مشتاق احمد یوسفی، اسد محمّد خاں، شکیل عادل زادہ، آصف فرخی، مبین مرزا، انورسِن رائے، افضال احمد سیّد، حسن منظر وغیرہ جیسے سینیر ادیب ہوں یا سیّدکاشف رضا، رفاقت حیات، اقبال خورشید وغیرہ جیسے نسبتاً جوان ادیب سبھی مل جُل کر رہتے تھے۔ اس فرق کو زیادہ واضح طور پر کسی تیسرے مقام پر کھڑے ہوکر جانچا جاسکتا ہے اور اس کی نفسیاتی توجیہات ایک سنجیدہ تجزیےکاتقاضاکرتی ہیں۔
اس حقیقت کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ آج بھی بڑے ادیب اور زیادہ باصلاحیت اداکار، مصوّر، گلوکار اور فنون کے ماہرین زیادہ تر پنجاب ہی سے تعلق رکھتےہیں، بس اُن کی پہچان اور معاشی کفالت کے ذرائع کراچی منتقل ہوتے جارہے ہیں۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اسٹیج تو کراچی میں سجا ہے، جب کہ نمایاں اداکار پنجاب سے تشریف لاتے ہیں۔ ایسی محافل میں بعض اوقات ایسے لوگوں کو بھی فکری موضوعات پر خیال کی دعوت دی جاتی، جو عوام النّاس میں اداکاری اوردیگر شعبوں کی وجہ سے معروف تھے۔
یہ بھی عجب چلن ہے، کھلاڑی سے کھیل، گلوکار سے گائیکی، ادیب سے ادب اور دانش وَر سے فکری موضوعات کا پوچھا جاناچاہیے۔اب ایک فنکار سےبین الاقوامی معاملات اور گائیک سے جدید ادب پر بات کی جائے گی تو کوئی نئی یاگہری بات سُننے کی توقع عبث ہے۔ مثلاً ایک مرتبہ جب ایک پاپ گلوکار سے پاکستان میں ہوتی دہشت گردی کی وجوہ کا پوچھا گیا تو اس نے اِس کی وجہ امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک شدّت پسند مسیحی تنظیم کو قرار دے کر اپنے سطحی علم اور وقتی طور پر چونکا دینے والے جذبے کو عیاں کردیا۔
اِسی طرح ایک صاحب اسٹیج پر بیٹھ کر خاصی دیر حکیم لقمان کی طب پر مہارت کا اُن کے سوشل میڈیا پر چلتے خود ساختہ اقوال کےحوالے سے بیان فرماتے رہے۔ جب کہ حکیم لقمان کوحکیم، طب کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی حکمت و دانائی کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی محفل میں عوامی طور پر مقبول چہرے لوگوں کی توجّہ حاصل کرنے کے لیے درکارہوتے ہیں اوریہ ضرورت بن جاتے ہیں۔ ایک اور بھی حقیقت کا تذکرہ ناگزیر ہے۔ کراچی ادبی میلے کا آصف فرخی ایک اہم چہرہ ضرور تھے، مگر اس میں اہم ترین کردار امینہ سیّد کا تھا۔
آصف ادیبوں کا انتخاب اور پروگرام ترتیب دیتے تھے، امینہ سیّد فنانسرز کا انتظام، لوگوں کو دعوت، ہوٹل کی بکنگ، آکسفورڈ کے کارکنان اور تعلیمی اداروں سے رضا کاروں کا اہتمام، کھانے سے لے کر سکونت اور ٹرانسپورٹ کا بندوبست، سفارت کاروں سے رابطے اور ان کی جانب سے عشائیوں کی ترتیب اور دیگر بےشمارامور انجام دیتی تھیں۔ آصف کاساتھ اُنھیں ادیبوں، فن کاروں کے انتخاب، اُن سے رابطوں، پروگرام کی ترتیب، اسٹیج پر میزبانی، نظامت کے بندوبست اور ادب سے وابستہ دیگر فرائض کے لیے درکار تھا۔ چوں کہ ادیب اور صحافی بعد میں رپورٹس اور کالمز میں تقریب کا تذکرہ کرتے تھے سو، لامحالہ آصف کاتذکرہ سبقت لےجاتا تھا۔
آصف صاحب کےحوالےسےچھوٹی چھوٹی باتیں اس طرح نظروں کےسامنے سے گزرتی جاتی ہیں، جیسے پہاڑی سفر کے دوران نظروں کے سامنے چلتے اورروح پر اثر کرتےنظارے،سرسبز وادیاں، چنگھاڑتے پتھروں پر سرپٹختے دریا، مترنّم جھرنے، چوٹیوں کو چُھپائے سفید وسُرمگیں بادلوں کےگالے، پھولوں کے قطعے، پائن کےدرخت اور ان درختوں کے تنکوں سے ڈھکی گدیلی پگ ڈنڈیاں، پھل، پھول بیچتے سُرخ و سپید بچّے، پرانے رومانی گانے، سڑک کنارے مکئی بُھونتے، ہردَم مُسکراتے محنت کش، اپنی لپیٹ میں لیتی کانوں، ناک کو سُرخ کرتی شام کی برفیلی ہوا اور شام کے بعد پہاڑی وادیوں کی وحشت ناک، دل کو شریانوں سے اکھاڑ دینے والی اداسی، انترہوت اداسی۔
کراچی میلے اور بعد ازاں اسلام آباد میلے کےبعد آصف صاحب کے دوستوں میں یک دَم بہت اضافہ ہوگیا۔ اب ہروقت اُن کے ہاں کوئی آیا رہتا یا پھر دنیا بھر سے اُنھیں دعوتیں وصول ہوتی رہتیں۔ اِدھر وہ اپنے پرانے دوست راحت کاظمی کے ساتھ کسی کلاسیکی ناول کے بارے میں اپنی یادداشت کا مقابلہ کررہے ہیں، تو اُدھر چند اجنبی انھیں اپنی اور کھینچ رہے ہیں۔ اُن کے شخصیت کا اعتماد بڑھ گیا تھا۔ جھجک اور تردّد نے دوٹوک انکار کو جگہ دے دی تھی۔ البتہ اِس پُراعتمادی میں بھی وہ پرانی دوستیاں، ادب و ادیب پروری نہ بھولے۔ اُنھیں جب کسی اہم ادیب کی آمدکا معلوم ہوتا، اُس سے ملنے کا خاص اہتمام کرتے۔ کوئی بیمار ہوتا تو اس کی بیمار پرُسی کرتے۔
تنہا ہوتا تو اُس سے بات چیت کے لیے وقت نکالتے، اُس کا دل گپ شپ سے بہلاتے۔ ایک امریکی دورے کے دوران وہ وہاں مقیم فلسفی، دانش وَر اور صاحبِ طرز ادیب داؤد رہبر سے ملنے خاص طور پر گئے۔ داؤد رہبر، ضیامحی الدّین صاحب کے کزن تھے اور ضیا صاحب اُنھیں اپنا مرشد مانتے تھے۔ اُن سے ملاقات کے بعدجب وہ پاکستان واپس آئے تو خاصے اُداس تھے۔ اُنھوں نے بتایا کہ داؤد رہبر جیسے نستعلیق آدمی اور اہم اسکالر کو گھریلو زندگی میں خاصی آزمائشوں کا سامنا ہے۔
اُن کی اہلیہ صبیحہ بیگم شادی کے چند برس بعد ہی ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں، تو چھپّن برس تک داؤد صاحب نے اپنی بیوی کی ایک گھریلو ملازم کی طرح خدمت کی، اُس کے پوتڑے دھوئے، اُس کی واہی تباہی برداشت کی، گھرکاکھاناخود بنایا، سب کام کاج کیے، مگر کبھی حرفِ شکایت لبوں تک نہ لائے۔ اور جب کوئی اُن کےگھریلو حالات پر بات کرتا ہےتو یہ ایثارمَنش دانش وَرایسے بھولپن سے موضوع بدل دیتا ہے کہ مخاطب کو واضح طور پر احساس ہو جاتاہے۔ آصف صاحب ایسے اُداس تھے، جیسے اپنی بپتا سُنارہے ہوں۔ داؤد رہبر کاانتقال ہوا، تو ضیا محی الدّین ٹُوٹ پُھوٹ کر رہ گئے اور آج تک اس غم سے پوری طرح باہرنہیں نکل پائے۔ آصف صاحب نے نہ صرف اُن کی مسلسل دل جوئی کی بلکہ میڈیا میں متواتر فون کرکےاُن کے انتقال کی خبر چلوائی۔
ایک روز مجھے ایک صاحب کا فون آیا۔ وہ ایک اکیڈمی میں انسٹرکٹر تھےاوربہت پڑھے لکھے آدمی تھے۔ اُنھوں نے میرا نمبر کہیں سے حاصل کیا تھا۔ بتانے لگے کہ وہ روزنامہ جنگ کے ’’سنڈے میگزین‘‘ میں میرے لکھے خاکے باقاعدگی سے پڑھتے رہے تھے اور میرے افسانوں اور خاکوں کی کتابیں بھی پڑھ رکھی تھیں۔ اُنھیں مجھ سے ملنے کا اشتیاق رہا تھا۔جب کراچی آرٹس کائونسل میں سالانہ عالمی اردو کانفرنس منعقد ہوئی تو وہ اس کے حاضرین میں شامل تھے۔ بقول اُن کے’’آپ اسٹیج پربیٹھے تھے۔
آپ سے پہلے مبین مرزا نے اپنا مقالہ پڑھا۔ کیا شستہ، رواں زبان تھی اُن کی۔ شین قاف درست مخرج سے ادا ہوتے تھے۔ اُن کی زبان سن کر جی خوش ہوگیا۔ اُن کے بعد آپ کی باری تھی۔ جب آپ نے پنجابی لہجے میں اُردو بولنا شروع کی اور آپ کے تلفّظ میں بھی جھول تھا، تو مَیں نے آپ سے ملنےکاارادہ ترک کردیااورآپ سے مِلے بغیر ہی آگیا۔ کہیں آپ فلاں اینکر سے تو متاثرنہیں؟‘‘یہ کہہ کر انھوں نے بلند بانگ قہقہہ لگایا، گویا اپنی شگفتہ بیانی کا لُطف لے رہے ہوں۔ مَیں نے بُجھے لہجے میں اُن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اُنھوں نے اچھا ہی کیاجو مجھ سےنہ ملےوگرنہ قدرت نے میری خامیوں کی جو پردہ پوشی کررکھی ہے، شاید وہ بھی نہ رہتی۔
فون بند کرکے مَیں نے اقبال، ابن انشا اوراس قبیل کے اُن اساتذہ کو یاد کیا، جو پنجابی لہجے میں اردو بولتے تھے۔ یوں اپنے دل کو تسلی دی۔ زبان کے معاملات میں میری سب سے زیادہ رہ نمائی شکیل عادل زادہ نے کی، اُن کے بعد آصف فرخی تھے، جو کسی غلط لفظ یا تلفّظ کی ادائی پر مجھے ٹوک کر درست کردیا کرتے تھے۔ آصف عُمدہ مترجّم تھے، سو،جہاں کہیں مجھے درست مترادف یا موقعے کی مناسبت سے صحیح لفظ کی تلاش ہوتی، مَیں اُنھیں فون کرتااور عبارات والفاظ ہاتھ باندھے اُن کے سامنے قطار بند ہوتے۔ ایک دفعہ مَیں اُن سے ملنے گیا تو وہ بہت خوش تھے۔
گزشتہ روز ہی وہ اپنی بیٹی سے جو LUMS لاہور میں زیرِ تعلیم تھی، مل کر آئے تھے۔ وہ مجھے اشتیاق سے بتانے لگے کہ اُن کی بیٹی کا ایک کلاس فیلو ہے، جو پنجاب کے کسی شہر سے وہاں تعلیم حاصل کرنے داخل ہوا ہے اور اُسے اقبال کا پورا کلام ازبر ہے۔ وہ اپنے والد کے زمانے کو یاد کرنے لگے، جب بہت سے لوگوں کو غالب و اقبال کا کلام حفظ ہوتا تھا۔ اُن کا خیال تھاکہ اقبال کا تذکرہ اب فقط سرکاری اور رسمی طور پر ہورہا تھا۔ اُس لڑکے سے مل کر اُنھیں بہت خوشی ہوئی تھی اور وہ لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اِس خوشی میں شریک کررہے تھے۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کی ایک افتتاحی تقریب کے بعد رات کےکھانے اور محفل میں وہ بہت خوش تھے، لوگوں سے چہلیں کررہے تھے۔ وہ ماڈرن خواتین کے ایک جھرمٹ سے باہر نکلےتو مَیں نے اُن کے موڈ اور موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنھیں جالیا اور کہا ’’آصف صاحب! ایک اچھے ادیب کےلیےمحبت کرنا بلکہ محبتیں کرنا بہت ضروری ہے،تو یہ محبتیں مسلسل جاری رہنی چاہییں۔ بھلے آپ آج تک کےاہم ادیبوں کی معلوم یا خفیہ زندگیوں کا احوال نکال کر دیکھ لیجیے۔‘‘ آصف صاحب مُسکرائے اور بولے۔’’آپ کو یہ خیال کس طرح آیا کہ مَیں نے کبھی محبت نہیں کی؟‘‘اُن کی بات سے میرا جذبۂ شوق فزوں تر ہوا اور مَیں نے اُن کے کان میں سرگوشی کی۔ ’’کون تھی وہ…؟‘‘وہ مسکرائے اور بولے۔’’ارے بھائی ہارورڈ میں میری کلاس فیلو تھی۔
آدھا کالج اُسے دیکھنے آیا کرتا تھا۔ میری کلاس نہ بھی ہوتی، تو بھی اُس کی خاطر کلاس میں جا بیٹھتا تھا۔‘‘میری نظروں کے سامنے جوش ملیح آبادی، تصدّق سہیل وغیرہ گھوم گئے اور مَیں نے روانی میں پوچھا۔ ’’معاملات کہاں تک پہنچے؟‘‘ وہ شرارت سے بولے۔ ’’یک طرفہ محبّت تھی، اُسےتومعلوم بھی نہ تھاکہ میں اُسے پسندکرتا ہوں۔‘‘یہ سُن کرمَیں نےاُن کی شرافت کی بہت تعریف کی اور اپنے آپ کو ملامت کی کہ بے وجہ اپنا وقت ضائع کیا۔ اُس شام وہ بہت خوش تھے اور کچھ کچھ بےخود بھی۔ اور یہ اُن کی وفات سےفقط پانچ برس پہلےکی ایک شام تھی۔
وہ شام آج بھی میرے اندر زندہ ہے، اُن کی آواز، اُن کی مسکراہٹ، وہ رونق، وہ روشنیاں… ایسے جیسے مَیں نے ابھی اپنے کمرے کی کھڑکی کا پردہ سِرکایا اور سامنے دیکھا تو وہ لوگوں میں ایک کھلکھلاتے دُلہے کی طرح گھِرے کھڑے ہیں۔ یہ مضمون لکھتےہوئے، جب خاصی رات بیت چُکی ہے اور کوئٹہ کے گرد پہاڑوں کے ہیولے رات کے اندھیرے میں اپنی شناخت کھوکر تاریک ہوچُکےہیں، مَیں نے کئی مرتبہ فون کی جانب دیکھا ہے کہ آصف صاحب کو فون کر کے درج کردہ واقعات کی جزئیات کی تصدیق کرلوں۔
فون تو اُن کا تب بھی پریشانی کے عالم میں آیا تھا، جب اُنھیں اور امینہ سیّد کو آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس اور میلے سے علیحدہ کردیا گیا تھا۔ اُنھیں کسی مقدمے کا بھی سامنا تھا۔ یہ سب کچھ چند دنوں میں ہوا تھا۔ اِس سے پہلے اُنھوں نے کبھی تذکرہ نہ کیا تھا کہ معاملات اس نہج پر جارہے ہیں۔ ایک جانب وہ پریشانی کے شکار تھے، دوسری جانب ’’ادب فیسٹیول‘‘ کےنام سے ایک اور ادبی میلے کی داغ بیل کا ارادہ باندھ رہے تھے۔ البتہ جب سےوہ آکسفورڈ میلے سےعلیحدہ ہوئے تھے، اُن کی شخصیت میں ایک تبدیلی ضرور آئی تھی۔ وہ ہلکے پھلکے رہنے لگے تھے، جیسے اُن کے کندھوں سے کوئی بھاری بوجھ ہٹالیا گیا ہو۔
ہر معاملے کے کئی پہلو ہوتے ہیں، اِسی طرح اُن کی ادارے اور میلے سے علیحدگی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اگرچہ وہ مرکز توجہ رہےتھے مگر نادانستگی میں کئی لوگوں کو اُن کے حسد یا نظر انداز کیےجانے کے باعث اپنا مخالف کرچُکے تھے۔ اس میلے سے پہلے وہ ایک غیر متنازع آدمی تھے، میلے کے باعث اُن کے منتخب کردہ لوگوں اورموضوعات پرانگلیاں اٹھنے لگی تھیں جو متوقع بھی تھا۔ دو متضاد جذبے اُنھیں مخالف سمتوں میں کھینچ رہے تھے۔ اُن ہی دنوں ان کی ذیابطیس بھی قابو سے باہرہوگئی۔ ڈاکٹر نےاُنھیں باقاعدگی سے ورزش کی ہدایت کی۔
ذیابطیس اور دیگر عوارض اُنھیں پہلے سے لاحق تھے، جن کے باعث وہ کھانے پینے اور معمولاتِ زندگی میں احتیاط کرتے تھے۔ ایک رات میں اُن سے مل کر نکلنے لگاتو اُنھوں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں اُن کے ساتھ ڈیفینس ہی میں واقع ایک جِم چلوں۔ انھوں نےاپنےگھر کے قریب ایک چوبیس گھنٹے کھلا رہنےوالا جِم تلاش کرلیاتھا اوررات گئے وہاں ورزش کے لیے جانے لگے تھے۔ مَیں اُن کے ساتھ جِم گیا، وہ مشین پر ورزش کرتے رہے اور ساتھ ساتھ ہم باتیں کرتے رہے۔ کام کی زیادتی اور دیگر مسائل سے جنم لیتے صحت کے مسائل کے باوجود ادب سے ان کا والہانہ لگاؤ برقرار تھا۔
ایک روز مجھ سے پوچھنے لگے۔ ’’آپ کا تعلق پنجاب سے ہے، وہاں ایک ترکیب استعمال ہوتی ہے ’’جندر‘‘ اِس کے معنی کیا ہیں؟‘‘ مَیں اُس لفظ سے ناواقف تھا، البتہ مَیں نے اُنھیں بتایا کہ پنجابی میں ’’جندرا‘‘ لفظ استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی تالے کے ہیں۔ اُن ہی دنوں اُنھوں نے ’’سویرا‘‘ میں اختررضا سلیمی کا ناول ’’جندر‘‘ پڑھا تھا اور اُس سے خاصے متاثر ہوئے تھے۔ وہ لوگوں سے اُس کی تعریف کررہے تھے اور چند اصطلاحات سے متعلق معلوم بھی کررہے تھے۔ (جاری ہے)