• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شیری رحمان کا منی بجٹ پر بحث نہ کرنے پر قائمہ کمیٹی اجلاس سے واک آؤٹ



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں مِنی بجٹ پر بحث نہ کرنے پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمان نے احتجاجاً واک آؤٹ کردیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ مشیر خزانہ شوکت ترین کی وجہ سے اجلاس دو بار مؤخر ہوا، مِنی بجٹ سے مہنگائی کا آتش فشاں آئے گا، پارلیمان کو بتایا جائے آئی ایم ایف کی کیا شرائط ہیں، ہمیں حکومت سے جواب چاہیے۔

سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سعدیہ عباسی نے بینکوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پراپرٹی کی منتقلی روک دی گئی ہے، پانچ سال پہلے وفات پانے والی والدہ کے اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگی جارہی ہیں، میرا برادر نسبتی امریکا میں رہتا ہے اس کو منی لانڈرنگ کے نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔

سینیٹر سلیم ماونڈوی والا نے کہا کہ ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک حکام نیب کے زیر اثر کام کر رہے ہیں، نیب کے خوف سے مجھے غیر منافع بخش ادارے کا ڈائریکٹر بننے سے روکا گیا۔

ممبران کمیٹی نے بینکوں کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کو کریڈٹ کارڈ جاری کرنے سے انکار پر اظہار برہمی کیا۔

ضمنی بجٹ کے معاملے پر سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر فیصل رحمان میں تلخ کلامی ہوئی، سینیٹر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کی تفصیلات شیئر کی جائیں، ایسی کون سی پیشگی شرائط ہیں جو طے نہیں ہورہیں۔

اجلاس میں کمیٹی نے مشیر خزانہ کو پیش ہو کر سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر قرض کی شرائط بتانے کا کہا جبکہ مشیر خزانہ شوکت ترین کی عدم موجودگی پر ایجنڈا موخر کردیا۔

قومی خبریں سے مزید