امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے بعد عالمی ماہرینِ قانون اور تجزیہ کاروں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام اور بین الاقوامی قوانین پر سوالات اٹھا دیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جنوری 2025ء میں دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں طاقت کے بے روک استعمال کا رجحان نمایاں ہوا ہے، جبکہ امریکی آئین میں موجود چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ان کے فیصلوں کو محدود کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدت کے آغاز سے اب تک دو خودمختار ممالک وینزویلا اور ایران پر حملوں کا حکم دے چکے ہیں، اس کے علاوہ انہوں نے گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی دھمکی بھی دی، یورپی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ کیے، اقوامِ متحدہ کے کردار کو کمزور کیا اور بھاری ٹیرف کے ذریعے عالمی تجارت کو متاثر کیا۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2 (4) کے تحت طاقت کے استعمال پر پابندی کی شق کی۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہر پروفیسر مائیکل بیکر کا کہنا ہے کہ ماضی میں بین الاقوامی قانون اکثر امریکی مفادات کو سہارا دیتا رہا ہے، تاہم موجودہ حالات میں یہ قوانین ٹرمپ کے اقدامات کو روکنے میں تقریباً بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب عالمی اداروں کا ردِعمل بھی محدود دکھائی دیتا ہے، ماہرین کے مطابق بہت سے ممالک امریکا پر کھل کر تنقید کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں واشنگٹن کے ردِعمل کا خدشہ ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ اور مغربی ممالک نے اگرچہ گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کی کوشش کی مخالفت کی، تاہم ایران اور وینزویلا پر امریکی حملوں کی واضح مذمت نہیں کی، جس سے ان کے دہرے معیار کا تاثر پیدا ہوا۔
ادھر عالمی طاقتیں چین اور روس امریکی اقدامات پر تنقید تو کر رہی ہیں مگر براہِ راست تصادم سے گریز کر رہی ہیں، جبکہ بھارت اور برکس کے دیگر ممالک نے محتاط خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکی صدر کے اختیارات پر عالمی سطح پر واضح رکاوٹیں کم ہیں، لیکن اقتصادی دباؤ ایک بڑی حد تک انہیں متاثر کر سکتا ہے، ایران کے ساتھ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، عالمی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کے باوجود قیمتوں میں کمی نہیں آئی۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 200 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، خصوصاً اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ عالمی قوانین اور ادارے امریکی صدر کو فوری طور پر نہیں روک پا رہے، لیکن توانائی کی منڈیوں میں ہلچل، معاشی دباؤ اور امریکی عوام کی ممکنہ ناراضی مستقبل میں ٹرمپ کی پالیسیوں کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔