• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میٹرنٹی اسٹاف کی غلطیوں سے بچہ کی ہلاکت پر جوڑے کو 2.8ملین پونڈز ادا

لندن (پی اے) ایک جوڑا، جن کا بچہ میٹرنٹی سٹاف کی غلطیوں کے بعد مر گیا تھا، انہیں ایک تصفیہ کے تحت 2.8ملین پونڈز مل گئے۔ سارہ ہاکنز اپریل 2016ء میں ناٹنگھم سٹی ہاسپٹل میں بچہ کی ہلاکت سے قبل چھ دن تک لیبر روم میں داخل رہی تھی۔ ہسپتال کے اعلیٰ عہدیداروں نے ابتدا میں کسی غلطی کو تسلیم نہیں کیا تھا مگر ایک بیرونی انکوائری میں خاتون کی نگہداشت میں 13 غلطیاں پائی گئیں۔ مسز ہاکنز اور ان کے شوہر جیک کی نمائندگی کرنے والے سالیسیٹرز نے بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ کلینکل غلطیوں کے نتیجہ میں بچہ کی ہلاکت کے اس کیس میں بھاری ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔ مسز ہاکنز ڈلیوری کے وقت 41 ہفتوں کے حمل سے تھیں اور بچہ تقریباً نو گھنٹے بعد ہی مر گیا۔ جوڑے کو ابتدا میں بتایا گیا کہ ان کا بچہ ایک انفیکشن کی وجہ سے مرگیا ہے مگر انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا اور اپنی تحقیقات شروع کر دی۔ وجہ موت جاننے کے لئے ہونے والی ایک تجزیاتی تحقیقات میں، جو کہ 2018ء میں شائع ہوئی، اس میں کہا گیا کہ بچہ کو موت کے منہ میں جانے سے یقینی طور پر روکا جا سکتا تھا۔ ٹرسٹ نے اس سال سے قبل چینل 4 نیوز اور انڈی پینڈنٹ پر ان کی تحقیقات کو ہدف تنقید بنایا، جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ 2010ء کے بعد سے نگہداشت میں غفلت کے باعث ناٹنگھم میں 46 بچے دماغ مجروع ہونے سے متاثر ہوئے اور 19 پیدائش سے قبل ہی مرگئے۔
یورپ سے سے مزید