• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی لاریجانی کی شہادت کے بعد امریکا تہران میں کس سے بات کریگا؟

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

اسرائیلی حملے میں سینئر ایرانی سیاستدان علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران کی قیادت میں طاقت کا توازن سخت گیر حلقوں کی جانب جھک گیا ہے جس سے جاری جنگ کے سفارتی حل کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی ایران کے ان چند بااثر رہنماؤں میں شامل تھے جو مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان رابطہ رکھتے تھے اور سابق صدر حسن روحانی کے نسبتاً معتدل دور کی سیاست سے جڑے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔

وہ حالیہ عرصے میں ایران کے جوہری مذاکرات اور علاقائی سفارت کاری میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔

جنگی قیادت اب کس کے ہاتھ میں؟

اسرائیل پہلے ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو جنگ کے آغاز میں نشانہ بنا چکا ہے۔ 

ان کی شہادت کے بعد قائم عبوری قیادت میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایاہ ای اور گارڈین کونسل کے ایک اعلیٰ عالم شامل تھے جبکہ علی لاریجانی عملی طور پر اہم فیصلہ ساز بن گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق اب علی لاریجانی کی شہادت کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا اثر و رسوخ بڑھنے کا امکان ہے جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق اور سخت پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

سفارتی راستہ مزید مشکل؟

رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ لاریجانی ایسے رہنما تھے جو جنگی حکمتِ عملی اور سفارت کاری کے درمیان رابطہ قائم کر سکتے تھے، یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کی تجزیہ کار ایلی جیرانمایہ کے مطابق اِن کی شہادت ایران میں سخت گیر سوچ کو مزید مضبوط کر سکتی ہے۔

دوسری جانب بعض امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں ایران پر زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کو وسیع حمایت حاصل ہے۔

ممکنہ سفارتی شخصیات کون؟

عرب میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کے بعد ایران میں نسبتاً معتدل آوازیں کمزور پڑتی دکھائی دے رہی ہیں، موجودہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، سابق صدر حسن روحانی اور سابق وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف جیسے رہنماؤں کے کردار مزید محدود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق لاریجانی کی شہادت ایران کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ سخت اور غیر لچکدار بنا سکتی ہے جس سے جنگ کے طول پکڑنے اور خطے میں خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید