• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈیٹ لائن لندن،آصف ڈار
لندن کے جس علاقے میں، میں رہتا ہوں وہاں پر سری لنکن باشندوں کی آبادی اب بڑھتی جا رہی ہے،گروسری کی وہ دکانیں جو کبھی پاکستانیوں کے پاس ہوتی تھیں، اب 90فیصد کے قریب سری لنکنز کے پاس جاچکی ہیں، گھر کے سارے افراد دکانوں اور ریسٹورانوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہیں، پاکستانیوں کے ساتھ ان کا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا بلکہ یہ لوگ پاکستانیوں کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور ان سے محبت کرتے ہیں، دونوں ممالک کے لوگ دفاتر اور کاروباری مراکز میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، سیالکوٹ کے واقعہ کی خبر بھی مجھے ایک سری لنکن خیرخواہ سے ہی ملی جنہوں نے اپنی ٹوٹی ہوئی انگلش میں بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ SOME THING VERY BAD HAPEND IN PAKISTAN میں نے فوراً اپنا فون نکال کر چند پاکستانی چینلز کی ہیڈ لائنز دیکھیں اور فوری طور پر اس سے معافی مانگی، وہ بیچارا کر بھی کیا سکتا تھا مگر اس واقعہ نے دونوں کمیونٹیز کے درمیان وقتی طور پر ہی سہی، دوریاں مزید پیدا کردی ہیں، یہاں کے پاکستانی ان دنوں اپنے سری لنکنز دوستوں اور ساتھیوں سے آنکھ ملاتے ہوئے کتراتے ہیں اور اس بات پر سخت شرمندہ ہیں کہ ایک نہتے انسان کو جو پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہا تھا، مشتعل ہجوم نے نہ صرف غیر انسانی انداز میں قتل کیا بلکہ اس کی لاش کو بھی جلا دیا، کسی سیکورٹی گارڈ یا پولیس والے نے اس کی مدد نہیں کی، بالکل اس طرح جس طرح چند ہفتے قبل وزیرآباد میں پولیس والوں کو ایسے ہی تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا اور ان کے ساتھی اور دوسرے محافظ جو انہیں شیلٹر دینے کے پابند تھے،خاموش تماشائی بنے رہے، اگر اس وقت مشتعل ہجوم کو روکا گیا ہوتا اور واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جاتی تو شاید اتنی جلدی اتنا خوفناک واقعہ نہ ہوتا، بنظر غائر دیکھا جائے تو اس واقعہ کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو ہوا ہے جس نے دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردی کے حوالے سے بدنام کر رکھا ہے، اس واقعہ کو وہ منظم انداز میں ان فورمز تک لے جائے گا جو دنیا کے ان ملکو ں پر مختلف قسم کی پابندیاں لگاتے ہیں اور ان ریاستوں کو ناکام قرار دیتے ہیں جن کی اپنے ملک میں رٹ نہیں ہوتیٖ، ریاستیں اگر اس طرح کے واقعات کے بعد سمجھوتے کرلیں اور جھک جائیں تو پھر دشمن ممالک اس صورتحال سے ضرور فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ کوئی پاکستانی نہیں تھا کہ جس کو ماورائے قانون مشتعل ہجوم نے مار ڈالا بلکہ یہ غیر ملکی تھا اور پاکستان کے ایک قریبی دوست ملک کا باشندہ تھا، یہ یقیناً اتنا بڑا سانحہ ہے کہ اس پر ایک ایٹمی ملک کے وزیراعظم کو اپنی اور اپنے عوام کی طرف سے سری لنکن صدر کو فون کرکے معافی مانگنی پڑی، انہیں یقین دلانا پڑا کہ مجرموں کو سزائیں دی جائیں گی، وزارت خارجہ کو سری لنکن ہائی کمشنر کے سامنے وضاحتیں کرنا پڑیں، آرمی چیف کو یہ کہنا پڑا کہ اس معاملہ پر سول انتظامیہ کی مدد کی جائے گی، اس سے اس دکھ کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حکومت پاکستان اور پاکستانی فوجی قیادت کو معلوم ہے کہ اس طرح کے واقعات کے ملک پر کس طرح کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں تو پھر پاکستان کے لوگوں کو یہ بات کیوں نہیں سمجھائی جاتی کہ ان کا داد رسی کیلئے ملک کا قانون موجود ہے، اگر کوئی خدانخواستہ گستاخی کرتا ہے تو اس کو سزا دینا ریاست کا کام ہے، لوگوں کو یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اس طرح کے واقعات سے پاکستان کو دہشت گرد ملک یا ناکام ریاست قرار دیئے جانے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، لوگوں کو بتایا جائے کہ آج مواصلاتی ترقی کے باعث دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اور کسی بھی ملک میں ہونے والے واقعہ کا ساری دنیا میں ردعمل ہوتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ خود حکومت پاکستان، سیاسی پارٹیز، مغربی رہنمائوں اور عسکری قیادت کو اس بات پر متفق ہونا ہوگا کہ اگر خواہ کوئی کسی بھی وجہ سے قانون اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، یقیناً پاکستان کے تمام شہریوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے تاہم پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ ٹویٹ قابل غور ہےکہ ’’ ہم نے معاشرے میں ٹائم بم لگادئیے ہیں، ان بموں کو ناکارہ نہ کیا تو یہ پھٹیں گے ہی اور کیا کریں گے‘‘۔ فواد چوہدری کی حکومت اور ملک کی تمام سیاسی و مذہبی پارٹیوں کو اس وارننگ پر غور ضرور کرنا چاہیے۔