• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کیخلاف نیب کیسز خود حکومت اور نیب کیلئے اسکینڈل، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے کہا ہے کہ نیب کا یہ کام ہے کہ کرپشن کا خود کھوج لگا کر قومی دولت واپس لائے، میزبان شاہزیب خانزادہ نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ حکومت کیخلاف نیب کیسز خود حکومت اور نیب کیلئے اسکینڈل بن رہے ہیں

نمائندہ جیو نیوز کراچی طلحہ ہاشمی نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے نوجوان ارسلان نے نئی CG125موٹر سائیکل خریدی تھی جو کراچی میں بہت زیادہ چھینی جاتی ہے

پولیس اہلکار توحید نے بچے کے پیر میں گولی نہیں ماری بلکہ اسے ٹارگٹ کر کے فائر کیا،سابق اسپیشل پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے میں نیب کو مالم جبہ کیس میں انکوائری جاری رکھنے کی واضح ہدایت جاری کی گئی تھی، احتساب عدالت کے فیصلے میں کہیں نہیں کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے اس کیس کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے، احتساب عدالت کے فیصلے سے واضح ہے کہ مالم جبہ کیس انکوائری بند کرنے کی درخواست نیب نے دی تھی۔

عمران شفیق کا کہنا تھا کہ نیب کو کسی کیس میں تحقیقات کیلئے شکایت جمع کروانے کی ضرورت نہیں ہے، نیب کا یہ کام ہے کہ کرپشن کا خود کھوج لگا کر قومی دولت واپس لائے، چیئرمین نیب تین طریقوں سے کسی بھی کیس کی تفتیش کرسکتا ہے، پہلا یہ کہ حکومتی اتھارٹی کوئی شکایت کرے، دوسرا چیئرمین نیب کو کسی دوسرے ذریعہ سے معلومات ملیں اور تیسرا چیئرمین نیب اپنے ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کرتے ہوئے انکوائری شروع کرسکتا ہے۔

نمائندہ جیو نیوز کراچی طلحہ ہاشمی نے بتایا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہلاک ہونے والے نوجوان ارسلان نے نئی CG125موٹر سائیکل خریدی تھی جو کراچی میں بہت زیادہ چھینی جاتی ہے،

دونوں بچے اپنی موٹر سائیکل پر ماسک پہنے آرہے تھے ، پولیس اہلکار توحید اور اس کا انفارمر عمیر دو ٹرک پکڑ کر لارہے تھے

پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ سمجھے یہ دونوں ڈاکو ہیں جبکہ زخمی ہونے والے بچے کے مطابق ہمیں لگا کہ یہ ڈاکو ہیں اور موٹر سائیکل چھیننے آئے ہیں اس لئے ہم نے موٹر سائیکل بھگائی، پولیس اہلکار توحید نے بچے کے پیر میں گولی نہیں ماری بلکہ اسے ٹارگٹ کر کے فائر کیا، توحید نے چار گولیاں چلانے کے بعد پولیس کو اطلاع دی کہ انکاؤنٹر ہوا ہے، ان بچوں پر نمبر مٹا ہوا پستول رکھ کر انہیں مزید پھنسانے کی کوشش کی گئی۔

میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم کے بیان حلفی کی خبر پر منگل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، رانا شمیم نے خبر میں شائع ہونے والے بیان حلفی کے متن کی تصدیق کی مگر عدالت میں اصل بیان حلفی پیش نہیں کیا، عدالت نے واضح کیا کہ اگر 13دسمبر تک اصل بیان حلفی پیش نہیں کیا تو توہین عدالت کے کیس میں فردجرم عائد کردی جائے گی

رانا شمیم نے دعویٰ کیا کہ انہیں پاکستان میں اور ان کے نواسے کو بیرون ملک ہراساں کیا جارہا ہے، رانا شمیم نے عدالت میں جمع کرائے جانے والے تحریر ی بیان میں لکھا ہے کہ اس بیان حلفی کے پیچھے صرف ایک وجہ تھی اور وہ وجہ اپنی اہلیہ کے انتقال سے پہلے وہ وعدہ تھا کہ میں ریکارڈ کی درستگی کیلئے اس حقیقت کو تحریری طور پر لکھ کر محفوظ رکھوں، اس بیان حلفی کا مقصد عدلیہ کی تضحیک نہیں ہے۔

اہم خبریں سے مزید