• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذکیہ مشہدی

چھ سال کے دانیال کو چڑیاں بہت اچھی لگتی تھیں۔ اڑتی، پھدکتی، چہچہاتی چڑیاں دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتا۔ ہرے ہرے طوطے اسے خاص طور پر اچھے لگتے تھے۔ ایک بار اس نے اپنی ممی سے کہا کہ وہ طوطا پالنا چاہتا ہےلیکن ممی نے کہاکہ، طوطے قید میں رہنا پسند نہیں کرتے، انہیں اپنی آزادی بہت پیاری ہوتی ہے۔ گھر کے سامنے درختوں پر بہت سی چڑیاں رہتی ہیں۔ خوب چوں چوں کرتی ہیں، انہیں دیکھا کرو۔ دانیال نے ممی کی بات مان لی اور طوطا خریدنے کی ضد چھوڑدی۔اسکول سے آنے کے بعد بالکونی میں کھڑا ہوکر طرح طرح کی چڑیوں کو دیکھتا۔ وہ سب برگد کے گھنے پیڑ پر بسیرا کرتی تھیں۔ پیڑ نے سب کو پناہ دے رکھی تھی۔

ایک دن دانیال شام کو کمرے میں آیا تو دیکھا ایک چڑیا ان کے کمرے میں آگئی ہے۔ چھوٹی سی کالے رنگ کی لیکن بڑی پیاری، بڑی بھولی، پتلی سی دم تھی۔ دم لگاتار اوپر نیچے ہل رہی تھی۔ اس چڑیا کو اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دانیال چڑیا کو کمرے میں دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ بھاگ کر ممی کو بلا لایا۔ انہوں نے بتایا یہ شاما ہے۔ بڑا میٹھا بولتی ہے اور خوب سیٹیاں بجاتی ہے، یہاں شاید بھٹک کر آگئی ہے۔ چلو اسے واپس بھیج دیں، انہوں نے چڑیا کو ہشکایا، تاکہ وہ دروازے سے واپس چلی جائے۔

’’یہ چڑیا ہے یا اس کا بچہ ؟‘‘ دانیال نے ممی سے پوچھا۔

’’یہ ممی چڑیا ہے‘‘

’’تب تو اسے ضرور بھیج دیجئے۔ اس کے بچے انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ دانیال نے کہا اور ممی کے ساتھ وہ بھی چڑیا کو ہشکانے لگا۔

چڑیا کچھ گھبراگئی تھی۔ شام گہری ہونے سے اسے دکھائی بھی کم دے رہا تھا۔ وہ کبھی کمرے میں لگی ٹیوب لائٹ پر بیٹھتی تو کبھی پھدک کر دیوار کی گھڑی پر ،کبھی پنکھے کے پروں پر اور کبھی بڑی سی پینٹنگ کے فریم پر بیٹھ جاتی۔ دانیال اور ان کی ممی نے لاکھ کوشش کی لیکن وہ دروازے کی طرف گئی ہی نہیں۔ دروازہ بالکونی پر کھلتا تھا اور وہ ادھر ہی سے آئی تھی۔

’’ایسا کرتے ہیں فی الحال اسے یہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ صبح اسے راستہ مل جائے گا۔‘‘ ممی یہ کہہ کر باورچی خانے میں چلی گئیں۔

’’ٹھیک ہے۔ آج رات یہ ہماری مہمان رہے گی۔‘‘ دانیال خوش ہوگیا۔

کھانا کھانے کے بعد جب سب لوگ کمرے میں آئے تو پاپا نے کہا، اگر پنکھا چلایا گیا اور چڑیا اڑی تو اس سے ٹکرا سکتی ہے۔ ٹکرائی تو اس کے بازو ٹوٹ جائیں گے، ہوسکتا ہے مر بھی جائے۔ دانیال بہت پریشان ہوا۔ اُس نے پاپا سے کہا ، جب تک چڑیا چلی نہیں جاتی تب تک پنکھا نہیں چلائیں گے۔

’’گرمی بہت ہے‘‘ ممی پاپا نے فکر مند ہوکر کہا۔

’’ہم لوگ ایک رات ایسے ہی سو جائیں گے، بغیر پنکھے کے۔ کھڑکیاں کھول دیجئے۔ تھوڑی باہر کی ہوا آجائے گی۔‘‘ دانیال نے تجویز پیش کی۔

ممی سمجھ رہی تھیں دانیال راضی نہیں ہوگا۔ اس کی رحم دلی دیکھ کر وہ خوش ہوگئیں۔ اس رات پنکھا نہیں چلا۔ کچھ دیر گرمی برداشت کرتے رہے پھر سوگئے۔ دانیال اسکول جانے کی وجہ سے صبح سویرے اٹھتا تھا۔ اٹھتے ہی چڑیا کو دیکھا۔ وہ پنکھے کے پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ’’اچھا ہوا جو پنکھا نہیں چلایا ‘‘ اُس نے خوش ہو کر کہا۔

ممی نے چڑیا کو پھر ہشکایا۔ اس بار وہ تھوڑا سا ہی ادھر ادھر اڑی۔ جلد ہی اسے دروازہ نظر آگیا۔ وہاں سے اڑ کر وہ بالکونی سے نکلی اور سیدھی پیڑ پر جا بیٹھی۔ جاتے جاتے اس نے بڑی میٹھی سیٹی بجائی۔

’’ممی، وہ کہہ رہی ہے تھینک یو۔‘‘ دانیال تالی بجا کر بولا۔‘‘ ’’اب اس کے بچے خوش ہوجائیں گے کہ ممی آگئی۔‘‘ وہ جلدی جلدی اسکول جانے کے لئے تیار ہونے لگے۔ کلاس میں سب کو چڑیا کی کہانی سنانے کی جلدی جو تھی ۔