• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھپنے والا بیان حلفی میرا ہے، ثاقب نثار کا سامنا کرنے کو تیار ہوں، رانا شمیم

اسلام آباد (عاصم جاوید) سپریم ایپلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے اخبار میں شائع ہونے والے بیان حلفی کی تصدیق کر دی۔ رانا شمیم کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے روبرو کہا کہ میرا شائع شدہ بیان حلفی درست ہے

ثاقب نثار کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں،بیرون ملک ریکارڈ کرانے کا مقصد محفوظ رکھنا تھا، حلف نامے کے مندرجات درست ہیں ، مر حومہ بیوی کے ساتھ وعدہ تھا حقائق سامنے لائونگا مگر اسے اپنی زندگی میں پبلک نہیں کرنا چاہتا تھا ، بیرون ملک اسلئے بیان ریکارڈ کرایا کہ محفوظ رہے

اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ رانا شمیم بتائیں اتنے سال بعد ضمیر کیوں جاگا، اگلی تاریخ تک اصل بیان حلفی جمع نہ کرایا تو فرد جرم عائد کر دینگے

دوران سماعت رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی نے عدالت کو بتایا کہ بیان حلفی برطانیہ میں رانا شمیم کے پوتے کے پاس ہے جسے ہراساں کیا جا رہا ہے، عدالت مہلت دے تاکہ وہ برطانیہ جاکر بیان حلفی لاسکیں، اٹارنی جنرل نے کہا برطانیہ میں پوتے کو ہراساں کرنے کا الزام بہت سنگین ہے، آفریدی صاحب بتائیں کون ہراساں کر رہا ہے؟ عدالت نے پیر تک اصل بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر بیان حلفی جمع نہ کرایا تو 13 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔

منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم کے بیان حلفی سے متعلق توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو سابق چیف جج رانا محمد شمیم ، ایڈیٹر انوسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی ، ایڈیٹر دی نیوز ، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ خان نیازی ، عدالتی معاونین فیصل صدیقی ، ریما عمر اور دیگر پیش ہوئے۔ جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست عدالت نے منظور کر لی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیاکہ آپ نے اپنا جواب جمع کرایا ہے؟ رانا شمیم نے کہاکہ میں نے چار دن پہلے جواب دے دیا تھا۔رانا شمیم نے کہا کہ بیان حلفی پرائیویٹ دستاویز تھی اور میں نے شائع کرنے کا نہیں کہا ، مگر سوال یہ ہے کہ اگر یہ بیان حلفی ذاتی تھی تو صحافی سے سوال کیوں نہیں پوچھا گیا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ رانا شمیم نے تین سال بعد ایک بیان حلفی کیوں دیا؟ یہ کسی مقصد کیلئے ہو گا؟ برطانیہ کے کسی فورم پر جمع ہوا ہو گا؟ اسے کوئی لاکر میں تو نہیں رکھتا۔ عام عوام کو تاثر دیا گیا کہ اس عدالت کے ججز پر سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے دبائو ڈالا۔

اس خبر کے شائع ہونے کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اپیل زیر سماعت ہے۔ چیف جسٹس نے لطیف آفریدی کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے آپ کے کلائنٹ سے پوچھا کہ انہوں نے برطانیہ میں کیوں بیان حلفی دیا؟ اگر ان کا ضمیر جاگ گیا تھا تو کسی فورم پر جمع کرتے؟ اس کا مقصد کیا تھا؟ لاکر میں تو کوئی نہیں رکھتا۔ میں آپ کو اس کیس کے حوالے بتانا چاہتا ہوں ، اپیلیں یہاں پر زیر سماعت ہیں ، میرا کنسرن کسی اور کورٹ کے ساتھ نہیں بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ساتھ ہے ، میں نے یہ کارروائی ہی اسلئے شروع کی کہ کسی کی ہمت نہیں کہ وہ اس ہائی کورٹ کے کسی جج کو اپروچ کر سکے ، ہمارے فیصلے بولتے ہیں اسکی تفصیل میں نہیں جاوں گا ، آپ کے کلائنٹ نے ثابت کرنا ہے کہ اس کا عمل بدنیتی پر مبنی نہیں تھا

برطانیہ میں بیان حلفی کیوں ریکارڈ کیا گیا، رانا شمیم نے بیان حلفی کہاں جمع کرانا تھا؟ لطیف آفریدی نے کہاکہ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ ججز پر ایسے الزامات لگائے گئے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ آپ اس کیس کو رانا شمیم کے وکیل کی حیثیت سے نہیں عدالتی معاون کی حیثیت سے دیکھیں، لوگوں کا اعتماد اس عدالت پر ہے

یہ اعتماد اٹھانے کی کوشش نہ کریں ، مرحوم جسٹس وقار سیٹھ نے کبھی نہیں کہا کہ ان پر کسی نے دباؤ ڈالا ، ان کے فیصلے آج بھی زندہ ہیں ، اس کیس کو توہین عدالت کا کیس نہ سمجھیں ، آپ کے موکل نے تین سال بعد اس عدالت پر انگلی اٹھائی ، عدلیہ کی آزادی کیلئے ہمیشہ کوشش کی اور کرتا رہوں گا۔

اہم خبریں سے مزید