• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ مری کے ذمہ داروں کے تعین کیلئے حکومت پنجاب کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں ان عوامل کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے طوفانی برفباری میں بچوں سمیت 22سیاح جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ میں اس افسوسناک حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ محکمہ موسمیات کے پیشگی خبردار کرنے کے باوجود انتظامیہ نے بروقت حفاظتی اقدامات کیے، مشکلات سے بچنے کے لیے سیاحوں کو آنے سے روکا نہ ان کی رہنمائی کا مناسب بندوبست کیا۔ معاملے کا المناک پہلو یہ بھی ہے کہ مقامی انتظامیہ ان جان لیوا لمحات میں منظر سے غائب پائی گئی۔ موت کا کھیل رات بھر جاری رہا جبکہ انتظامیہ نے اپنا ایکشن صبح 8بجے شروع کیا۔ اگر فوجی جوان رات ہی کو امدادی کاروائیوں کے لیے نہ پہنچ جاتے تو جانی نقصان اس سے بھی زیادہ ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق مری کی سڑکوں کی دو سال سے مرمت ہوئی نہ برف ہٹانے کے لیے ضروری مشینری موقع پر موجود تھی۔ سیاحوں کی اموات کا بڑا سبب کاربن مونو آکسائیڈ بتائی گئی ہے۔ شدید برفباری سے دو چار شیشہ بند گاڑیوں میں اس بے بو گیس کا اخراج انسان کو خاموشی سے موت کی نیند سلادیتا ہے کیونکہ بند ماحول کے باعث اس کے جسم میں آکسیجن کی گردش رک جاتی ہے۔ اگر یہ بات اشتہارات یا کسی دوسرے طریقے سے لوگوں کو پیشگی بتادی جاتی تو اتنے بڑے المیے سے بچاجاسکتا تھا۔ اتوار کو سانحے میں جان بحق ہونے والوں کو لواحقین کی آہوں اور سسکیوں کے درمیان سپرد خاک کردیا گیا۔ سیاحوں کے مری آنے پر پابندی بھی لگادی گئی اور بعض دوسرے اقدامات بھی کیے گئے مگر معمولات زندگی پوری طرح بحال نہیں ہو سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے مرحومین کے لیے فی کس آٹھ آٹھ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے جو انسانی جانوں کا نعم البدل تو نہیں ہو سکتا مگر اس سے متاثرہ خاندانوں کی کسی قدر اشک شوئی ضرور ہوگی۔ فضائی دورے کے بعد وزیراعلیٰ نے مری کو ضلع کا درجہ دینے، رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے فنڈز، دو پارکنگ پلازے اور دو نئے تھانے بنانے کا بھی اعلان کیا جس سے مری کے لوگوں کے علاوہ سیاحت کے لیے آنے والوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ سیاحوں پر جو افتاد آئی اس میں مقامی لوگوں نے پوری طرح ان کا ساتھ دیا اور اکثر کو اپنے گھروں میں پناہ دی لیکن ہوٹل والوں نے ان کے ساتھ جو سنگدلانہ سلوک کیا اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہوٹل مالکان نے ان کی بےبسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے کمروں کےکرایوں میں کئی گنا اضافہ کردیا۔ اس لیے بیشتر افراد نے اپنی گاڑیوں میں ٹھٹھرتے تڑپتے رات گزاری۔ ایک شخص نے مجبوری میں اپنی بیوی کا زیور دے کر پناہ حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں اس سے بھی زیادہ برف پڑتی رہی مگر اتنی اموات کبھی نہیں ہوئیں۔ اپوزیشن نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس سانحے کے حوالے سے بحث کرانے اور احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم پہلے ہی انکوائری کا حکم دے چکے ہیں۔ حکومت پنجاب کی تحقیقاتی کمیٹی کو سات دن میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اس طرح کی تحقیقات میں جو سفارشات پیش کی جاتی ہیں وہ عموماً عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنا دکھ بھول جاتے ہیں اور حکومتیں بھی خاموشی میں ہی عافیت سمجھتی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سیاحوں کے لیے دلکش اور محفوظ بنانے کی غرض سے ان سفارشات پر مکمل عملدرآمد کرایا جائے۔ پاکستان سیاحوں کیلئے بڑی کشش رکھتا ہے اور مری کے علاوہ بھی سیکڑوں مقامات ان کی نگاہوں کا مرکز ہیں۔ پاکستان سیاحت کے ذریعے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ سانحہ مری کے المناک تجربے کی روشنی میں سیاحوں کیلئے تمام حفاظتی اقدامات اور سہولتوں کو یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔

تازہ ترین