یہ کہانی ہے ایک ایسے خاندان کی، جو انتہائی کسمپرسی، ظلم و زیادتی، غلامی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس خاندان کا سربراہ اور چار بیٹے،علم و ہنر، قابلیت و صلاحیت، فہم و فراست میں کسی سے کم تھے، لیکن غلامی کی زنجیروں نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے تھے۔ ان کی زرخیز زمین جو ہندو بنیے نے چالاکی سے اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ تب ہی دن ، رات محنت و مشقّت کرنے کے باوجود ان کی زندگی میں خوش حالی تھی، نہ ذہنی سکون ۔ ہر وقت ایک خوف سَروں پر منڈلاتا رہتا۔
انہی حالات سے تنگ آکر ایک دن باپ نے بیٹوں سے کہا ’’آخرہم کب تک غلامی کی زندگی گزارتے رہیں گے، محنت ہماری اور منافع بنیےکا، یہ تو نا انصافی ہے۔اگر ہم نے اپنے حق کے لیے آواز نہیں اُٹھائی، تو ہماری آنے والی نسلیں بھی غلام بن کر رہ جائیں گی۔ ہمّت کرو میرے بچّو، ظلم کے خلاف آواز اُٹھاؤ اور یاد رکھنا، جب تک ہم متّحد ہیں، کوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ باپ، بیٹوں نے مل کر ہندو بنیےکے خلاف اعلانِ بغاوت کر دیا، یہ خبر آس پڑوس تک پہنچی، تو غلامی کی زندگی جینے والے دیگرافراد بھی ساتھ مل گئے۔
حقوق کے حصول کی جدّو جہد طویل عرصے تک جاری رہی، لیکن، بالآخر ہندو بنیے کو ان مُٹھی بھر لوگوں کے آگے ہار ماننی پڑی۔ اپنی زمین چُھڑوانے کے بعد باپ، بیٹوں نے مل کر خُوب محنت کی اور دیکھتے ہی دیکھتے گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو گئی۔ وقت گزرتا گیا اور ایک روز باپ کا انتقال ہوگیا۔ پہلے پہل تو گھر اورکاروبارکے معاملات بہتر طور پرچلتے رہے، لیکن پھر بھائیوں کے دِلوں میں نفاق، مال و زر کا لالچ آگیا۔
گھر سے لے کر زمینوں تک ہر چیز کا بٹوارا ہوگیا۔ اور آج حال یہ ہے کہ کوئی ایک بھائی بھی سکون سے نہیں، تعمیر و ترقّی تو دُور، وراثت میں جو ملا تھا، وہ بھی گنوا بیٹھے۔ مگر سمجھ نہیں پائے کہ اُن کی اصل طاقت، اُن کا اتّحاد تھا۔ یہی وہ طاقت تھی، جس نے انہیں ہندو بنیے سے نجات دلائی، خود مختار بنایا۔ یہ کہانی کچھ جانی پہچانی سی نہیں لگتی کہ ایسا ہی کچھ تو وطنِ عزیز کے ساتھ بھی ہو رہاہے۔ قیامِ پاکستان کے لیے برّ ِصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت قائد اعظم کی رہ نمائی میں ایک جھنڈے تلے جمع تھی۔
دَرحقیقت یہی اتّحا ہماری طاقت تھا، لیکن بعد میں سب قومی و لسانی بنیادوں پر بٹ گئے، اسی لیے آج تک ہمارا شمار ترقّی پذیر ممالک ہی میں ہوتا ہے۔’’جب مارچ 1940ء کو قیامِ پاکستان کے لیے مسلمانوں کی اکثریت متّحد ہوگئی تھی، تو آج جب پاکستان ہمارے پاس ہے، تو اس کی تعمیر و ترقّی کے لیے ہم میں اتّحا د کیوں نظر نہیں آتا؟‘‘ اور ’’وہ کون سے چار شعبے ہیں، جنہیں بہتر کرکے پاکستان کے حالات میں بہتری لائی جاسکتی ہے؟‘‘ ان سوالات کے جوابات کی تلاش میں ہم نے مُلک بھر سے چند سربر آوردہ شخصیات سے بات چیت کی، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔
معروف شاعر، ڈراما نگار،دانش وَر، امجد اسلام امجد کچھ یوں گویا ہوئے ’’23 مارچ 1940 ء کو بھی ہر ایک متّحد نہیں تھا۔ مسلمانوں کی ایک بہت چھوٹی سی تعداد تھی، جو قائد اعظم کی ہم خیال بنی اور پھر کارواں بنتا چلاگیا۔ مَیں ایک بات اکثر کہتا ہوں اور لکھ بھی چُکا ہوں کہ ہم نے پاکستان بنایا تو ٹھیک تھا، اُسے چلایا ٹھیک نہیں۔ یعنی مسئلہ پاکستان میں نہیں، پاکستانیوں میں ہے۔
ہم کئی وجوہ، جیسے جاگیرداری نظام، جہالت، غربت، غلامی کی سوچ کی وجہ سے بحیثیت قوم متّحد ہو کر اُس طرح سے کام نہیں کر سکے، جیسے دنیا کی ترقّی یافتہ اقوام کرتی ہیں۔ حالاں کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ہر شعبے کو اس کی اہمیت و افادیت کے اعتبار سے منظّم انداز میں چلایا جاتا، اس کی کمیاں، خامیاں دُور کی جاتیں، خوبیوں کو مزید نکھارا جاتا، لیکن بد قسمتی سے ایسا ہو نہیں سکا۔ لیکن مَیں سمجھتا ہوں کہ جب تک قوم کی روح و قلب میں یہ خواہش موجود ہے کہ ہم مل جُل کر آگے بڑھیں گے، ترقّی کریں گے، تب تک یہ مسائل ناقابلِ حل نہیں۔
اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ہم بکھرے ہوئے لوگ ہیں، لیکن اس کے با وجود ہم میں اَن گنت خوبیاں بھی ہیں، جن پر توجّہ دینی چاہیے۔خوش دلی، خوش اخلاقی سے ایک دوسرے کی بات سُننی چاہیے، ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ اب اگر بات کی جائے مختلف شعبوں میں بہتری کی، تو بہتری کی گنجائش تو ہر جگہ موجود ہے۔ لیکن جب تک اس مُلک میں کم از کم دس سال تک لوکل باڈیز کام نہیں کریں گی، ہماری سیاست غلاظت سے پاک نہیں ہوسکتی۔
جب لیڈرشِپ عام لوگوں سے نکلے گی، عام لوگوں کے دُکھ درد سمجھ کر آئے گی،تو مُلکی سیاست میں بھی یقیناً بہتری آئے گی۔ جیسے برطانیہ کے ہاؤس آف کامن میں شاید ہی کوئی شخص ہو، جس نے کاؤنسلر لیول سے اپنا کیریئر شروع نہ کیا ہو۔ نیز، نظامِ تعلیم میں فوری اصلاحات کی سخت ضرورت ہے، پھر اگر ہم اپنے بچّوں کو صحیح تاریخ پڑھائیں، ان میں قومیت کا جذبہ پیدا کریں، تو بھی خاصی بہتری آسکتی ہے اور مجھے پوری اُمید ہے کہ اِن شاء اللہ یہ اندھیرا جلد ختم ہوگا، ہم ضرور روشنی دیکھیں گے۔‘‘
مفکّر و مدبّر، سب رنگ ڈائجسٹ کے مدیر، شکیل عادل زادہ نے گفتگو کا آغاز کچھ اس طرح کیا کہ ’’بات یہ ہے کہ جو واقعات تاریخ کا حصّہ بن جاتے ہیں یا جو ہمارے سامنے وقوع پذیر نہیں ہوتے، ہمیں ان کے متعلق درست معلومات نہیں ہوتیں، اس لیے یہ کہنا پوری طرح درست نہیں کہ مارچ 1940ء میں سب متّحد تھے ، اُس وقت بھی جانے کتنے مخالفین ہوں گے، لیکن آج جب پاکستان کا قیام عمل میں آچُکا ہے، تو سب کچھ (مخالفتیں، اتحاد،دوستیاں، دشمنیاں) ہمارے سامنے ہے۔
نیز، آج اتحاد نظر نہ آنے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ گزشتہ 75 برس میں ہم نے کبھی اتّحا د پروان چڑھانے یا متّحد ہونے کی کوشش ہی نہیں کی۔ یہ کام لیڈرز کا تھاکہ عوام کو متّحد رکھتے، لیکن انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ یہاں تو جوتوں میں دال بٹتی رہی۔ اگر شعبوں میں درستی کی بات کی جائے، تو وطنِ عزیز کا ہر شعبہ ہی مسائل سے دوچار ہے، لیکن اگر ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے، تو میری نظر میں سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی آبادی ہے۔جس تیز رفتاری سے ہماری آباد ی میں اضافہ ہورہا ہے، آنے والے وقتوں میں کئی اور مسائل جنم لیں گے۔
قیامِ پاکستان کے وقت مُلکی آبادی شاید دو، تین کروڑ تھی، جو آج لگ بھگ 22 کروڑ ہے، تو اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ مُلک کی زمین، رقبہ، وسائل تو وہی ہیں، مگر آبادی کہاں سے کہاں پہنچ چُکی ہے۔ ایسے میں مسائل پیدا نہیں ہوں گے، تو کیا ہوگا۔ پھر اسکولز، کالجز کی تعداد بہت کم ہے اورجو تعلیم دی جارہی ہے، وہ بھی کسی طور معیاری نہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ تعلیم سے مراد صرف روایتی تعلیم نہیں، شعور و آگہی کا فروغ بھی ہے۔ تعلیمِ بالغاں کے لیے بھی گلی، محلّوں میں پروگرامز ہونے چاہئیں کہ علم کا اصل مقصد شعور و آگہی کا فروغ ہے۔ اور اگر صرف ان دو مسائل ہی پر فوکس کر لیا جائے، تو باقی معاملات خود بخود بہتر ہوجائیں گے۔‘‘
معروف محقّق، اسکالر، شاعر، خواجہ رضی حیدرکا کہنا ہے کہ ’’1940ء میں جب قراردادِ پاکستان پیش کی گئی، تو ہم جدّو جہد کے مرحلے میں تھے۔ ہماری قیادت ایک ایسے مدبّر، مضبوط اور قابل شخص کے ہاتھ تھی، جو بار بار اپنی قوم کا ضمیر جگاتا، اُسے صحیح اور غلط کی پہچان کرواتا، بکھرنے نہیں دیتا تھا۔ حالاں کہ اُس وقت بھی علما، دانش وَروں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی، جو پاکستان کے مخالف تھی۔ لیکن جو لوگ مسلم لیگ میں تھے، اُن میں اتحاد تھا، ان کے سامنے ایک مقصد تھا، ان کی اوّلین ترجیح پاکستان کا حصول تھا، جس کے لیے وہ لوگ اخلاص کے ساتھ جدّو جہد کرتے رہے۔ لیکن جب پاکستان بن گیا، تو لوگوں کے ذاتی مفاد سامنے آنے لگے اور یاد رکھیں کہ جب ذاتی مفادات افضل ہوجائیں، تو معاملات بگڑ جاتے ہیں، لوگ قومی دھارے کے بجائے، شخصی دھارے میں بہنے لگتے ہیں۔ نیز، قیامِ پاکستان کے بعد جن اصولوں پر، بالخصوص قائد اعظم محمّد علی جناح کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا تھا، وہ نہیں ہوسکا۔ قائد اعظم کے افکار، تقاریر کو نظر انداز کردیا گیا۔
یقین مانیے، اگر آج بھی ہم، بالخصوص صاحبِ اقتدار اگر قائد اعظم کی تقاریر کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں، تو بہت سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ قائد اعظم نے بارہا کہا کہ پاکستان کی ترقّی کے لیے اپنی ذاتی خواہشات پسِ پُشت ڈال کر قومی ترقّی پیشِ نظر رکھنی ہوگی۔ لیکن بد قسمتی سے ہم ایسا نہیں کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مغربی میڈیا برملا کہتا ہے کہ پاکستانی عوام کے پاس بہت دولت ہے، حکومت کے پاس نہیں۔
بلاشبہ، ہمارے پاس بہت پیسا ہے، لیکن وہ پیسا مُلک کے کسی کام نہیں آسکتا کہ قومی خزانہ خالی ہے۔ اگر ہم متحد ہوتے، ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے، تو شاید آج صورتِ حال بہت مختلف ہوتی اور ہمارا شمار بھی دنیا کے بہترین ممالک میں ہوتا۔ قائدِ اعظم نے قیامِ پاکستان سے قبل اپنی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ ’’اگر ہم نے چار شعبوں میں جدّو جہد کی ،ان کی بہتری کے لیے کام کیا، تو پاکستان ایک بہترین مُلک بن سکتا ہے اور وہ چار شعبے، تعلیم، تجارت ، صنعت اور عدل و انصاف ہیں۔‘‘ بلکہ عد ل و انصاف کے حوالے سےتو یہاں تک کہا کہ ’’انصاف صرف ہو نہیں، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے‘‘۔تو یہی وہ شعبے ہیں، جو خامیوں سے پاک ہوتے، تو ہم ترقّی کی منازل تیزی سےطے کر پاتے۔‘‘
معروف کالم نگار، سینئر صحافی، حسن نثار نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ’’پہلے سوال کا جواب تو بس ایک سطر میں دوں گا کہ 1940ء میں بھی بابائے قوم اور پاکستان کے خلاف بولنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ جہاں تک بات ہے شعبوں کی، تو اس مُلک کا کوئی ایک بھی ادارہ، ماسوائے فوج قابلِ فخر نہیں۔ اور یہ مَیں نہیں کہہ رہا، یہ بین الاقوامی کمیونٹی کا کہنا ہے۔
یقیناً سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی قابل ترین، باصلاحیت افواج میں ہوتا ہے، باقی اداروں کاحال تو کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ ہر ادارے کو نئے سِرے سے استوار کرنے، عدلیہ سے لے کر اقتصادیات تک ہر جگہ ریفارمز کی ضرورت ہے۔ لیکن اوّلین ترجیحات میں پہلا فوکس شعبۂ تعلیم ہونا چاہیے، بالخصوص پرائمری سطح پر معیاری تعلیم دی جائے اور وہ گھٹیا تعلیم نہیں، جو دی جارہی ہے۔ جو تعلیم منہگے اسکولز میں دی جاتی ہے، وہی سرکاری اسکولز میں بھی دی جائے۔ منہگے اسکولز میں پڑھنے والے بچّوں کی اکثریت تو ویسے بھی اس مُلک سے باہر چلی جائے گی، تو جن بچّوں نے اس مُلک میں رہنا ہے، انہیں معیاری تعلیم ملنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ پاپولیشن مینیجمنٹ بہت ضروری ہے کہ بے لگام بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے لیے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘
خُوب صُورت شاعرہ، حقوقِ نسواں کی عَلم بردار، استاد، ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا’’بلا شبہ ایک علیحدہ مملکت کے حصول کے لیے مسلمانانِ ہند کی اکثریت ایک ہوگئی تھی، سب نے مِل کرجدّو جہد کی، تب ہی یہ عظیم مملکت معرضِ وجود میں آئی، لیکن اب سب کے خود غرضانہ رویّے کُھل کر سامنے آگئے ہیں۔ قومی تشخّص کی ڈور ہاتھ سے چُھوٹ گئی ہے، وطنیت نہیں، انفرادیت غالب ہے۔ قیامِ پاکستان سے قبل قوم کو ایک مُلک کی تلاش تھی، آج مُلک ہے، مگر قوم نہیں۔ ہم اپنے اصل سے بہت دُور نکل چُکے ہیں، اپنی روایات، تہذیب و تمدّن سب فراموش کر دیا ہے۔
جہاں تک بات ہے ،کون سے چار شعبوں کو ٹھیک کرنے سے مُلک میں بہتری آسکتی ہے، تو سب سے پہلے نظامِ انصاف درست کرنا ہوگا۔آج تو یہ حالات ہیں کہ ہر جگہ، ہر شعبے میں میرٹ کو پسِ پُشت ڈال دیا ہے، توجب احتساب کا نظام مضبوط ہوگا، تو لوگوں میں قوانین کا خوف بھی پیدا ہوگا۔ دوسرے نمبر پر شعبۂ تعلیم بہتری کا متقاضی ہے۔ جب تک قوم تعلیم یافتہ نہیں ہوگی، تب تک ترقّی کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔
تعلیم یافتہ ہونے سے میری مراد صرف ڈگریاں بانٹنا نہیں ، تعلیم تو ایسی ہونی چاہیے ،جس سے لوگوں میں شعور، دانش، فکر و فلسفہ بیدار ہو۔ مغربی ممالک کی ترقّی و کام یابی کا اصل راز ہی یہ ہے کہ وہاں دانش وَربنائےجاتے ہیں، تعلیم کے نام پر ڈگریز نہیں بانٹی جاتیں، سوچنا ، سمجھنا، غور و فکر کرنا سکھایا جاتا ہے۔ شعبۂ تعلیم کے بعد میری نظر میں سب سے اہم، شعبۂ ثقافت ہے۔ ثقافت ایک گُل دستے کی مانند ہوتی ہے، جس میں ہر رنگ و نسل کا پھول سجا ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کسی ایک خطّے کا کلچر ڈے دوسرے علاقے کے لوگ نہیں مناتے، حالاں کہ ہر علاقے کا ثقافتی دن پورے مُلک، ہر صوبے، ہر علاقے میں منایا جانا چاہیےکہ اسی طرح ہم آہنگی پروان چڑھتی ہے۔ ہماری قومی زبان اردو ہی کو دیکھ لیجیے، گرچہ ہر صوبے میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں، لیکن اردو وہ ڈوری ہے، جو گل دستے کو باندھتی ہے، جو سب پھولوں اور رنگوں کو یک جا رکھتی ہے۔ جس کو غالب نے بندش کی گیاہ(باندھنے کی گھاس) لکھا ہے اور آخر میں جس شعبے کو مضبوط ہونا چاہیے ،وہ ہے دفاع ۔یہ مستحکم ہوگا، توقوم، مُلک اور ہمارا قومی تشخص محفوظ رہے گا۔‘‘
قومی و بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ سائنس دان، وزیر اعظم کی ٹاسک فورس برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ، ڈاکٹر عطاء الرّحمٰن کا کہنا ہے کہ ’’دراصل یہاں لسانیت و صوبائیت اتنی حاوہ ہوگئی ہے کہ لوگ پاکستان کی بات کرنے، اُس پر دھیان دینے کے بجائے اپنے اپنے صوبوں کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ مُلک میں لسانی بنیادوں پر نہیں، جغرافیائی اعتبار سے مزید صوبے بنائے جائیں، تاکہ ہر قوم و نسل کے لوگ آپس میں مل جُل کر ایک ساتھ رہیں اور اتحادو یگانگت پروان چڑھے۔
نیز، سیاست کا رُخ تبدیل کرنے کی بھی ضرورت ہے، عوام، بالخصوص بچّوں کو یہ بتانا چاہیے کہ یہ مُلک ہمیں کسی نے تھالی میں سجا کر پیش نہیں کیا تھا، اس کے حصول کے لیے لازوال قربانیاں دی گئیں اور اس ضمن میں میڈیا کا بھی انتہائی اہم کردار ہے کہ وہ ایسے پروگرامز بنائے، شوز کرے، جن کے ذریعے جذبۂ حبّ الوطنی پروان چڑھے۔ جہاں تک بات ہے، شعبوں کی کار کردگی میں بہتری کی، تو میرے خیال میں سب سے پہلے شعبۂ تعلیم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ کسی بھی مُلک کی بنیاد تعلیم ہی پر رکھی جاتی ہے، تو جب تک اس شعبے کی خرابیاں دُور نہیں کی جائیں گی، کام یابی مقدّر نہیں بن سکتی۔
دوسرے نمبر پر اعلیٰ تعلیم،سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی ضرورت ہےکہ آج کی دنیا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی دنیا ہے۔ ہم اگر اس شعبے میں کام نہیں کریں گے،تو باقی دنیاسے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ دَور ’’Knowledge Economy‘‘ یا علم پر مبنی معیشت کا ہے، تو ہمیں اس حوالے سے کام کرنا چاہیے۔ پھر جدّت طرازی( Innovation) کے ذریعے نِت نئی ایجادات کو ایکسپورٹ کرکے بھاری زرِ مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ تو چوتھا شعبہ انصاف ہے،جس میں بہت بہتری لانے کی ضرورت ہے۔‘‘
جماعت ِ اسلامی کی رہنما، سابق رکنِ قومی اسمبلی، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا’’مارچ 1940ء میں متّحد ہونے کی یہ وجہ تھی کہ اُس وقت ہمارے سامنے ایک مقصد تھا، پھر مقصد کھو گیا اور جب افراد اورا قوام بے مقصد ہو جائیں، تو فضیلت کی پگڑیاں بغداد کے بازاروں میں لُوٹ کا مال بن جاتی ہیں، ہمارے ساتھ بھی یہی ہو۔ ہم نے اپنا مقصد اور قیامِ پاکستان کے وقت اللہ سے کیا وعدہ فراموش کردیا ۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں ہم قوم نہیں، ہجوم سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بہتر بنانے کے لیے بے لاگ انصاف، بامقصد تعلیم، خدمت کی سیاست اور اداروں کا اپنا اپنا کام کرنا نہایت ضروری ہے۔‘‘
سابق سینیٹر، متّحدہ قومی موومنٹ ، پاکستان کی رہ نما، خوش بخت شجاعت اپنے منفرد انداز میں گویا ہوئیں ’’بلا شبہ، 1940ء میں قیامِ پاکستان کے لیے سب متّحد تھے اور ان کے اتّحاد کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے تھے، ان کی اولاد، آنے والی نسلیں تباہی کے دہانے پر کھڑی تھیں۔ ہمارے آباؤ اجداد جانتے تھے کہ اگر ہمیں ایک آزاد مملکت حاصل نہ ہو سکی،تو ہمارا نام و نشان تک باقی نہ رہے گا۔ لیکن چوں کہ اُن میں ایمان کی طاقت، یقین کا جذبہ تھا، تمام تر اکابرین ایمان، اتّحاد، یقینِ محکم کے اصول پر عمل پیرا تھے۔
نیز، ان کے آباء خالص تہذیب و ثقافت اور ایک زبان نے بھی ان میں آگے بڑھنے کا جذبہ، علیحدہ شناخت کے حصول کا جنون پیدا کر رکھا تھا، تو وہ سب متّحد تھے۔ اس کے برعکس اگر آج کی بات کی جائے، تو ہم ایک ٹوٹی، بکھری، منتشر قوم ہیں۔ اللہ اور رسول ؐ کو مانتے تو ہیں، لیکن اُن پر بھروسا کرکے آگے نہیں بڑھ رہے، بلکہ خود پر بھروسا کرنے لگے ہیں۔ ہماری اجتماعیت ختم ہوگئی ہے اور جس قوم کی اجتماعیت ختم ہوجاتی ہے، وہ محض ایک بِھیڑ بن کے رہ جاتی ہے۔جن رہ نماؤں نے ہمیں پاکستان بنا کے دیا، اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کے بجائے، سب نے اپنی الگ الگ راہیں متعیّن کرلیں اور پھر بھٹکتے چلے گئے۔
جہاں تک بات ہے، پاکستان کی بہتری کے لیے شعبوں کی بہتری کی، تو خواتین ہمارے مُلک کی آبادی کا بڑا حصّہ ہیں، تو سب سے پہلے انہیں خود مختار، مستحکم کرنا ہوگا، تو ہی مُلک مستحکم ہوگا۔ دوسرے نمبر پر شعبۂ تعلیم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے پرائمری کی سطح سے کام کرنا ہوگا۔ ہماری تیسری ترجیح نسلِ نو ہونی چاہیے اور ہمیں نہ صرف نوجوانوں کوتعلیم و ہنرسے آراستہ کرنا، ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، معاشی استحکام دینا ہے، بلکہ تہذیبی و اخلاقی طور پر ان کی گرومنگ بھی کرنی ہےکہ وہی ہمارے آنے والا کل ہیں۔ اور چوتھا شعبہ کوئی نہیں، بس جب ہم تعلیم یافتہ، معاشی طور پر مستحکم، اعلیٰ اخلاقیات کے حامل ہوں گے، تو ہر شعبے میں خود بہ خود بہتری آتی چلی جائے گی۔‘‘
سابق سینیٹر، ڈپٹی کنوینر، متّحدہ قومی موومنٹ پاکستان، نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ ’’ 1940ء میں مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت تھی، جوصرف اپنے لیے نہیں، پوری مسلم قوم کے لیے خود مختار مُلک چاہتی تھی۔ اب حالات یہ ہیں کہ آج کے سیاست دان ذاتی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسے قوانین ہی نہیں بننے دیتے، جن سے ان کا نقصان ہو۔آج کا سیاست دان مُلک و قوم سے مخلص نہیں، جاگیردارانہ، وڈیرانہ ذہنیت کا مالک ہے۔ جہاں تک شعبوں میں بہتری کی بات ہے، تو سب سے پہلے انصاف کے محکمے کو سُدھارنے یا اس میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
میرا خیال ہے کہ اگر شروع دن سے اس شعبے پر توجّہ دی جاتی، عوام کو بروقت سستا انصاف ملتا ، توآج حالات کچھ اور ہوتے۔ اس کے علاوہ اگر فنانس کے حوالے سے بہتری لائی جائے، تو عوام کو بہت فائدہ ہوگا۔ جیسے، عوام پر بالواسطہ ٹیکسز کی بھر مار ہے،تو یہ ٹیکسز بلا واسطہ اور ان لوگوں پر لگنے چاہئیں، جو صاحبِ استطاعت ہیں۔
علا وہ ازیں، تعلیم کا نظام ابتری کا شکار ہے۔ جب پاکستان بنا تھا، اُس وقت سندھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے یہ نظام رائج تھا کہ بچّوں کو اسکول بھیجنے پر خاندان کو گندم کی بوری دی جاتی اور آج کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ سرکاری اسکول ٹیچرز گھر بیٹھے تن خواہیں لیتے ہیں، اسکولز میں اوطاقیں بنی ہوئی ہیں۔ چوتھی بات یہ کہ مُلک میں انڈسٹرلائزیشن کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ نسلِ نو کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں۔‘‘
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی،قاسم خان سوری کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ ’’23مارچ 1940 ء کو ملکی تاریخ میں ہمیشہ ہی خاص مقام حاصل رہے گا۔قیامِ پاکستان کا اصل مقصد یہ تھا کہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمان اپنے ثقافتی وَرثے کی حفاظت کر سکیں ، ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے، جہاں لوگ قرآن وسنّت کے مطابق زندگیاں گزاریں۔ لیکن شومئی قسمت، قریباً 75برس گزرنے کے بعد بھی ہم قراردادِ پاکستان کے حقیقی اصولوں پر عمل پیرا نہ ہوسکے۔
حالاں کہ اس مملکت کے قیام کے لیے مسلمانوں نے بیش بہا قربانیاں دیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب قوم بحیثیت مجموعی غفلت کا شکار ہو جائے، تو فطرت اسے معاف نہیں کیا کرتی۔ قائد اعظم نے عُمر بھر اتحاد، تنظیم اور ایمان کا درس دیا، لیکن بد قسمتی سے ہم نے یہی تینوں اصول فراموش کر دئیے۔ جہاں تک بات ہے شعبوں کی بہتری کی، تو ملکی ترقی کے لیے ہمیں تعلیم، صحت، قانون اور امن و امان کے شعبوں پر بھرپور توجّہ دینا ہو گی۔ علاوہ ازیں، قانون سب کے لیے یک ساں ہونا چاہیے، طاقت وَر چور، ڈاکو قانون کی گرفت سے باہر ہو اور غریب معمولی جرم میں برسوں جیل کاٹے، یہ بدترین المیہ ہے۔ اسی طرح جب تک امن و امان کی صورتِ حال بہتر نہیں ہوگی، ترقّی کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔‘‘
سابق وائس چانسلر ،سردار بہادر خان ویمن یونی وَرسٹی، بلوچستان، پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے کہا’’ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ قیامِ پاکستان کے لیے برّصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے تاریخی جدّوجہد اور گراں قدر قربانیاں دیں،جس کے صلے میں ہمیں اللہ پاک نے اس وطنِ عزیز سے نوازا۔ بلا شبہ،اگر اُس وقت کے مسلمان ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لیے متّحد ہو کر، منظّم کوششیں نہ کرتے، تو آج آزاد زندگی ہمارا مقدّر ہر گز نہ بنتی، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کی روایات پر عمل پیرا نہ ہو سکے، ہماری صفوں میں اتحاد کا فقدان ہے۔
ہم قیامِ پاکستان کے مقاصد سے یک سر ہٹ چُکے ہیں، آج نفسا نفسی کا دَور دورہ ہے۔ مُلک میں لسانیت، قومیت اور مذہب کے نام پر نفرتوں کے ایسے بیج بودئیے گئے ہیں، جن کے کانٹے دار درخت پاکستان کی ترقّی و کام یابی کی راہ میں حائل ہیں۔ پھر بین الاقوامی قوّتیں، جو پاکستان کے قیام کے خلاف تھیں، آج تک اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں سرگرمِ عمل ہیں۔ چار شعبوں کی بہتری کی بات کروں، تو میرے خیال میں سب سے پہلے ہماری عدلیہ کو مضبوط اور ہر قسم کے دبائو سے پاک ہونا چاہیے، تا کہ آئین و قانون کی بالا دستی ہو اور ہر شہری کو فوری انصاف مل سکے۔
دفاعی نظام مزید مستحکم ہونا چاہیے، کیوں کہ ہمیں نہ صرف بیرونی، بلکہ اندرونی طورپر بھی کئی خطرات کا سامنا ہے۔ ایسی خارجہ پالیسیز بنائی جائیں، جن کا فائدہ پوری قوم کو ہو۔ سیاسی جماعتوں میں بھی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ خاندانی موروثی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہیےاور سیاسی کارکنوں کی تربیت کا کوئی نظام ترتیب دیا جانا چاہیے۔ چوتھا شعبہ، شعبۂ تعلیم ہے۔ مُلک میں اس قدر ناخواندگی ہے، تو آپ ایک ناخواندہ شخص سے کیسے اُمید کرسکتے ہیں کہ وہ اپنے ووٹ کا درست استعمال کرے گا اور بنا سوچے سمجھے ووٹ کے استعمال ہی سے نااہل لوگ اقتدار میں آجاتے ہیں، جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتتی ہے۔‘‘