• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے آپشنز کھلے ہیں، عامر خان

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما عامر خان نے وفاقی حکومت  کے ساتھ رہنے اور نہ رہنے سے متعلق بتادیا۔

جیونیوز کے پروگرام’ آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے  ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے کہا کہ حکومت کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ان کے آپشنز کھلے ہوئے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ ان کی جماعت پی ٹی آئی کی پابند نہیں ہے، جب مناسب سمجھیں گے فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اب حکومت ان کی جماعت کو کوئی وزارت دے گی بھی تو حکومت کے سامنے ہاتھ جوڑیں گے، کیونکہ معاشی پالیسیوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اب ان کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، ہم اب مزید یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

عامر خان نے کہا کہ اپوزیشن قیادت سےبات ہوئی، وہ عدم اعتماد پر بات کرنا چاہتےہیں، ابھی واضح نہیں کی تحریک عدم اعتماد کی پوزیشن کیا ہے، حکومت کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے سے متعلق آپشنز کھلے ہیں، ابھی ہم وفاقی حکومت کے اتحادی ہیں۔

 رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ ایم کیوایم کو دو وزارتیں دینےکی بات ہوئی تھی، اس میں وزارت قانون شامل نہیں، وفاق میں ایم کیوایم کو ایک وزارت دی گئی ہے، فروغ نسیم کوان کی قانونی مہارت کےسبب وزیراعظم نے وزیر بنایا۔

 عامرخان نے کہا کہ معاشی پالیسیوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اب ہماری ٹانگیں کانپ رہی ہیں، ان کی مجبوری اپنی جگہ لیکن ہم عوام کو جواب دہ ہیں، پچھلی حکومتوں پر الزامات لگائے جاتے تھے، آج آپ مجبور ہیں تو پچھلی حکومت بھی مجبور ہوگی،حکومت کو اپنی پالیسی بدلنی چاہیےتھی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے دو وقت کی روٹی کھاتےتھے، آج ایک وقت کی روٹی بھی مشکل ہوگئی ہے، فیصلہ کرتے وقت ہماری بھی مشکلات ہوتی ہیں، ہمیں عوام کی رائے کو بھی سامنے رکھنا پڑتا ہے۔

عامر خان نے کہا کہ اگر کالز پر سیاست ہو تو سیاست بند کردینی چاہیے، ہمیں فون کالز آتی ہیں نہ ہم فون کالز پر یقین رکھتےہیں، اپوزیشن اپناواضح موقف لےکرآئےکہ وہ کب عدم اعتماد لارہی ہے، پیپلزپارٹی نے سندھ میں شہری آبادی کو دیوار سے لگایا اس پر بھی کوئی لائحہ عمل ہونا چاہیے۔

رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ ہم سندھ کےایشوز کو بھی سامنے رکھیں گے اور رابطہ کمیٹی فیصلہ کرےگی، ہم نے بلدیاتی اداروں سے متعلق بھی بات کی، شہری علاقوں کو سرکاری بھرتیوں میں نظرانداز کیا گیا،40 فیصد کوٹہ پر بھی جعلی ڈومیسائل بنا کر بھرتیاں کی جا رہی ہیں،ہمیں سندھ میں اختیارات چاہییں۔

عامر خان نے کہا کہ بلدیاتی قانون کےخلاف احتجاج پر ہماری خواتین پر لاٹھی چارج کیا گیا، ہمیں کوئی کال نہیں آئی، کسی اور کو کال آتی ہے یا نہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

قومی خبریں سے مزید