• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

4 ماہ میں مہنگائی ختم ہونے کے دعویدار 23 مارچ کے احتجاج سے خوفزدہ کیوں؟

اسلام آباد(فاروق اقدس/نمائندہ جنگ) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے گزشتہ روز ہونے والے سربراہی اجلاس میں ’’مہنگائی مارچ‘‘کے شرکا کی اسلام آباد آنے کی ابھی تاریخ ہی دی ہے جسے خود اپوزیشن نے بھی پرسکون انداز سے اس لئے سنا ہے کہ متعینہ مدت میں ابھی تین ماہ سے زیادہ عرصے کی مسافت پڑی ہے

لیکن حکومت نے اپوزیشن کے فیصلے پر جس سرعت کے ساتھ ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ غیر متوقع ہی نہیں بلکہ حکومت کی فکرمندی اور تشویش کی غمازی کرتا ہے اس تشویش میں خود وزیرداخلہ شیخ رشید بھی شامل ہیں جو اپوزیشن کے (بقول ان کے)تاخیر سے کئے جانے والے اس فیصلے کو غلط قرار دے رہے ہیں اوربالخصوص مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے بعض تجاویز کے ساتھ ساتھ متعینہ تاریخ کے حوالے سے نظرثانی کا مشورہ بھی دے رہے ہیں بادی النظر میں ان کی تشویش تو بجا ہے کیونکہ حالات کو پرامن اور معمول پر رکھنا انہی کی ذمہ داری ہے

لیکن بعض دیگر وزرا کے بیانات اور ترجمانوں کی ’’ہاہاکار‘‘ حکومتی اضطراب کو ظاہر کرتی ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو یقین ہے کہ ماضی میں مولانا نے اسلام آباد میں ’’دھرنے کا جو ریکارڈ‘‘جو قائم کیا تھا جس سے وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہروں میں ’’صورتحال درہم برہم‘‘ہو گئی تھی لیکن اس مرتبہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ 23مارچ کو مہنگائی مارچ اور اسلام آباد میں دوروزہ قیام پوری پی ڈی ایم کا اجتماعی اور متفقہ فیصلہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید