• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی شخص کے لیے اپنا کاروبار کرنا نہایت پُرجوش ہوسکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی کچھ فکر اور خدشات بھی لاحق ہوتے ہیں، جیسے کہ ادائیگیوں کا معاملہ، آیا کہ طویل مدت میں کاروبار منافع بخش ہوگا یا نہیں، کاروبار شروع کرنے پر کتنی لاگت آئے گی اور کتنا بجٹ مختص کرنا پڑے گا۔ یاد رکھیں کہ کاروبار شروع کرنے کے اخراجات کاروبار سے آمدنی حاصل کرنے سے پہلے اٹھانے پڑتے ہیں۔ 

عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ کاروباری مالکان اس بات پر غور کیے بغیر منصوبہ بندی میں کود پڑتے ہیں کہ آیا وہ کاروبار کا آغاز کرنے کے ضروری اخراجات برداشت کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر کاروبار اپنا وجود خود برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہتے۔ اگر انٹرپرینیورز ابتدا میں مالیاتی منصوبہ بندی کے بارے میں محتاط نہیں ہوتے تو وہ اپنے کاروبار کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

کاروبار شروع کرنے سے پہلے، آپ کو اپنے آئیڈیا یا پروڈکٹ پر غور کرنا چاہیے، آپ کیا قیمت رکھیں گے اور ان چیلنجز کو سمجھیں جن کا آپ سامنا کر سکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اپنی کمپنی قائم کر لیتے ہیں، تو آپ کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی کہ آپ کو ابتدائی طور پر کاروبار میں کتنی رقم لگانے کی ضرورت ہے، اپنے کاروبار کا کس طرح ڈھانچہ بنانا ہے اور آپ کو منظم رکھنے کے لیے کس طرح کاکاروباری منصوبہ بنانا چاہیے۔ 

فنانسنگ کا معاملہ انٹرپرینیورشپ میں سب سے زیادہ ذہنی دباؤ کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو اس کے بارے میں حقیقت پسند ہونا ہے کہ ابتدا میں کتنی رقم کی ضرورت ہوگی اور کاروبار کے آغاز کے اخراجات کا درست اندازہ لگانا بھی ایک اہم معاملہ ہے۔

آغاز کے اخراجات تصوراتی طور پر آسان ہیں یعنی کاروبار شروع کرنے سے پہلے جو اخراجات آپ کو اٹھانا ہوں گے، وہ اثاثے جو آپ کو درکار ہوں گے اور فروخت شروع ہونے سے پہلے پہلے چند مہینوں کے دوران آپریشنل ہونے کے لیے آپ کو کتنی رقم درکار ہوگی۔ ان میں سے بہت سے اخراجات بار بار ہونے والے ہیں، لہٰذا آپ کو انہیں ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر برداشت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ 

دیگر، جیسے کہ فیس یا دفتری فرنیچر کو شامل کرنا، ایک بار کے اخراجات سمجھے جاتے ہیں۔ جب آپ اپنے سٹارٹ اپ اخراجات کا حساب لگا رہے ہوں، تو ایک اچھا اصول یہ ہے کہ چھ ماہ کے اخراجات کو سامنے رکھا جائے۔ زیرِ نظر مضمون میں اس بات پر روشنی ڈالی جارہی ہے کہ کاروبار کے آغاز پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ کیسے لگایا جائے تاکہ آپ کے کاروبار میں آگے جاکر فنانسنگ کا مسئلہ نہ ہو۔

تحقیق کے اخراجات

کاروبار شروع کرنے سے پہلےاس صنعت کے بارے میں مارکیٹ ریسرچ کی جاتی ہے، جس میں کاروبار کرنا ہو۔ کچھ اسٹارٹ اَپ اس چیز کو نظر انداز کردیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ اپنے آئیڈیاز کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے مارکیٹ ریسرچ فرم کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ بلاشبہ، ان ماہرین کو معاوضہ ادا کرنا پڑے گا، لہٰذا اس رقم کو اپنے بجٹ میں شامل کریں۔

سازوسامان

نئے کاروبار کو سازوسامان/ آلات کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ ہر صنعت کے حساب سے سازوسامان مہنگا ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر متعدد ملازمین ہوں تو انہیں سازوسامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار کو درکار سازوسامان پر اٹھنے والی رقم بجٹ میں رکھنی چاہیے۔

فیس

کاروبار شروع کرتے وقت کاروبار کو رجسٹر کروانا پڑتا ہے، جس سے اس کے ادارتی، مالی اور ٹیکس کے معاملات کا تعین ہوتا ہے۔ لائسنسنگ یا اجازت نامے کے لیے رجسٹر کرنے کی فیس ہر جگہ کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔

دفتر کی جگہ

قطع نظر اس کے کہ کاروبار کے لیےجگہ کرائے پر حاصل کی جائے یا خریدی جائے، یہ کافی مہنگا سودا ہوتا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروباری مالکان پیسے بچانے کے لیے ایسی جگہوں کی تلاش کرتے ہیں جو نسبتاً سستی ہوں۔ اگر آپ طویل مدتی لیز حاصل کرتے ہیں، تو آپ کو کافی رقم ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، آپ کو یوٹیلیٹیز اور دیگر آپریشنل اخراجات پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اگر آپ یہ خرچے برداشت کرلیتے ہیں تو آپ کو دیگرامور جیسے کہ لے آؤٹ ڈیزائننگ، فرنیچر کی خریداری، ساز و سامان کی ترتیب وغیرہ کے لیے بھی رقم درکار ہوگی۔ 

یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ کاروبار شروع کرنے سے پہلے جگہ کے لیے سیکیورٹی ڈپازٹ اور کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور یہ بھی ابتدائی اخراجات میں سے ایک ہے۔ ایک اور مقبول آپشن کام کرنے کی مشترکہ جگہیں ہیں۔ وہ نسبتاً سستی ہوتی ہیں اور پہلے دن سے ہی ایک سیٹ اَپ مل جاتا ہے جہاں فرنیچر، انٹرنیٹ، میٹنگ رومز اور دیگر سہولتیں موجود ہوتی ہیں۔

انوینٹری

کچھ کاروبار ایسے ہیں جن کے آغاز پر ہی مناسب تعداد میں پہلے سے ہی انوینٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ انوینٹری کا آرڈر دینا بھی مالی چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر بہت زیادہ انوینٹری حاصل کرلی جائے تو اس کے خراب ہونے یا کسی دوسری ایسی چیز جو فروخت نہ ہورہی ہو، اُس کی وجہ سے استعمال نہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت کم انوینٹری رکھنے کی صورت میں آپ ان صارفین کو کھو سکتے ہیں جو کسی چیز کے دوبارہ آنے کا انتظار کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ لہٰذا یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ انوینٹری کو اپنے ابتدائی اسٹارٹ اَپ بجٹ کا حصہ بنائیں۔

اشتہار

کاروبار کے آغاز میں اپنی مصنوعات یا خدمات کے بارے میں صارفین تک بات پہنچانے کے لیے ایڈورٹائزکرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر بینرز، بروشرز، بزنس کارڈ، اخبار اور ٹی وی پر اشتہارات وغیرہ میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ مارکیٹنگ میں سرمایہ کاری کیے بغیر، آپ سیلز حاصل نہیں کر پائیں گے۔

ویب سائٹ

آجکل ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ ایسے میں آپ کے اسٹارٹ اَپ کی آن لائن موجودگی کے لیے لازمی ہے کہ آپ کے کاروبار کی پیشہ ورانہ نظر آنے والی ویب سائٹ ہو۔ اس کے لیے ایک ڈومین نام کے لیے رجسٹر کروائیں، جو عام طور پر سالانہ فیس لیتا ہے۔ اگر آپ ویب ڈیزائننگ سے واقف نہیں ہیں تو اس کے لیے کسی ماہر کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ، یہ ایک اضافی لاگت ہوگی، لیکن عام طور پر یہ سرمایہ کاری کے قابل ہے۔

دفتری سامان

کاروبار کی ابتدا میں دفتری سامان بھی خریدنا پڑتا ہے۔ ان اخراجات میں میزیں، کرسیاں، کمپیوٹر اور سافٹ ویئر، فونز، ڈسپینسر، فائلنگ کیبنٹ اور ایئرکنڈیشنر وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ دفتری سامان کو نظر انداز نہ کریں، کیونکہ وہ آپ کے بجٹ کا ایک اہم حصہ بن سکتے ہیں۔

پے رول

کاروبار کا آغاز کرنے کے لیے ملازمین بھرتی کرنے ہوتے ہیں، جن کو وقت پر معاوضے کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے چاہے آپ کے کاروبار میں آمدنی ہونا شروع ہوئی ہو کہ نہیں۔

مثال کے طور پر، اکاؤنٹنٹس مختلف قانونی ڈھانچوں کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ اکاؤنٹنٹ ٹیکس ریٹرن پر کٹوتیوں میں رقم بچا سکتا ہے۔ کچھ کاموں کو آؤٹ سورس کرنا طویل مدت میں آپ کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، چاہے اس سے کام کے آغاز کے اخراجات میں اضافہ ہو۔

انشورنس

جس طرح آپ اپنی صحت، گاڑی اور گھر کی حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح آپ کے کاروبار کو بھی انشورنس کی ضرورت ہے۔ کاروباری انشورنس کی مختلف اقسام ہیں، جو آپ کے کاروبار کی نوعیت پر منحصر ہے، آپ کا یہ عمل مستقبل میں آپ کے پیسے اور ذہنی تناؤ کو بچا سکتا ہے۔