیاتی نظام کی حفاظت اور پائیداری کے فروغ کو ممکن بنا سکے۔

جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ حیاتیاتی تنوع کی شبنم ہر جگہ یکساں نہیں ہوتی ہے۔ یہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ مختلف خطوں میں بھی بہت مختلف ہوتی ہے۔ دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ جانداروں کا تنوع، درجہ ٔحرارت، بارش، ڈھلوان سطح، مٹی، جغرافیہ اور دیگر کئی انواع کی موجودگی پر منحصر ہوتا ہے۔ عموماً حیاتیاتی تنوع کا تناسب پُرمیں بہت زیادہ جب کہ کیپ فلورسیٹک ریجن اور کم قطبی علاقوں میں بہت کم ہوتا ہے۔ زمینی حیاتیاتی تنوع سمندری حیاتیاتی تنوع سے 25فی صد زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگلات کسی بھی خطے کی حیاتیاتی تنوع کی بقاء کا ضامن اور تقریباً 40 سے 70 فی صد حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے کا ذریعہ ہیں ۔

تحقیقی نتائج سے یہ بات عیاں ہے کہ کرئہ ارض پر انواع کی تعداد 8.7ملین ہے، جس میں سے 2.1ملین کی موجودگی کے شواہد سمندروں میں ملتے ہیں۔ ان انواع میں   Tropic کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہے۔ جنگلات 80فی صد مائیکرو آرگنزم کا مسکن ہیں جب کہ 75 فی صد پرندے اور 68فی صد ممالیہ جنگلات کے مستقل مکین ہیں۔ مزید یہ کہ تقریباً 60 فی صد ویسکولر پودے Amphibian جنگلات میں پائے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ ٹروپیکل مچھلیوں اور مختلف فش کی متعدد اقسام کی اہم افزائش گاہیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مینگرووز کو پکڑنے کے لیے بھی بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں۔

جو کہ عام حالات میں سمندری لابسٹروں اور مرجان کی چٹانوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ گرم علاقہ جات میں جنگلات متعدد انواع کے لیے موثر مکین کا کردار ادا نہیں کرسکتا، جب کہ دنیا کے کئی علاقے جن میں افریقا، جنوبی امریکا، Sediments جنوب مغربی ایشیا، مونٹین جنگلات ، آسٹریلیا، برازیل، افریقا، کیربین جزائر اور وسطی امریکا کے جنگلات شامل ہیں۔ یہ حیاتیا تی تنوع کی بقاء اور ارتقاء میں ایک کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جب کہ یہ شرح آبادی والے علاقے اور زرعی زمین کے متواتر استعمال سے خاص کر یورپ، بنگلا دیش، چین، پاکستان، بھارت اور شمالی امریکا میں نسبتاً کم ہے۔

بائیوڈائیورسٹی ہاٹ اسپاٹ مڈغا سکر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں حیاتیاتی تنوع ہاٹ اسپاٹ کی جو انواع معدوم ہوچکی ہیں، اس کے مطابق معلومات کو اکٹھا کیا جاسکے۔ ہاٹ اسپاٹ کی اصطلاح 1988ء میں نارمن مائرس نے متعارف کروائی تھی۔ یہ ہاٹ اسپاٹ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کثرت سے جنگلات ہیں اور Tropic علاقہ جات شامل ہیں۔ ان میں پودوں کی تقریباً 20000انواع جب کہ Endemic Species کی 1350اور کئی ملین تعداد میں حشرات شامل ہیں جن میں کچھ تو ایسی بھی ہیں جن کی شناخت اب تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ 

کرئہ ارض پر حیاتیاتی تنوع کی زیادہ سے زیادہ شرح کولمبیا میں پائی جاتی ہے۔ بشمول پرندوں کی تقریباً 1900، ممالیہ کی شرح 10فی صد Vertebrateکی تعداد 14فی صد اور پرندوں کی تعداد 18فی صد تک رپورٹ کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مڈغاسکر کا جزیرہ تقریباً 66ملین سال پہلے سرزمین افریقا سے جدا ہوا تھا اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس پر کئی نادر ونایاب انواع نے آزادانہ طور پر اپنے ارتقاء کو فروغ دیا۔ انڈونیشیا کے جزیرے پر دنیا کے 10فی صد پھول دار اور 12فی صد ممالیہ اور 17فی صد Amphibian اور پرندےپائے جاتے ہیں جب کہ وہاں انسانی آبادی کا تناسب 240ملین ہے۔

زرعی تنوع کو دو اہم اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ انٹر Reptilesتنوع (جس میں ایک ہی نوع میں تغیرات پائی جائیں ۔مثلاً آلوسوڈنم ٹیولرورم) جو کہ کئی اشکال اور اقسام پر مشتمل ہے جب کہ دوسری قسم میں کئی اہم اور مختلف Amphibian پائی جاتی ہیں، جس کی بنیاد پر وہ مکمل طور پر نئی اور مختلف اقسام کو وجود میں لاتی ہیں۔ 

ماحولیاتی نظام کی اس پرکشش تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے قدرتی جینیاتی مقامات بشمول نادر و نایاب نباتات، حیوانیات، حشرات کا تحفظ اور محفوظ علاقوں اور دیگر حیاتیاتی تنوع پر ہنگامی ہاٹ اسپاٹ بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ کرئہ ارض پر نباتات اور حیوانیات کی کئی نادر و نایاب اقسام اب مکمل طور پر معدومیت کا شکار ہوچکی ہیں۔

نباتات میںآرکڈ ایک عجب و غریب پودا جو تمام زندگی زیرزمین گزارتا ہے۔ اس کو آسٹریلیا میں 1928ء میں دریافت کیا گیا۔ جینیاتی تغیر جس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ گوشت خوری کا عادی ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے حشرات ،کیڑے مکوڑوں کو پکڑ کر اپنی خوراک کا حصہ بناتا ہے۔ جیلی فش  Heritage مشرقی افریقا میں پایا جاتا ہے۔ یہ دوسرے درختوں پر لگتا ہے جب کہ ایک اور دلکش پھول جس کو لاش کا پھول یا Pitcher Plant کہا جاتا ہے، اس کی خوشبو لوگوں کو بہت متاثر کرتی ہے۔ یہ انڈونیشیا کے دو چھوٹے علاقوں میں قدرتی طور پر اُگتا ہے۔ 

اس کے کھلنے میں ایک دہائی درکار ہے، ان کو دیکھنے کے بعد یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ پودے اتنے نایاب کیوں ہیں۔ Corpse flower ووڈ کاسائیکڈ ایک نایاب ترین پودا ہے۔ یہ اب مکمل طور پر ناپید ہوچکا ہے۔ یہ جنوبی افریقا میں پایا جاتا تھا۔ ووڈ سائیکڈ کا درخت کھجور کے درخت کی طرح لگتا ہے۔ اس کاٹرنک چوڑا اور مضبوط ہوتا ہے جو کہ 20فیٹ بڑھ سکتا ہے۔ اگرچہ اس پودے میں نر اور مادہ دونوں قسمیں ہیں لیکن اب تک مادہ دریافت نہیں کی جاسکی ہے۔ ماہرین نباتیات اس کے کلون پر تحقیقی کام میں مصروف ہیں، تاکہ ان کی پولینیشن بنائی جاسکے۔ پاکستان میں کئی اہم اور نایاب جانور بھی خطرے سے خالی نہیں ہیں۔ 

ان تمام جانوروں کو Wood Cycad گروپ میں رکھا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مکمل طور پر معدوم نہ ہوجائیں۔ ان میں خاص کر مارخور جو کہ ہمارا قومی جانور ہے۔ مائونٹین ویزل یہ وہ مخلوق ہیں جو عموماً اونچی جگہوں پر رہتے ہیں۔ وادی کشمیر ان کا پسندیدہ مسکن ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی کارا ریچھ فارسیٹ pairing ہائوس، بلیک فن Endangered پودا پوائز فصیلے وول اور دریائے سندھ کی اندھی ڈولفن قابل ذکر ہیں جو کہ اب بالکل معدومیت کے قریب تر ہیں۔ (IUCN) کی رپورٹ کے مطابق حشرات کی تعداد 343انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، جس کی معدوم ہونے کی بڑی وجہ انسانی مداخلت اور ان کی نسل کشی کی بڑھتی ہوئی شرح ہے، جس کی وجہ سے ارتقائی خلل پیدا ہونے کا خطرہ ہے اور اگر کرئہ ارض پر تمام حشرات ختم ہوجاتے ہیں تو ایکوسٹم میں ایک خطرناک ترین خلاء برپا ہوجائے گی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ تہذیب اور ماحولیاتی نظام شدید پریشانی کا شکار ہوجائے گا۔ 

نائٹروجن سے بھرپور فاضل مادّہ ممکنہ طور پر تغیرات برپا کرے گا، پودوں کی زندگی گھٹ جائے گی۔ دنیا میں مواد کا اخراج برقرار رہے گا وہ بروقت ختم نہیں ہوپائے گا۔ پودوں میں نئی نشوونما رک جائے گی اور ایکوسٹم متاثر ہوکر نارمل کام نہیں کرسکے گا۔

حشرات کی ایک اہم نوع Schizodactylus جو کہ دنیا میں اب تقریباً معدوم ہوچکی ہیں۔ ان کی کچھ ہی اقسام خوش قسمتی سے انڈیا، پاکستان، برما، ترکی اور تھائی لینڈ میں پائی جاتی ہیں اور ان کی بقاء کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کنزرویشن کی ضرورت ہے۔ کسی بھی خطے کی حیاتیاتی تنوع کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ درج ذیل نکات کو اپنایا جائے اور اس کے فروغ کے لیےحکومتی سطح پر موثر اقدامات کئے جائیں۔ مثلاً

1)مینگروز، مرجانوں اور جھیلوں کا باقاعدہ مطالعہ۔

(2)معدوم نباتیات اور حیوانیات کا مکمل ریکارڈ۔

(3)مقامی سطح پر عوامی معلومات پر مشتمل ایک تحقیقی حیاتیاتی تنوع رجسٹر کا اندراج ممکن بنایا جائے، تاکہ وہاں مقامی طور پر موجود تمام جانداروں خصوصاً نایاب اقسام کی معلومات روایتی انداز میں دستیاب ہوں۔

(4)جینیاتی تنوع اور متعلقہ روایتی علم کی دستاویزات تک عوام الناس کی رسائی ہو۔

(5)غیر بایو ڈیگرلڈیل فضلے کی مینجمنٹ کا موثر انتظام کیا جائےجو کہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث نہ بنے۔

(6)اس کے ساتھ ساتھ ملک میں قانون کا نافذ ممکن بنایا جائے جن میں وائلڈ لائف کنزرویشن ایکٹ کے تحت پروٹکلٹیڈ ایریا سسٹم کا موثر نقاذ کیا جائے۔

(7)نیشنل بائیوڈائیورسٹی کنزرویشن ایکٹ 2001ء کا موثر نفاذ۔

(8)تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے آگاہی پروگرام کیا جائے۔

حیاتیاتی بقا کسی بھی انسان اور معاشرتی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ عموماً خوراک، غذائیت، توانائی، تفریحی سرگرمیاں اور کئی دوسرے نامعلوم عوامل کو موثر طریقے سے ایکوسٹم میں نصب کرنے کا ضامن ہے لیکن بدقسمتی سے اگر اس کی بقاء کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سمجھا گیا اور مقامی، ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کی باقاعدہ کنزرویشن کے لیے ایک جامع پلان مرتب نہیں کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنی ہی ارتقائی مراحل کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ 

حیوانیات، نباتیات اور اس زندگی کے تسلسل میں وہ خلاء پیدا ہوگی جو کسی بھی متوازن نظام کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوگی۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستانی حیاتیاتی تنوع کی دولت سے مالا مال ہے خاص کر بنجر (صحرائی علاقے) اور نیم خشک علاقوں جو کہ اب بدقسمتی سے تقریباً 80فی صد میں زیادہ سے زیادہ استحصال اور قدرتی مسکن کے نقصان کی وجہ سے جانوروں اور پودوں کی کئی اقسام کو شدید ترین بقائی خطرات لاحق ہیں جو اپنی بقاء کے لیے فوری اور ہنگامی امداد کی منتظر ہیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ملک میں بھی کئی نادر و نایاب اقسام بغیر شناخت اور دریافت کے ہی معدوم ہوچکی ہوں گی۔ 

ورلڈ بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک ماحولیاتی سہولت فنڈ ٹرسٹ (GEF) کا معاہدہ طے پایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاہدے کی رو سے حیاتیاتی تنوع کی بقاء کو ملکی سطح پر کتنا فروغ ملے گا۔ اس معاہدے کے بنیادی نکات میں قومی پارک کے قیام کی منصوبہ بندی، خطرے سے دوچار انواع کا تحفظ، معدوم شدہ انواع کو دوبارہ کلون کروانے کے طریقہ کار اور انمول اقسام کے شکار سے نسل کشی پر مکمل پابندی نافذ کرنا شامل ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید