• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر:…رفیعہ ملاح

دنیا میں بہت رنگ ہیں اس کرہ ارض پر بہت سارے ممالک اپنی انفرادیت کے لحاظ سے اپنی شناخت رکھتے ہیں اور یہ شناخت ان کو ان کی ثقافت اور تہذیب نے فراہم کی ہے ۔ ثقافت اور تہذیب کسی ملک ، قوم کا وہ چہرہ ہے جو مختصر وقت میں مکمل تعارف کرواتا ہے ۔ ثقافت عربی لفظ ہے جس سے مراد کسی قوم یا طبقے کی تہذیب ہے ثقافت اکتسابی یا ارادی وشعور ی طرز عمل کا نام ہے۔ اکتسابی عمل میں ہماری وہ تمام عادات، افعال، خیالات، رسوم اور اقدار شامل ہیں جن کو ہم ایک منظم معاشرے یا خاندان کے رکن کی حیثیت سے عزیز رکھتے ہین یا ان پر عمل کرتے ہیں یا ان پر عمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جبکہ تہذیب وہ عمل ہے جو صدیوں کا سفر آہستہ آہستہ طے کرتی ہوئی اقوام، افراد اور اداروں میں شامل ہوتی جاتی ہیں اور اس کی تشکیل کے عمل میں ہر نسل شامل ہوتی ہے۔ آج سندھ کی ثقافت کا دن ہے ، سندھ کی تہذیب و ثقافت عملی طور پر دنیا کی قدیم ترین تہذیب و ثقافت ہے اس تہذیب کی باز گشت کہیں موئن جو داڑو کے آثار میں ہے تو کہیں دیبل کی بندرگاہ میں ، سندھ کی تہذیب و ثقافت اس وقت بھی رکھ رکھاو سلیقے اور انسانیت سے سجی تھی جب یورپ میں تاریک دور تھا۔ سندھ کی ثقافت میں روحانیت ، انسان دوستی، وسعت ، زمین سے محبت اور فنون لطیفہ سے لگا و نمایاں رہا ہے۔ موئن جو داڑو کے کھنڈرات ایک تہذیب یافتہ شہر کا نقشہ پیش کرتے ہیں اور اس سے ملنے والی اشیاءسندھ کا فخرہیں کہ ہماری ثقافت و تہذیب اس وقت بھی آراستہ تھی جب اہل مغرب کلچر کے نام سے نا آشنا تھے ، سندھ کی ثقافت و تہذیب میں بنیادی عنصر روحا نیت، صوفی ازم رہا ہے ، سندھ صوفیا کی سر زمین ہے جنہوں نے اس کی ثقافت میں محبت ، رواداری ، کشادگی، سر مستی، کے رنگ بھر دیئے ہیں ۔ شاہ لطیف ، سچل سرمست ، لعل شہباز قلندر تو معروف نام ہیں اگر سندھ کی وسعتوں میں گھوم کر دیکھا جائے تو ہر قریے میں صوفی ازم کے اثرات نظر آئیں گے جو یہاں کے باشندوں کا مزاج بن کر یہاں کی ثقافت کی بنیاد بنے اور جس نے تہذہب کو انسانیت ، اخلاقیات اور محبت سے بھر دیا اور کہا۔ان کا جو کام ہے وہ اہل سیا ست جانیںمیرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچےدریاءسندھ ،سندھ کی تہذیب کا استعارہ ہے وہ سب کے لئے بہتا ہے سب کو سیراب کرتا ہے اس طرح ہم سب کو بھی چاہے سندھ میں کوئی بھی زبان بولیں ایک محبت کے رشتے میں بندھے ر ہیں ، یہ ہی ہماری تہذیب و ثقافت ہے سندھ کی امیر اور قدیم ثقافت اپنا ایک کردار رکھتی ہے پوری دنیا میں اجرک سندھ کی تہذیب کا جھومر ہے یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی زیب تن کرے تو سمجھنے والے سمجھ لیتے ہیں کہ یہ سر زمین سندھ کا باشندہ ہے ۔ گورکھ ہل کی بلندیوں سے مکلی کے قبرستان تک حیدر آباد کی ریشم گلی سے پلہ مچھلی تک ان گنت مندروں، مساجد اور در گاہوں میں سندھ کی ثقافت و تہذیب کی تاریخ بولتی ہے ، ہمیں اس پر فخر ہے اور ہمار ا فرض ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت کے روشن چراغ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں ہم انہیں بتائیں کہ یہ ماضی کے نشان ہمارے مستقبل کا فخر ہیں ۔ تہذیب و ثقافت کا یہ حسن، ماروی کی اپنی زمین سے محبت،شاہ لطیف کی روحانیت، لعل شہباز قلندر کا جذب و کیف ، سچل سرمست کی سرمستی ہمیں اپنی آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے یہ یوم ثقافت اس لئے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی پہچان اپنی شناخت اپنی انفرادیت پر فخر کریں اور دوسری تہذیبوں اور ثقافت کا احترام کریں ، محبت اور رواداری کو فروغ دیں انسانیت کو مذہب بنائیں کہ یہ ہی تہذیب و ثقافت کی اساس اور زندگی کا حسن ہےBARUCH SPINOZAکا قول ہے کہIf you want the present to be different from the past, study the

past یعنی وہ کہتا ہے کہ اگر آپ اپنے حال کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے ماضی کا مطالعہ کریں اور اس سے سیکھیںلیکن میں کہتی ہوں کہ مشرقی ثقافت کی بات ہو یا برصغیر یا سندھ کی ثقافت کی ، ہمارا ما ضی شاندار اور لاجواب رہا ہے اور اگر ہم اپنے ماضی کا درست مطالعہ کریں تو ہمارا آج اور مستقبل شاندار ہوگا کیونکہ ہم نے اپنی ثقافت کو فراموش کر دیا ہے ، آیئے ہم عہد کریں کہ آج کے دن کے حوالے سے اپنی تہذیب و ثقافت سے دنیا کر روشناس کرائیں گے اور اپنی بیش بہا تہذیب کر زندہ رکھیں گے تو۔

قدم سے خود ہی کھلیں گی راہیںافق سے خود سلسلہ ملے گا

ہم اپنے سارے چراغ لیکر چلیں گے تو پھر راستہ ملے گا

ملک بھر سے سے مزید