• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قلم ہاتھ میں پکڑے اِسی سوچ میں غلطاں ہوں کہ برف کی قبر میں دفن ہونے والے نوجوانوں کا نوحہ لکھوں یا معصوم بچوں کی بےبسی کا، نوجوان پولیس افسر نوید کی درد میں ڈوبی آہوں کا تذکرہ کروں یا برف باری کا نظارہ کرنے والے سات بہنوں کے اکلوتے بھائی کی جواں مرگی کا ذکر کروں یا مردان کے دور افتادہ علاقے سے آ کر مری کے پہاڑوں میں بےبسی کی موت کا شکار ہونے والے چار دوستوں کی موت کا نوحہ لکھوں؟ بند گاڑیوں میں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جگر گوشوں کا موت کی آغوش میں جانے کا تذکرہ کروں یا بچوں کے سامنے موت کے ہاتھوں بےبس ہونے والے والدین کا ذکر کروں، راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کی نااہلی کا ماتم کروں یا مری کی تحصیل انتظامیہ کی بےبسی کا، عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے حکومتی وزرا کے بیانات کا ذکر کروں یا اعلیٰ ترین حکومتی عہدیداروں کی غفلت کا، وزیراعلیٰ پنجاب کی سادگی سے بھرپور نالائقی کا ذکر کروں یا خوش فہمی کے شکار وزیراعظم کا، ہر طرف ماتم ہی ماتم ہے، میرے چاروں اطراف نوحے ہی نوحے ہیں، آنکھیں بند کرتا ہوں تو سامنے معصوم بچوں کی لاشیں دکھائی دینے لگتی ہیں اور آنکھیں کھولتا ہوں تو تاریخ کی نالائق ترین حکومت کے کارنامے دماغ کو سن کر دیتے ہیں، مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اگر کوئی روشنی کی کرن ثابت ہوئی ہے تو وہ پاک فوج ہے، نااہلی کے بازار میں اگر کوئی اہلیت کا پرچم لے کر نکلا ہے تو وہ فوج کے جری جوان ہیں، برف کی قبروں میں دفن ہوئے لوگوں کو نکالا ہے پاک فوج نے، کئی گھنٹوں سے بےبسی کے ساتھ سڑکوں پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں پہنچایا ہے تو پاک فوج نے، ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج کے جوانوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ یہی وہ واحد ادارہ ہے جو اپنی پوری طاقت کے ساتھ نہ صرف قائم ہے بلکہ ہر مشکل وقت میں متحرک ہوتا ہے۔

مری میں لوگ پہلی دفعہ جمع نہیں ہوئے بلکہ ہر سال لاکھوں افراد اس پُرفضا سیاحتی مقام کا رخ کرتے ہیں، اگر میں یہ کہوں تو بےجا نہ ہوگا کہ مری اس وقت غریب اور متوسط طبقے کی واحد سیرگاہ ہے۔ لوگ سارا سال پیسے جمع کرتے ہیں تب جاکر معمولی تفریح کر پاتے ہیں۔ جب حکومتی وزراء کے بیانات دیکھتا ہوں تو ان کی بےخبری پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جن کو نہ حقائق کا ادراک ہے اور نہ ہی زمینی حقیقتوں سے باخبر ہیں۔ جن لاکھوں گاڑیوں کو وہ پاکستانی معیشت کی خوشحالی سے تعبیر کر رہے تھے دراصل وہ پائی پائی جمع کرکے برف باری کا نظارہ کرنے آئے تھے۔ لاکھوں لوگوں کے جمِ غفیر کو حکومت اپنی کامیابی سے تعبیر کر رہی تھی جبکہ حقیقت میں یہ مہنگائی کے ستائے وہ لوگ تھے جو کچھ لمحے اپنے بچوں کے ہمراہ اس پُرفضا مقام پر گزارنے کے لیے آئے تھے لیکن قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ یہی برف اُن لوگوں کے لیے قبر بن گئی۔ پوری دنیا میں قدرتی آفات آتی ہیں لیکن حکومتیں اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کرتی ہیں۔ یہاں 24گھنٹے لوگ چیختے رہے لیکن حکومتی کانوں پر جوں تک نہ رینگی، سوشل میڈیا پر شور بلند ہوتا رہا لیکن عملی اقدامات صفر رہے جس کے نتیجے میں یہ انسانی المیہ وقوع پذیر ہوا۔ تکلیف کے دوران لوگوں نے ایک مرتبہ پھر شدت سے چوہدری پرویز الٰہی اور میاں شہباز شریف کے دورِ حکومت کو یاد کیا۔ میاں شہباز شریف تو ہر سال برف باری کا موسم شروع ہونے سے پہلے تمام انتظامات کی نگرانی خود کیا کرتے تھے۔ نہ صرف مشینوں کی سالانہ دیکھ بھال کی جاتی تھی بلکہ باقاعدہ ایس او پیز جاری کی جاتیں جن پر سو فیصد عمل ہوتا تھا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی ریسکیو 1122نے اِس سانحہ میں عظیم کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف حکومتی نااہلی عروج پر تھی وہاں پر غیرحکومتی ادارے ایک مرتبہ پھر متحرک ہو کر سامنے آئے۔ ضیاالامت فاؤنڈیشن، مسلم ہینڈز اور الخدمت فاؤنڈیشن، جیسی تنظیموں نے فقید المثال کام کیا۔ بلاتفریق مذہب، مصیبت کا شکار لوگوں کی مدد کی اور فوج کے شانہ بشانہ لوگوں کو ریسکیو کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ غیرسرکاری تنظیموں کا یہ کردار ہمیشہ یاد رکھا جاے گا لیکن مری کے ہوٹل مافیا کا مکروہ کردار ایک مرتبہ پھر کھل کر سامنے آیا۔ ہم کیسے لوگ ہیں کہ مصیبت میں بھی لوگوں کی جیب خالی کرنے سے باز نہیں آتے۔ 100روپے کی چیز 1000روپے میں فروخت کی۔ 1000روپے والے کمرے کے 30ہزار وصول کیے گئے۔ ہیٹر کے نام پر الگ چارجز لیے گئے۔ گاڑی پارک کرنے کے نام پر پانچ پانچ ہزار وصول کیے گئے۔ لوگوں کی بےبسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکومت کی ناکامی ہے کہ وہاں پر چیک اینڈ بیلنس کا کوئی موثر نظام کام نہیں کر رہا تھا۔ پہلے ہوٹل مافیا نے دباؤ ڈال کر رکاوٹیں دور کروائیں اور بےتحاشا لوگ مری میں داخل ہو گئے اور پھر اسی ہوٹل مافیا نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جو انتہائی شرمناک ہے۔ آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات کی تجویز پیش کرتا ہوں۔

1۔مری سمیت تمام سیاحتی مقامات کی ایڈمنسٹریشن کا الگ نظام وضع کیا جائے۔ 2۔نئے سیاحتی علاقے دریافت کیے جائیں اور وہاں پر وہی سہولیات فراہم کی جائیں جو مری میں موجود ہیں۔ 3۔سیاحتی مقامات پر چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام وضع کیا جائے۔ 4۔مخصوص موسمی حالات کے متعلق میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم شروع کی جائے۔ 5۔برف باری والے علاقوں میں برف صاف کرنے والی مشینری کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ 6۔تمام سیاحتی مقامات کی جانب جانے والی سڑکوں پر ہر 10کلومیٹر کے بعد ریسکیو پوائنٹ تعمیر کیے جائیں جہاں پر ضروری سہولیات دستیاب ہوں۔ 7۔مقامی افراد کی اخلاقی اور ذہنی تربیت پر زور دیا جائے تاکہ اس قسم کے سانحات میں وہ انسان دوست ہونے کا ثبوت دے سکیں۔

تازہ ترین