• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی دار الحکومت کی پار لیمانی سر گر میاں تین ہفتوں کے وقفے کے بعد دو بارہ بحال ہوگئی ہیں۔

 قومی اسمبلی اور سینٹ کے ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہیں، حکومت نے اس سیشن میں منی بجٹ کا بل بھی پاس کرانا ہے جس کیلئے آئی ایم ایف کا دبائو ہے ۔

 اپوزیشن کی جانب سے اس ایشو پر حکومت کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ ےگا۔ 

منی بجٹ سے مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ ئے گا ۔ منی بجٹ کے بل کی منظوری حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ اپو زیشن سخت مزاحمت کرے گی ۔ 

اپو زیشن کی کوشش ہوگی کہ منی بجٹ کا بل منظور نہ ہوسکے کیونکہ مالی بل پر شکست کو حکومت پر عدم اعتماد تصور کیا جا تا ہے ۔ 

اپوزیشن اس کیلئے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں اور ناراض حکومتی ممبران سے رابطے کر رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو ایک بار پھر بل منظور کرانے کیلئے خود متحرک ہونا پڑے گا لیکن اس بار انہیں بعض دوست مدد کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے ان کی یاد وزیر اعظم کو ضرور آ ئے گی۔ 

اسلام آ باد کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیر معمولی اجلاس کی میز بانی کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس کا نفرنس کے انعقاد سے بہر حال پی ٹی آئی حکومت کو کم ازکم سفارتی محاذ پر ضرور کا میابی حاصل ہوئی ہے۔ 

اسلام آ باد سفارتی سر گر میوں کا مرکز بن گیا۔ اس کا نفرنس کے انعقاد سے پاکستان کے بارے میں یہ تاثر بھی زائل ہوگیا ہے کہ بین الا قوامی ایونٹس کیلئے پا کستان سیکیورٹی کے اعتبار سے محفوظ ملک نہیں ہے۔ 

اس سے مستقبل میں بین الا قوامی کرکٹ میچز کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگی۔ بین الا قوامی سر مایہ کا روں کا اعتماد بحال ہو گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ افغانستان میں بھوک جو انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اس کی جانب عالمی برادری کی توجہ کا میابی سے مرکوز کرا لی گئی ہے۔ 

 وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مسلسل عالمی برادری کی توجہ افغانستان کی جانب مبذول کر اہے ہیں جسے سنگین مالی بحران کا سامنا ہے ۔ 

اس کا نفرنس کے انعقاد کا مقصد بھی یہی تھا کہ کم ازکم مسلمان ملکوں کو افغانستان کی ضرورمدد کرنی چاہئے۔ ویسے تو عالمی برادری بالخصوص امریکہ اور مغربی ملکوں کو چاہئے کہ وہ اپنی موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کریں ۔ 

افغانستان کے منجمند فنڈز بحال کئے جا ئیں ۔ افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرکے اسے عالمی دھارے میں لایا جا ئے۔ طالبان حکومت نے اب تک لچکدار رویہ اپنایا ہے ۔ 

حکومت میں دوسرے گروپوں کی نمائندگی کا ایشو بھی بات چیت سے حل ہو سکتا ہے۔ پا کستان نے افغا نستان کے اچھے ہمسایہ ملک اور مخلص دوست اورمسلم برادر ہونے کا بھر پور حق ادا کیا ہے۔ 

پا کستان ہمیشہ افغا نستان میں امن و استحکام اور اس کی ترقی کا خوا ہاں رہا ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے مفاد میں ہےلیکن پا کستان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ افغان قیادت اپنے مسائل باہمی مشاورت سے خود حل کرے۔ پا کستان نے مفاہمت کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔او آئی سی کا نفرنس کے انعقاد سے افغانستان کا مسلہ اجاگر ہوا ہے۔ 

مسلم امہ کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ افغانستان کی مدد اسلئے بھی ضرروی ہے کہ وہاں کا معاشی بحران حل نہ ہوا تو افغان مہاجرین کی پا کستان آ مد دو بارہ شروع ہو جا ئےگی بلکہ یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ 

ابھی تک تو 40سال پہلے آنے والے افغان مہاجرین کی واپسی مکمل نہیں ہوئی ۔ افغان مہاجرین کی وجہ سے پا کستان کو بہت سے سماجی ‘ سیا سی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ توقع ہے کہ او آئی سی کا نفرنس افغانستان کو در پیش چیلنجز اور مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگی ۔

او آئی سی کانفرنس کے انعقاد سے نہ صرف افغان ایشوکو اجاگر کرنے میں مدد ملی ہے بلکہ کشمیر ایشو بھی اجاگر ہوا ہے۔ 

جب تک تنا زعہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر یوں کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جا تا اس وقت تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے ۔ مسئلہ کشمیر پاک بھارت تعلقات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔جہاں تک ملک کی سیا سی صورتحال کا تعلق ہے تو یہ ابھی تک مقتدر حلقوں سے رابطوں اور گارنٹیوں کے حصول تک محدود ہے۔ یہ معاملہ ابھی دھند کا شکار ہے۔

 یہ دھند چھٹنے میں وقت لگے گا اور مارچ تک سیا سی منظر نامہ واضح ہو گا۔ پی ڈی ایم نے مارچ میں دھرنے کا فیصلہ کرکے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ کم ازکم مارچ تک وہ سڑکوں پر احتجاج یا دھرنوں سے حکومت کے خلاف کچھ کرنے کی پو زیشن میں نہیں ہیں سوائے عدم اعتماد کے آپشن کو استعمال کرنے کے ۔ 

درحقیقت حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ ہے بھی نہیں ۔ اس حکومت کو خطرہ اپنی معاشی نا کامیوں اور بری گورننس سے ہے جس کے بوجھ تلے یہ دبی ہوئی ہے۔ سوا تین سال گزرنے کے با وجود اور با ر بار معاشی ٹیم بدلنے کے باوجود معیشت مستحکم نہیں ہوسکی ۔ 

مہنگائی کاجن حکومت کے قا بو میں نہیں آ رہا۔مہنگائی میں کمی آ نے کی بجا ئے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر ستم بالا ئے ستم یہ کہ وزراء مہنگائی کا جواز پیش کر رہے ہیں ۔ دوسرے ملکوں سے موازنہ پیش کیا جا رہا ہے۔ 

موٹر سائیکلوں کی فروخت کے اعداد و شمار پیش کئے جا رہے ہیں ۔ خانیوال کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار کو13ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی جبکہ 2018میں یہ فرق صرف 5ہزار کا تھا۔ 

اس سے واضح ہو تا ہے کہ پی ٹی آئی کا گراف عوام میں گر رہا ہے۔پیپلز پارٹی نے 2018سے زیادہ ووٹ لئے ہیں ۔ اب بھی مسلم لیگ ن پنجاب کی سب سے بڑی اور مقبول جما عت ہے۔ پیپلز پارٹی کو اپنی جگہ بنا نے کیلئے محنت کی ضرورت ہے۔ اس کا ووٹر پی ٹی آئی میں جاچکا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسے واپس لانے میں کس حد تک کا میاب ہو پا ئے گی۔مسلم لیگ کی ساری توجہ اپنی صف بندی پر ہے۔ دھڑے بندی کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

شہباز شریف شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول امیدوار ہیں مگر وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا فیصلہ صرف نواز شریف ہی کرسکتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم شا ہد خا قان عبا سی مسلم لیگ ن میں مریم نواز کیمپ کے نمائندے تصور کئے جاتے ہیں ۔

 ان کی جانب سے یہ اعلان کہ مسلم لیگ کے وزارت عظمیٰ کے اگلے امیدوار شہباز شریف ہوں گے در اصل اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے ۔مسلم لیگ ن کے اند ر دو دھڑوں یا دو بیانیہ کی وجہ سے اب تک کافی سیا سی نقصان ہوچکا ہے۔ پیپلز پارٹی ن لیگ کی اس تذبذب اور ابہام کی کیفیت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے اور پنجاب میں قدم جمانے کیلئے پر تول رہی ہے۔ 

ن لیگ کے کارکن اس ابہام اور گو مگو کی کیفیت سے پریشان تھے لھذا بالا ٓ خر شہباز شریف کے بیانیہ کو نواز شریف نے مان لیا۔اب ن لیگ یکسوئی کے ساتھ شہباز شریف کے بیانیہ کے ساتھ آگے بڑھ سکے گی۔ 

 مریم نواز کا جا رحانہ رویہ اب شاید دیکھنے کو نہ ملے۔ حکو مت تبدیل ہو ئی تو نواز شریف بھی پا کستان واپس آ جائیں گے ۔انہیں پہلے جیل جا نا پڑے گا لیکن بدلے ہوئے حالات میں انہیں ضمانت ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ان کے آنے سے پارٹی مضبوط ہوگی ۔ 

بہر حال نئے سا ل میں کئی نئی سیا سی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔2022سیا سی تبدیلیوں کا سال ہے۔ نئی صف بندیوں کا سال ہے۔ مارچ میں بہار کا موسم نئی خبریں سنا ئے گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید