• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2026 میں دنیا کے خاتمے کا دعویٰ، وائرل خبروں کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سال 2025 کے اختتام سے ہی سوشل میڈیا پر یہ دعوے تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں کہ دنیا 2026 میں ختم ہو جائے گی، ٹک ٹاک ویڈیوز سے لے کر سنسنی خیز سوشل میڈیا پوسٹس تک 2026 میں کسی بڑی تباہی کے خدشات نے عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ان قیامت خیز پیشگوئیوں کی حقیقت کیا ہے اور 2026 کو انسانیت کے خاتمے کا سال کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ 2026 میں دنیا کے خاتمے کا یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی سائنسی توثیق موجود نہیں، ماہرین کے مطابق یہ نظریہ دراصل پرانے اور غیر مصدقہ نظریات، انتہاپسندانہ پیشگوئیوں اور عالمی سطح پر پائی جانے والی بے چینی کا مجموعہ ہے۔

اس وائرل رجحان کی ایک بنیاد جرمن نژاد سائنسدان ہائنز فان فوسٹر کے 1960 کی دہائی میں پیش کیے گئے ایک ریاضیاتی ماڈل کو قرار دیا جاتا ہے، اس نظریے کے مطابق انسانی آبادی 2026 تک اس حد تک بڑھ سکتی ہے جہاں اس کا برقرار رہنا مشکل ہو جائے گا، اس تصور کو بعض افراد نے غلط طور پر سنگولیرٹی سے جوڑتے ہوئے دنیا کے خاتمے سے تعبیر کر لیا۔

ایک اور وجہ ریٹائرڈ امریکی ماہر ماحولیات گائے مکفرسن کی پیشگوئیاں ہیں، جو طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آ رہے ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث زمین تباہی کے دہانے پر ہے، اگرچہ انہوں نے انسانی تہذیب کے ممکنہ زوال کی بات کی، تاہم ان کے بعض حامیوں نے 2026 کو علامتی طور پر انسانیت کے خاتمے کا سال بنا دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2026 میں دنیا کے خاتمے کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں، تاہم لوگ ماحولیاتی تبدیلی، قدرتی وسائل کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی، ٹیکنالوجی سے جڑے خطرات اور عالمی کشیدگی جیسے عوامل کو کسی بڑے بحران سے جوڑ رہے ہیں۔

نفسیاتی اور معاشرتی عوامل نے بھی ان افواہوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل مواد تیزی سے پھیلتا ہے اور بار بار شیئر کی جانے والی پوسٹس لوگوں میں اس غلط فہمی کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ دنیا واقعی 2026 میں ختم ہو سکتی ہے۔

ماہرین واضح کرتے ہیں کہ ایسی خبروں پر یقین کرنے کے بجائے مستند سائنسی ذرائع اور حقائق پر توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ خوف اور افواہوں کا پھیلاؤ خود ایک بڑا سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید