اسلام آباد ہائی کورٹ نے عید کا چاند دیکھنے کے بعد جلدی اعلان کا حکم دینے کے لیے شہری کی درخواست پر وزارتِ مذہبی امور سے رپورٹ طلب کر لی۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری عبداللّٰہ شفیق کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار شہری عبداللّٰہ شفیق ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوا۔
درخواست گزار نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ رویتِ ہلال کمیٹی کو حکم دیا جائے کہ چاند کا اعلان جلدی کریں، چاند کے اعلان میں تاخیر سے لوگ تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں، رات تاخیر سے چاند کا اعلان ہونے سے مارکیٹس میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے، انتظامیہ کو لاء اینڈ آرڈر کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی ہدایت کریں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عید شاپنگ کی دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹس بند رکھنے کا حکم دیا جائے، رویتِ ہلال کمیٹی کو چاند دیکھ کر جلدی اعلان کرنے کا حکم بھی دیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ چاند نظر آئے گا تو ہی اعلان کیا جائے گا ناں، پہلے چاند کی شہادتیں چاروں صوبوں سے اکٹھی کی جاتی ہیں، پھر میٹنگ ہوتی ہے اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے اس لیے وقت لگ جاتا ہے، چاند نظر آئے بغیر تو اعلان نہیں کیا جا سکتا، چلیں رپورٹ مانگ لیتے ہیں۔
عدالت نے وزارتِ مذہبی امور سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔