• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر : نسریں جبین

تصاویر: فیاض عزیز

کہتے ہیں کہ انسان خود پر آنے والی تکلیف تو برداشت کر لیتاہے لیکن اولاد کی تکلیف برداشت نہیں ہو پاتی اپنی فطرت اور جبلت کے مطابق ہر ذی روح چاہتا یہی ہے کہ وہ دنیا کی تمام تر خوشیاں کامیا بیاں اور آسائشیں لا کر اپنی اولاد کے دامن میں ڈال دے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان بے بس ہے اور اولاد کے معاملے میں بھی بہت سارے حالات و اقعات ایسے پیش آ جاتے ہیں جن میں انسان روتا پیٹتا اور غمز دہ تو ہوتا ہے لیکن بحرحال اسے صبر سے آ ہی جاتا ہے کیونکہ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا ۔

اسی طرح کا واقع 14 دسمبر 2016 کو ورسک روڈ پشاور کے ایک سکول میں بھی پیش آیا جب دہشت گردوں کی فائرنگ سے144طلبا سمیت 150افراد شہید ہوئے اور یہ سانحہ والدین کے صبر کا ایک بہت بڑا امتحان تھا سانحہ آرمی پبلک سکول کو سات سال گزر گئے لیکن اس سانحے نے شہدا کے خاندان پر ایسے اثرات مرتب کیے جو ان مٹ نقوش چھوڑ گئے حتیٰ کہ بعض والدین کو قبر تک ہی پہنچا گئے اور بعض کی زندگیوں میں تکلیف ،درد اور دکھوں کی ایسی کہانیوں کو جنم دے گئے کہ جو ناقابل بیان ہیں انہی میں سے ایک اورنگزیب خان بھی تھے جو دسویں کلاس کے شہید طالب علم حسن زیب کے والد ہیں جو اپنے بیٹے کے وہ جملے اپنے ذہن، سوچوں اور خیالات سے نہ مٹا سکے جو اپنی شہادت سے چند لمحےقبل بیٹے نے ان سے فون پر کہے تھے وہ اس سانحے کے چھ سال تک اس درد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ درد انہیں قبر کی دیواروں تک لے جا کر ہی ختم ہوا ۔ 

ان خیالات کا اظہار حسن زیب شہید کی والدہ نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے جنگ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران کیاجو ایک ہی وقت میں اپنے شہید بیٹے اور اس کے غم میں ہارٹ اٹیک کے باعث جاںبحق ہو جانے والے اپنے شوہر کے غم اور دکھ کو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔اور اپنے غم کے آنسو پی کراپنے گلے کو صاف کیا اور دوبار ہ بات کرنا شروع کی اور ان آخری جملوں کے بارے میں بتایا جو کہ حسن نے جام شہادت پیتے ہوئے اپنے والد سے کہے تھے حسن کے اپنے موبائل فون سے اپنے والد کو فون کیا اور جیسے ہی انہوں نے فون آن کیا حسن درد کی تکلیف سے کراہتے ہوئے کہ رہا تھا کہ’’بابا مجھے گولی لگی ہے اور میں سکول کی لائبریری میں چھپا ہوں اور مجھےبہت پیاس لگی ہے آپ مجھے بچا لو جلدی آجائو مجھے یہاں سے نکال کر لے جائو ۔

اس کے بابا سکول کے گیٹ پر پہنچ گئے اور چند گز کے فاصلے پر لائبریری میں جا کر اپنے بیٹے کی زندگی بچانا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی والوں نے اندر نہیں جانا(فائرنگ کا سلسلہ بھی اس وقت جاری تھا) اور حسن شہید ہو گیا لیکن اپنے چہیتے اور لاڈلے بیٹے کے موبائل فون پہ وہ آخری جملے وہ نہ بھول پائے حسن کے والد وہ جملے اکثر دہراتے رہتے وہ اکثر پانی کا جگ بھر کر اپنے شہید بیٹے کی قبر پر لے جاتے کہتے تھے کہ ’’حسن تم پانی پی لو، تمہیں بہت پیاس لگی ہے میں تمہیں اس وقت پانی نہیں پہنچا سکا۔ 

میں بہت بے بس تھا۔ بس یہ کہنا تھا کہ ان سے مزید صبر نہیں ہو پایا اور انھوں نےاپنے ساتھ ساتھ مجھےبھی رلا دیا کیونکہ ان کا دکھ ایک انسان اور ماںہونے کے ناطے میں سمجھ پا رہی تھی (تھوڑے وقفے کے بعد خود کو سنبھالتے ھوئے) اس سانحے کے بعد ان کے گھر پر جومصیبت ٹوٹی اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ بولیں کہ انکے مرحوم شوہر اور حسن شہید کے والد نے اپنے جواں سال بیٹے کی شہادت کے تین ماہ بعد اپنے آفس سے ریٹائرمنٹ قبل ازوقت لے لی و ہ کہتے تھے کہ مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کا سارا سامان اپنےکمرے میں سجا رکھا تھا اس کا سکول یونیفارم اور تمام تر کتابیں جوتے اور سب کچھ اپنے کمرے میں رکھا تھا اور خود کو مسجد، قبرستان اور کمرے تک محدود کر لیا تھا۔ وہ اس حادثے کے دن سے باہر نہیں نکل پائے۔ 

ان کی ساری زندگی کا طریقہ بدل گیا اور 6سال تک اسی غم کو سینے سے لگائے رکھا جون ۲۰۲۱ میں اپنے دوست کے جواں سال بیٹے کی فوتگی پر وہاں گئے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور گھر آ گئے کھانا کھ یااور گم سم بیٹھے رہے۔ وہ اس روز بھی دوست کے بیٹے میں حسن کو دیکھ رہے تھے کہ دل کا دورہ پڑا جس نے ہسپتال تک پہنچنے ہی نا دیا اور بالآخروہ اللہ کو پیارے ہو گئے اور اپنے چہیتے بیٹے کے پاس چلے گئےانہوں نے ایک مرتبہ پھر بھر آئی ھوئی آواز میں کہا کہ میں کس کس کو یاد کر کے روئوں میرے تو آنسو ہی خشک ہو گئے ہیں میں نے بہت صبر کر رکھا ہے اور دل کو مضبوط کر رکھا ہے میرے دوسرے بچو ں کو بھی سنبھالنا ہے میں نے تو اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنے بیٹے کا ذکر کرنا بھی چھوڑ دیاہے اور میڈیا میں حسن شہید کے حوالے سے بات چیت بھی نہیں کرتی ۔

حسن کے والد کی زندگی میں بات مختلف تھی لیکن اب میں نے بھی اپنی زندگی بد ل ڈالی ہے حسن کے واقع نے سب کچھ ہی بدل دیا ھے اس حوالے سے شہدا اے پی ایس فورم کے نمائندے اور شہید محمد علی کے والد شہاب الدین نے جنگ جسے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اکثر حسن کے والد کے ساتھ بیٹھے گپ شپ لگاتے اور انہیں سمجھاتے تھے کہ اس غم سے نکلنے کی کوشش کرو تمھارے تو اور بھی بیٹے ہیں لیکن علی ھمارا ایک ہی بیٹا تھا جو شہید ہو گیا اورہم نے بھی دل پر پتھر رکھ لیا لیکن وہ اس درد سے باہر نہیں آ پا رہے تھے اور وہ درد انہیں اپنے ساتھ ہی لے گیا محمد علی شہید کے والد شہاب الدین نے اے پی ایس سانحہ پر ہونے والی عدالتی تحقیقاتی کمشن کی رپورٹ اور موجودہ صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہدا اے پی ایس فورم کے عہدیداران اور نمائندوں ا جو ن خان ایڈوکیٹ، گل شہزاد خٹک اور ناصر جمال اور میرا (شہاب الدین )کا موقف ہےکہ حکومتی ارکان بشمول وزیراعظم عمران خان نے عدالتی تحقیقاتی کمشن کی پورٹ پڑھی ہی نہیں ہے اور اس میں کیا لکھا ہے اس سے وہ آگاہ نہیں ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عدالتی تحقیقاتی کمشن کو رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا تو رپورٹ پبلک ہوئی ہے تاہم حکومت کے طالبان کے ساتھ ہاتھ ملانے پر ہمارے تحفظات ہیں ہمیں کہا گیا تھا کہ یہ افغانستان کے طالبان ہیں اور اب انہیں عام معافی دینے کا اعلان کیا گیا اور اس بڑے سانحے کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے حکم پر وزیراعظم کی خصوصی تین رکنی ٹیم عمر ایوب، زرتاج گل اور ساجدہ خان پر مشتمل ھم سے ملنے آئی تھی لیکن اس کمیٹی کے آنے کے مقاصد ہمیں سمجھ نہیں آئے کسی نے بھی رپورٹ پڑھی تک نہیں تھی عدالتی تحقیقاتی کمشن کی رپورٹ پر ایک نظر، آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے حملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دے دیا اس وقت کےچیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ حکم سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور پر لئے گئے۔

ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران دیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سینئر جج پر مشتمل کمیشن بنائیں جو چھ ہفتے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کروائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میں لواحقین سے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے کمیشن کے قیام کا زبانی حکم جاری کیا لیکن تحریری حکم جاری نہ کر سکا، اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ پشاور بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

چیف جسٹس نے لواحقین کو یقین دہانی بھی کروائی کہ ’میں آپ کے سامنے ابھی حکم جاری کرتا ہوں جس میں تاخیر نہیں ہو گی۔ پوری قوم آپ کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور آپ کو انصاف ملے گا۔ تاہم بعد ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار رہٹائر ھو گئے اور چھ سال گزرنے کے بعد آرمی پبلک سکول پر حملے کی عدالتی تحقیقات کمشن کی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی گئی۔ 

جس میں اے پی ایس پرحملہ ’سکیورٹی کی ناکامی‘ قرار، دیا گیا سپریم کورٹ کا عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کے حکم پر اسے پبلک بھی کیا گیا ھےپشاور میں سنہ 2014 میں آرمی پبلک سکول پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کے لیے تشکیل پانے والے عدالتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس واقعے کو سکیورٹی کی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے نے ہمارے سکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے چھ برس قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر شدت پسندوں کے حملے سے متعلق تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن کی رپورٹ عام کرنے کا حکم دیا تھا۔

یہ کمیشن پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد ابراہیم خان پر مشتمل تھا اور اس نے 500 سے زائد صفحات پر مشتمل سانحہ آرمی پبلک سکول کی رپورٹ جولائی 2020 میں چیف جسٹس آف پاکستان کو بھیجی تھی۔۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند سکول کے عقب سے بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سکیورٹی گارڈز نے مزاحمت کی ہوتی تو شاید اتنا جانی نقصان نہ ہوتا۔س رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ افغانستان سے شدت پسند مہاجرین کے روپ میں پاکستان میں داخل ہوئے اور ان شدت پسندوں کو مقامی افراد کی طرف سے ملنے والی سہولت کاری کو کسی طور پر بھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر اپنا ہی خون غداری کر جائے تو اس کے نتائج بڑے خطرناک ہوتے ہیں موجودہ صورت حالْ۔۔۔۔۔۔ 10 نومبر کو چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ عدالت نے مختصر نوٹس پر وزیراعظم عمران خان کو طلب کیا تھا جو بعد ازاں عدالت میں پیش ہوئے تاہم ۔ اے پی ایس پشاور حملے سے متعلق کیس نے حکومت کو وزیراعظم کے دستخطوں کے ساتھ پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کردی تھی تاہم عدالتی حکم نامے کے مطابق حکومت کو 10 دسمبر تک وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ رپورٹ پیش کرنا تھی۔

وفاقی حکومت نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) حملہ کیس کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے جمعرات کو سپریم کورٹ سے تین ہفتوں کا وقت مانگ لیا۔ جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے اس معاملے میں سول متفرق درخواست (سی ایم اے) دائر کی اور وزیراعظم کے دستخط کے ساتھ پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کے لیے تین ہفتے کا وقت مانگا۔حکومت نے موقف اختیار کیا کہ 16 دسمبر کو اے پی ایس حملے کی برسی منائی جارہی تھی، وزیراعظم نے شہید بچوں کے والدین سے ملاقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ 

وفاقی حکومت نے درخواست میں جمع کہا کہ "یہ مناسب ہوگا کہ والدین کے ساتھ کمیٹی کی میٹنگ کے اختتام کا انتظار کیا جائے۔"کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وزیر اقتصادی امور عمر ایوب خان، وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور ریاستوں اور سرحدی علاقوں کے وزیر صاحبزادہ محمد محبوب سلطان شامل ہیں۔