• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی فن کو بھارت میں اس لیے اجازت نہیں ملتی کیونکہ یہ انکے بیانیے کو کمزور کر دیتا ہے: عتیقہ اوڈھو

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی فن پر پابندی عائد کرتی ہے، کیونکہ ہمارے ڈرامے اور فلمیں ایک منظم پروپیگنڈا بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں اور اسے کمزور کرتے ہیں۔

حال ہی میں سینئر اداکارہ نے نجی میڈیا کو انٹرویو دیا، جہاں انہوں نے مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ دورانِ انٹرویو انہوں نے بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کی مخالفت پر بھی کھل کر بات کی اور ثقافتی تبادلے، سیاست کے اثرات اور باہمی احترام کے فقدان پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

سینئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی پروڈکشن ہاؤسز کو اپنے پروجیکٹس میں پاکستانی اداکاروں کو کاسٹ کرنے کے لیے ایک مخصوص فوجی فنڈ جمع کروانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ شرط بھارتی فلمی اداروں کی جانب سے عائد کی جاتی تھی، جو اس دور میں فن اور سیاست کے باہمی تصادم کی ایک واضح مثال تھی۔ 

عتیقہ اوڈھو کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات ناصرف فنکارانہ آزادی کے منافی تھے بلکہ ثقافتی تبادلے کے عمل کو بھی شدید متاثر کرتے رہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ مجھے پوری دیانت داری سے کہنا ہوگا کہ میں ایسے معاملات پر منقسم ہوں۔ ایک طرف میرا ماننا ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، لیکن دوسری طرف خود داری ہر انسان کے لیے اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے برسوں تک بطور فنکار اور فلم ساز بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہم نے ان کی فلمیں ریلیز کیں اور ان کے اداکاروں کو پاکستان مدعو کیا۔ ہمارے ڈرامے وہاں بھی بے حد مقبول ہیں، مگر بدقسمتی سے سیاست بیچ میں آجاتی ہے۔

سینئر اداکارہ نے مزید کہا کہ اب بھارت مسلسل ہمارے خلاف مواد بنا رہا ہے، ہمیں تنقید اور گالیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، یہ سب بہت ہو چکا۔ ثقافتی تبادلہ باہمی ہونا چاہیے، ورنہ اس کی کوئی گنجائش نہیں۔

عتیقہ اوڈھو نے کہا کہ بھارت نے سیاست کی بنیاد پر ہماری فلمیں ریلیز نہیں کیں۔ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ نے عالمی سطح پر شاندار کامیابی حاصل کی، مگر اسے بھارت میں ریلیز نہیں کیا گیا۔ ان کے رویّے کے باعث ہم نے بھی ان کی فلموں پر پابندی عائد کی۔ یہ نفرت کا معاملہ نہیں، بلکہ رویّے کا مسئلہ ہے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید