دس، گیارہ برس کے اُس بچّے نے پورا شاپنگ مال سر پر اُٹھایا ہوا تھا۔ پہلے تو صرف زارو قطار رو رہا تھا،پھر دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر لَوٹنا شروع کردیا، کبھی سر پٹختا، تو کبھی ماں کو مارنے لگتا۔ ویسے تو وہ لوگ خاصی مہذّب، متمّول فیملی کے لگ رہے تھے، لیکن بچّے کی بد تمیزیاں نا قابلِ برداشت تھیں۔ ’’جانے کیسی مائیں ہیں آج کل کی، منہگے منہگے کھلونے تو دلوا دیتی ہیں، پر بچّوں کو تمیز نہیں سکھاتیں۔‘‘
وہاں سے گزرتی ایک ادھیڑ عُمر خاتون نے تبصرہ کیا۔آنے جانے والے تمام ہی لوگ یہ تماشا دیکھ رہے تھے، جن میں سے کوئی ماں کی تربیت پر سوال اُٹھاتا،تو کوئی منہ بسورتا چلا جاتا۔ اور بے چاری ماں شاپنگ بیگز بھول بھال ،اپنے ’’بدتمیز‘‘ بچّے کو سنبھالنے کی کوششوں میں بے حال نظر آرہی تھی۔ قریب جانے پر پتا چلا کہ لوگ جس بچّے کی بد تمیزی پر منہ بسور رہے تھے ،وہ درحقیقت آٹزم کا شکار ہے اور شاپنگ مال میں گونجتے تیز میوزک کی وجہ سے گھبرا گیا ہے۔ تب مَیں نے بس یہی سوچا کہ ’’ کیسے اس نام نہاد مہذّب معاشرے میں فقط چند منٹس میں اُس بہت ہی خاص ماں کی تربیت پر کئی سوال کھڑے کر دئیےگئے۔
یہ تو وہ ماں ہی جانتی ہوگی کہ وہ کن امتحانوں سے گزرتی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے تو ہر ماں کے قدموں تلے جنّت رکھی ہے، تواُس کی نظر میں ان اسپیشل نیڈز (خصوصی توجّہ کے مستحق) بچّوں کی ماؤں کا مقام کس قدر بلند ہوگا۔‘‘ کہنے کو تو ہم ایک مسلمان معاشرےکا حصّہ ہیں، لیکن رویّوں سے ایسا بالکل نہیں لگتا ، کیوں کہ مغربی ممالک میں اسپیشل افراد، بالخصوص بچّوں پر جس قدر شفقت کی جاتی ہے ، اُن کا جس قدر خیال رکھا جاتا ہے،ہمارے یہاں تو اُس کا تصوّر بھی ممکن نہیں۔ ہمارے ہاں تو اگر کسی کے گھر معذور، کسی بیماری یا آٹزم وغیرہ کے شکار بچّے کی ولادت ہوجائے، تو سب سے پہلے تو ماں کو کٹہرے میں کھڑا کرد جاتا ہے کہ ’’یہ ضرور اُسی کے کسی گناہ کی سزا ہے۔‘‘اُس بچّے کو تو کوئی کیا اپنائے گا، پہلے والدین ، خاص طور پر ماں ہی کی زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔
ادارۂ شماریات ، پاکستان کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں جسمانی و ذہنی معذور افراد کی کُل تعداد 371,833ہے، جن میں سے آزاد جمّوں وکشمیر میں 13,329، بلوچستان میں 10,495، گلگت بلتستان میں 7,886، اسلام آباد میں 6,706، خیبر پختون خوا میں 11,6491، پنجاب میں 1,47,539 اور سندھ میں 69,387 افراد موجود ہیں ۔ یعنی پاکستان میں لاکھوں مائیں ایسی ہیں، جنہوں نے اسپیشل نیڈز بچّے پیدا کیے، اُنہیں پالا پوسا اور اب بھی پال رہی ہیں، لیکن ہمارا دھیان کبھی ان کی مشکلات ، مسائل، تکالیف اور محرومیوں پر نہیں جاتا۔
عام بچّوں کی ماؤں کو کم از کم یہ اُمید تو ہوتی ہے کہ ان کی اولاد بڑھاپے میں ان کے لیے سُکھ، راحت کا سامان بنے گی، لیکن ان ماؤں کا درد کوئی نہیں سمجھتا کہ جن کی اولاد اپنی زندگی کی آخری سانس تک صرف اور صرف انہی پر انحصار کرتی ہے… تو آئیے ،یہ مدرز ڈےخاص بچّوں کی اِن بہت ہی خاص ماؤں، اَن مول بچّوں کی بے مثال ماؤں کے نام کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے ہم نے چند بچّوں کی ماؤں سےخصوصی بات چیت بھی کی ہے، جس کی تفصیل آپ کی نذر ہے۔
’’اپنے اسپیشل نیڈز بیٹے کے ساتھ اپنے سفر کے بارے میں بتائیں، آپ کو کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑایا پڑرہا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا، تو23 سالہ آٹسٹک نوجوان، کریم کی والدہ، روحی معروف کچھ یوں گویا ہوئیں’’مبارک ہو! آپ ایک بیٹے کی ماں بننے والی ہیں۔‘‘ آج سے 23سال پہلے جب مَیں نے یہ جملہ سُنا تھا، تو یہ میرے لیے فقط ایک جملہ نہیں، زندگی کی سب سے بڑی خوشی تھی۔ جب مَیں سونوگرافی کروانے گئی اور وہاں پتا چلا کہ مَیں ایک بیٹے کی ماں بننے والی ہوں، تو ایسا لگ رہا تھا، جیسے دنیا جہاں کی دولت میرے ہاتھ آگئی ہے، کیوں کہ مجھے بیٹے کا بہت ارمان تھا۔
پھر وہ دن بھی آگیا ،جب مَیں نے ایک پیارے سے صحت مند بیٹے کو جنم دیا۔ مجھے یاد ہے، کریم کی پیدائش کی خوشی اس قدر تھی کہ مَیں زچگی کی تمام تکلیف ایک پل میں بھول گئی تھی۔ گھر میں بھی سب بے انتہا خوش تھے۔ اسپتال سے چُھٹی ہوئی اور ہم گھر آ گئے۔ گوکہ مجھے کریم کا رویّہ کچھ الگ لگتا تھا کہ یہ ہر وقت دیواروں کو گھورتا رہتاتھا۔خیر، وقت گزرا اور یہ تھوڑا بڑا ہوا ، تو ہم نے اسے سلام کرنا سکھانا چاہا۔ بائے بائے سکھانے کی کوشش کی، لیکن یہ سیکھ نہیں پا رہا تھا، سیکھتا بھی کیسے، آئی کانٹیکٹ ہی نہیں کرتا تھا، نیند پوری نہیں لیتا تھا، جس کی وجہ سے ہم بھی ڈسٹرب رہنے لگے۔
جب ذرا اور بڑا ہوا اور اسے واکر میں بٹھایا، تو ہمیں پتا چلا کہ یہ ہائپر ایکٹیو چائلڈ ہے، بہت تیزی سے واکر چلاتا تھا، خوشی کا اظہار کرنا ہوتا، تو زور زور سے ہاتھ ہلاتا، پھر رِبنز سےکھیلنے لگا۔ اس طرح ہمیں یہ اندازہ تو ہوگیا کہ ہمارا کریم عام بچّوں کی طرح نہیں، اس کی گروتھ سِلو ہے۔ اسکول میں داخلے کا وقت آیا، تو ہم نے کراچی کے سب ہی نامی گرامی اسکولز آزما لیے، لیکن یہ کہیں ایڈجسٹ ہی نہیں ہوتا تھا۔ اس دوران ہم یہ سمجھ گئے کہ یہ عام بچّہ نہیں ہے، پھراسپیشل اسکولز میں داخلہ دلوایا، لیکن وہاں بھی ٹیچرز نہیں سنبھال پا رہی تھیں۔
سچ بتاؤں تو ایک آٹسٹک بچّے کے گھر میں آنے سے پورے گھر کا ماحول ہی بدل گیا تھا، لیکن اس پورے سفر میں میرے شوہر ڈاکٹر معروف نے میرا بہت ساتھ دیا۔ ایک دفعہ میری بیٹی کے بریسز لگنے تھے، تو ہم اسے ڈاکٹر علوی کے کلینک لے گئے، جہاں ایک انگریزی میگزین رکھا تھا، جس کے ٹائٹل پر دو بچّوں(ایک لڑکی اور لڑکے) کی تصویر تھی، بچّی نارمل تھی، لیکن بچّہ بالکل کریم جیسا لگ رہا تھا اور ساتھ ہی آٹزم سے متعلق تحریرتھی۔ ہم نے وہ آرٹیکل پڑھا، جس میں بیان کردہ قریباً تمام علامات کریم میں موجود تھیں۔
اس طرح ہمیں پتا چلا کہ ہمارا بیٹا آٹزم کا شکار ہے۔ بعد ازاں، ہم اسے کراچی کے ایک معروف نجی اسپتال لے گئے۔ اُنہیں کریم اور آٹزم سے متعلق بتایا، تو اُن لوگوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس میگزین کی ایک کاپی دے دیں کہ اُس وقت میڈیکل میں آٹزم کے بارے میں اتنا پڑھایا نہیں جاتا تھا۔ اس طرح ہم اپنے بچّے کو ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے ڈاکٹر کے پاس لیے پھرتے رہے، لیکن کوئی فائدہ ہو رہا تھا، نہ کوئی راہ نظر آرہی تھی۔
پھر ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ’’آپ لوگ بیرونِ مُلک شفٹ ہو جائیں۔‘‘ عملی طور پر یہ ممکن نہ تھا کہ یہاں میرے شوہر کی اچھی جاب تھی، پھر میری ساس بھی ضعیف تھیں، جنہیں مَیں چھوڑ کر جانے کا تصوّر بھی نہیں کر سکتی تھی۔وقت گزرتا جا رہا تھا اور ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کریم کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ کیسے شروع کیا جائے،کبھی کبھی تو ہمّت جواب دے جاتی، لیکن اگلے روز پھرسے کمر کس کے اپنے بچّے کے لیے جدّو جہد میں لگ جاتی۔ میرے شوہر چوں کہ خود پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں، تو انہوں نے اور مَیں نے آٹزم کے حوالےسے انٹرنیٹ پر پڑھنا شروع کیا۔
میرے شوہر کی ایک کولیگ کینیڈا شفٹ ہوئی تھیں، اُن کی بیٹی اسپیشل نیڈز چلڈرن کے حوالے سے تعلیم حاصل کر رہی تھی، تووہاں سے ہمیں آٹسٹک بچّوں کی تربیت کرنے والے کئی اداروں سے متعلق معلوم ہوا، جن میں ہمیں سب سے نزدیک نیو دہلی، بھارت کی میری بروا لگیں، جو ڈائریکٹر، فاؤنڈر، نیشنل سینٹر فار آٹزم ہیں، وہ آٹزم پرباہر سے پڑھ کر آئی تھیں اور اب بھارت میں اپناادارہ چلا رہی تھیں، تو ہم نے کریم کے داخلے کے لیے وہاں اپلائی کیا۔ ان لوگوں نے بہت مثبت ریسپانس دیا، بلکہ پاکستان میں شعور و آگہی کی فراہمی کے لیے مٹیریل بھی بھیجا، جو ہم نے یہاں پرنٹ کروایا، بینرز بنوائے، ڈاکٹرز کو کتابچے دیئے۔
یوں سمجھ لیں کہ ہم نے آٹزم کوسمجھنے، اُس کے بارے میں جاننے کا عمل تو اپنے بچّے کے لیے شروع کیا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ہر آٹسٹک بچّے کی تعلیم وتربیت ہمارا نصب العین بن گئی۔ خیر، اسی دوران ہم لوگوں کو کریم کی وجہ سے بھارت جانے کی اجازت بھی مل گئی اور ہم ایک سال تک کریم کے ساتھ بھارت میں رہے بھی، وہاں بہت کچھ سیکھا اور پھر 2008ء میں پاکستان میں آٹسٹک بچّوں کے لیے ایک ادارے کے قیام کی خواہش لیے وطن واپس لَوٹے۔جب ہم واپس آئے، تو ہمیں ڈین ،جناح اسپتال ،پروفیسر ڈاکٹر مسرّت حُسین نے بلایا اور اُن ہی کی کوششوں کی وجہ سے این آئی سی ایچ میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹر قائم ہوا، جہاں ابتدا میں مَیں اور ڈاکٹر معروف ہی اسٹاف کی تربیت کی غرض سے جاتے تھے۔
جہاں تک مسائل، پریشانیوں کی بات ہے، تو ہمارا معاشرہ کچھ ایسا ہے کہ اسپیشل بچّوں کو قبول ہی نہیں کرتا اور بچّے ہی کیا، کسی بھی شخص میں ذرا بھی کمی یا کوئی غیر معمولی بات دیکھ لے، تو عجیب سا برتاؤ کرنے لگتا ہے۔ ہم کہیں باہر جائیں تو اس لیے پریشانی نہیں ہوتی کہ ہمارابیٹا آٹسٹک ہے، بلکہ اس لیے پریشانی ہوتی ہے کہ لوگوں کی نظریں اُسے پریشان کرتی، اُس کا تعاقب کرتی ہیں۔ ویسے اس میں لوگوں کا بھی کوئی قصور نہیں کہ ہمارے یہاں یہ تعلیم ہی نہیں دی جاتی کہ اسپیشل افراد کو دیکھ کر کیسے برتاؤ کرنا ہے، البتہ اس حوالے سے مَیں جنگ، سنڈے میگزین کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ اس میں ہر سال آٹزم کے یوم کی مناسبت سے خصوصی مضامین کی اشاعت نے والدین، بالخصوص ماؤں کی تعلیم و تربیت کا اہم فریضہ سر انجام دیا ہے۔‘‘
ڈاؤن سینڈروم سے متاثرہ( بعد ازاں خون کے سرطان کے کام یاب علاج سے صحت یاب ہونے والی)چار سالہ صلہ عادل کی بہت بہادر، مضبوط و پُر عزم ماں، تلخیص عادل نے اپنے پورے سفر سے متعلق کچھ اس طرح بتایا کہ ’’ڈیلیوری کے فوراً بعد جب مجھے جونیئر پیڈیاٹریشن نے لیبر رُوم میں کہا کہ ’’شاید آپ کی بیٹی کو ڈاؤن سینڈروم ہے‘‘ تو اُس وقت مجھے یہ علم تک نہیں تھا کہ ڈاؤن سینڈروم بھی کوئی بیماری یا کوئی ڈِس آرڈر ہے۔ لیبر رُوم سے مجھے روم میں شفٹ کیا گیا، تو جہاں سب گھر والے میری گڑیا، صلہ کی پیدائش پر خوشیاں منا رہے تھے، وہیں سب نے یہ بھی کہا کہ پریشان نہیں ہو، بچّی بالکل نارمل ہے، اسے کوئی بیماری نہیں ہے۔ ایک طرح سے ہم اُس فیز میں تھے، جہاں ذہن حقیقت ماننے سے انکاری ہوتا ہے۔
مگر پھر سینئر پیڈیاٹریشن نے کنفرم کردیا کہ بچّی کو ڈاؤن سینڈروم ہے۔ اور… وہ لمحہ ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا کہ میری بڑی بیٹی ماشاء اللہ بے حد ایکٹیو اور سُپر اسمارٹ ہے، تو دوسری بچّی کا اسپیشل نیڈز ہونا بہت تکلیف دہ تھا۔ خیر، ابھی ہم یہی تسلیم نہیں کر پارہے تھےکہ صلہ ڈاؤن سینڈروم ہے کہ اُس کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی، وہ صحیح سے سانس نہیں لے پا رہی تھی، جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا، لیکن طبیعت میں کچھ خاص بہتری نہیں آرہی تھی، تو ڈاکٹرز نے کہا کہ ’’شاید بچّی کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑے کہ یہ خود سے سانس نہیں لے پارہی۔‘‘ پھر اس کا ایکو (دل کا ٹیسٹ) ہوا، تو پتا چلا کہ صلہ کے دل کے تین والوز بند ہیں، جس کی وجہ سے وہ سانس نہیں لے پارہی۔
ڈاکٹرز نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ ’’شاید اس کی سرجری کرنی پڑے۔ ‘‘جس وقت صلہ کے ڈاؤن سینڈروم ہونے کی تشخیص ہوئی، اُسی وقت سے میرے ذہن میں اُس کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات گردش کرنے لگےتھے، لیکن جب اُس کی طبیعت بگڑی اور بات میری بچّی کی زندگی پر آگئی، تو پھر میرے لبوں پر ایک ہی دُعا تھی کہ ’’اے اللہ پاک! میری بچّی کو بس زندگی عطا کردے۔‘‘ اور پھر اللہ نے ہماری دُعائیں قبول فرمالیں۔ صلہ کی طبیعت میں بہتری آنی شروع ہوگئی۔
مَیں آج بھی کہتی ہوں کہ ’’میری صلہ فائٹر ہے۔‘‘جس نے زندگی کے ابتدائی ایام ہی سے سخت تکالیف، کٹھنائیوں کا سامنا کیا ، مگراللہ پاک نے ہر بار ایک ماں کے یقین کی لاج رکھی۔ مَیں اور میری بچّی سُرخ رو ہوئے۔ لیکن میری فائٹر بیٹی اور اس کی ماما کا امتحان یہاں ختم نہیں ہو اتھاکہ ابھی تو ہمیں بہت سی جنگیں لڑنی تھیں۔ تھوڑا وقت گزرا اور ہم نے صلہ کو ’’کراچی ڈاؤن سینڈروم پروگرام(KDSP)‘‘ میں داخل کروادیا، جہاں اس کی فزیکل، اوکیوپیشنل اوراسپیچ تھراپیز کا آغاز ہوا۔
یہاں ایک بات کا ذکر ضروری سمجھتی ہوں کہ جن بچّوں کے مائیل اسٹونز تاخیر کا شکار ہوں، فوری ابتدائی توجّہ (Early Intervention) کے ذریعے ان کی کم زوریوں پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک عام رجحان ہے کہ بچّہ تو ویسے ہی چھے ماہ میں بیٹھنا شروع کرتا ہے، تو ڈیلیڈ مائیل اسٹونز بچّے سے چھے ماہ میں بیٹھنے کی اُمید کیسے کی جائے، تو اس کا جواب ارلی انٹروینشن ہے، یعنی اگر اسپیشل نیڈ زبچّے کو دو ماہ سے بٹھانے کی کوشش کریں گے، تو وہ چھے ماہ میں بیٹھنا شروع کرے گا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسپیشل نیڈز بچّہ بھی دیگر بچّوں ہی کی طرح مائیل اسٹونز اچیو کر سکتا ہے، بس اُس کی تیاری بہت پہلے سے کروانی پڑتی ہے۔
لیکن یہاں پر اس سوچ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔ مَیں نے جب صلہ کو اسپیچ تھراپی کے لیے داخل کروایا، تو مجھے بھی بہت باتیں سُننے کو ملیں کہ چھے ماہ کا بچّہ تو مشکل سے آوازیں نکالنا شروع کرتا ہے، تو یہ کیسے بولے گی، لوگ مجھ پر ہنستے تھے کہ یہ دو مہینے کی بچّی کو گردن ٹھہرانا سکھا رہی ہے، تھراپیز کے لیے لے کر جا رہی ہے، مجھے پاگل تک کہا گیا، لیکن مَیں نے لوگوں کی باتوں پر نہیں، صرف اپنی بچّی پر توجّہ دی اور مَیں ایسا صرف اس لیے کرسکی، کیوں کہ میرے شوہر، سُسرال، میکے والے، بالخصوص میری ساس حد درجہ سپورٹیو ہیں۔
خیر، زندگی ایک ٹریک پر آگئی تھی کہ اچانک 2020ء میں صلہ کو کینسر تشخیص ہوا اورہمارے قریباً9 ماہ آغاخان اسپتال کے بیڈ ہی پر گزرے،جہاں ہم نے عید بھی منائی اور صلہ کی سال گرہ بھی، لیکن وہ کہتے ہیں ناں’’انت بھلا، تو سب بھلا‘‘ تو فروری 2021ء میں میری بہت بہادر، فائٹربچّی ، کینسر فرِی ہو کر گھر لَوٹی اور اب مین اسٹریم اسکول میں زیرِ تعلیم ہےاور کسی بھی طور صبح عادل(اپنی بڑی بہن) سےکم نہیں ۔ مَیں باقی ماؤں سے بھی یہی کہوں گی کہ سب سے پہلے تو اپنے اور اپنے بچّے کے ساتھ ہم دردی کرنا بند کریں، اُسے بے چارہ مت بنائیں۔ آپ کا بچّہ بھی وہ سب کچھ کر سکتا ہے، جو باقی بچّے کرتے ہیں، بس اُسے جس ایک چیز کی اشد ضرورت ہے، وہ ہےآپ کی بھرپور توجّہ ،محنت اور محبّت۔ ‘‘
سی پی چائلڈ، محمّد احمد خان کی ماما، سعدیہ عبید خان نے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا،’’میرا ہمیشہ سے یہ ماننا ہے کہ جب اللہ ہمیں کسی امتحان سے گزارنے کا ارادہ فرمالیتا ہے، تو پہلے اُس کی تیاری کرواتا ہے اور میرا یہ یقین اُس وقت مزید پختہ ہوا، جب میرے بہت ہی پیارے بیٹے، محمّد احمد خان کی ولادت ہوئی۔ یقیناً بہت سے لوگوں کو یہ محض ایک اتفاق لگے گا کہ مَیں نے ماسٹرز میں تحقیق کے لیے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ ’’ڈِس ایبلڈ چلڈرن‘‘ تھا، جس کی تیاری کے لیے مجھے خصوصی بچّوں کے حوالے سے بہت سے مضامین، تحقیقی مقالے، رپورٹس وغیرہ پڑھنی پڑی تھیں۔ ایک طرح سے یہ تیاری اللہ کی طرف سے کروائی جا رہی تھی، تاکہ مَیں ایسے بچّوں کے رویّے، ضروریات، مزاج کا اُتار چڑھاؤ وغیرہ سمجھ سکوں۔
خیر، ویسے تو بہت سے لوگ احمد کی بیماری کی وجہ ہماری ’’کزنز میرج‘‘ کو(مَیں اور میرے مرحوم شوہر فرسٹ کزنز تھے) قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ڈاکٹرز کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ احمد کی پیدائش بالکل نارمل ہوئی تھی، لیکن جس اسپتال میں میری زچگی ہوئی، وہاں نرسری، انکیوبیٹر وغیرہ کا مناسب انتظام نہ ہونے کے سبب جب میرے بچّے کو پیدائش کے فوراً بعد آکسیجن کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، تو وہ میسّر نہ آسکی۔ پیدائش کے وقت اس کا وزن 12 پاؤنڈ تھا، یہ گورا چِٹّا، بے حد حسین پیدا ہوا تھا، اب بھی بہت پیارا ہے۔ ابتدائی تین ماہ میں مجھے بھی اتنا اندازہ نہیں ہوا کہ بچّے کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے اور ڈاکٹرز نے بھی تشخیص نہیں کیا۔
جب یہ تین ماہ کا ہوا اور ہم اسے معمول کے چیک اَپ کے لیے اسپتال لے کر گئے، تو ڈاکٹر نے دونوں ہاتھوں سے اس کی انگلیاں دبائیں، اسے دھکّا سا دیا، لیکن اس نے اُٹھنے کی کوشش نہیں کی، حالاں کہ ویسے یہ بے حد ایکٹیو ہونے کے ساتھ اپنی عُمر کے لحاظ سے اچھے ریسپانسز دیتا تھا۔ خیر، ڈاکٹر نے کہا کہ ’’احمد کے کچھ ضروری ٹیسٹس کروانے ہوں گے، مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا بچّہ سی پی (Cerebral Palsy) ہے۔‘‘ بس پھر کیا تھا، ہمارے تو جیسے پَیروں تلے زمین نکل گئی۔ جب اس کا برین ٹیسٹ ہوا، تو پتا چلا کہ ڈاکٹر کے خدشات درست تھے، اس کے جسم اور دماغ کا تعلق کم زور تھا۔
اس بیماری میں ویسے تو ذہن ٹھیک کام کرتا ہے، لیکن دماغ کے سگنلز جسم تک تاخیر سے پہنچتے ہیں، جس کی وجہ سے بچّہ زندگی بھر چلنےپھرنے، اُٹھنے بیٹھنے سے محروم رہتا ہے۔ اُس دن کے بعد ہم نے شہر کا کوئی اسپتال، ڈاکٹر، حکیم، مزار، دَم، درود نہیں چھوڑا، جس نے جو بتایا، وہ کیا۔ میری بیٹی احمد سے سوا سال چھوٹی ہے، تو سوا سال تک ہم نے پاگلوں کی طرح احمد کا ہر علاج کروایا کہ بس کسی بھی قیمت پر ہمارا بچّہ ٹھیک ہوجائے، اس کا سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا اور اب بھی ہے کہ اس کی کمر نہیں ٹھہرتی، یہاں تک کہ اس نے کروٹ لینا بھی آٹھویں، نویں مہینے میں سیکھا۔
اسی دوران جب مَیں دوسری بار اُمید سے ہوئی، تو بہت سے لوگوں نے کہا کہ ’’تمہارا ایک بچّہ پہلے ہی معذور ہے، دوسرا کیوں پیدا کر رہی ہو، ہو سکتا ہے وہ بھی ایسا ہی ہو۔‘‘ جس پر مَیں نے کہا کہ ’’میرا دوسرا بچّہ، اپنے بھائی کا سہارا بنے گا۔‘‘ اور یہی ہوا، اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا۔الحمدُ للہ، میری بیٹی بالکل نارمل ہے اور اُسے دیکھ دیکھ کر اس کے بھائی نے بہت سی چیزیں سیکھیں۔ میرے بیٹے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا نظامِ ہضم ٹھیک نہیں ۔ کچھ کھاتا ہے، تو فوراً الٹیاں شروع کردیتا ہے۔ نیلا پڑ جاتا ہے۔ نیز، یہ گھر سے کبھی کبھار ہی نکلتا ہے، تو ظاہر ہے اسے شور شرابے کی عادت نہیں، توذرا سا بھی شور اسے بہت پریشان کردیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مَیں شادی بیاہ یا خاندان کی دیگر تقریبات میں نہیں جاتی کہ اگر کہیں جاؤں اور شور و غل سے اس کی طبیعت بگڑ جائے، تو پوری محفل ہمیں، بالخصوص اسے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگتی ہے۔مانا کہ ابھی ہماری سوسائٹی اس قدر با شعور نہیں ہوئی کہ اسپیشل بچّوں کو کُھلے دل سے تسلیم کر سکے، لیکن پتا نہیں، ہم اس قدر بے حِس کیوں ہو چُکے ہیں کہ کسی کو پریشانی میں دیکھ کر تسلّی کے دو بول بولنے کے بجائے اپنے تلخ رویّوں، حقارت بھری نظروں سے اُس کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔ لیکن مَیں ان سفّاکانہ رویّوں کے سبب بہت مضبوط ہو ئی ہوں اور ویسے بھی ایک عورت تو کم زور ہو سکتی ہے، لیکن ماں نہیں کہ بات جب اولاد پر آجائے، تو پھر وہ کسی کی پروا نہیں کرتی۔
ایک بار ہم (مَیں اور میرے مرحوم شوہر عبید) بچّی کے اسکول گئے، بیٹا بھی ساتھ ہی تھا، تو مَیں نے دیکھا کہ اسکول کا گارڈ میرے بیٹے کو دیکھ کر اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر ’’اللہ توبہ، اللہ توبہ‘‘ کہے جا رہا ہے، جس پر عبید تو کچھ نہ بولے، لیکن مجھے شدید غصّہ آیا اور مَیں نےاسے خُوب ڈانٹا۔بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ بہت سے اسپیشل بچّوں کی مائیں ایسے مواقع پر جھینپ جاتی ہیں، لیکن مَیں سب سے یہ کہنا چاہوں گی کہ مائیں کم زور نہیں،بچّوں کی ڈھال ہوتی ہیں۔جب تک آپ خود ان کے لیے کھڑی نہیں ہوں گی، یہ معاشرہ بھی انہیں ہرگز قبول نہیں کرے گا۔‘‘
17 سالہ آٹسٹک نوجوان، ابراہیم کی ماما ،ڈاکٹر سبین احمدکا کہنا ہے کہ ’’ابراہیم اپنی عُمر کے بچّوں کی طرح ایکٹیو، ہنس مُکھ تھا۔ اس کے مائیل اسٹونز بھی نارمل تھے۔ ایک سال کا ہوا تو اشاروں کی مدد سے چیزوں کی نشان دہی اور ماما، بابا بھی بولنا شروع کر دیا۔ لیکن اس کی ایک غیر معمولی بات یہ تھی کہ اس میں ضد کا عُنصر بہت زیادہ تھا، اتنا زیادہ کہ اگر اس کی بات نہ مانی جائے تو غصّے میں سانس روک لیتا اور کبھی کبھار تو اپنا سر فرش پر مارنے لگتا۔
خیر، ابتدا میں تو مجھے اس رویّے کی وجوہ سمجھ نہیں آئیں، لیکن جب یہ دو سال کا ہوا تو مَیں نے مشاہدہ کیا کہ یہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہتا ہے۔ ہم سے(مجھ سے، اپنے بابا اور بڑے بھائی سے) بھی نہیں کھیلتا۔ چوں کہ ابراہیم سے پہلے بھی میرا ایک بیٹا تھا، تو مجھے یہ تو اندازہ ہو گیا کہ چھوٹے بیٹے کا انداز غیر معمولی ہے۔ پھر ایک دن ہمارے ہاں ایک خاتون آئیں، جنہوں نے ابراہیم کو دیکھ کر مجھے مشورہ دیا کہ ’’آپ اسے کسی ماہرِ نفسیات کو دکھائیں، ہو سکتا ہے، اسے آٹزم ہو۔‘‘ سو، ہم نے ابراہیم کا معائنہ کروایا، تو معالج نے بتایا کہ ’’آپ کا بچّہ آٹزم کا شکار ہے۔‘‘
مجھے آج بھی وہ لمحہ اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت ڈاکٹر نے یہ جملہ کہا، مجھے لگا کہ میری دُنیا ہی اُلٹ گئی ہے۔ مَیں نے زارو قطار رونا شروع کردیا تھا۔ تب لیڈی ڈاکٹر نے مجھے ہمّت دیتے ہوئے کہا’’سبین! آج تمہیں جتنا رونا ہے، رو لو کہ کل سے تمہیں کمر کس لینی ہے اور اس کے ساتھ کام کرنا ہے، کیوں کہ اگر ان بچّوں کے ساتھ ابتدا ہی سے کام کیا جائے، تو یہ بھی کافی حد تک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘ یہاں یہ بھی بتاتی چلوں کہ شروع میں ابراہیم نے جو کچھ بھی بولنا سیکھا تھا، جیسے ماما، بابا وغیرہ وہ بھی بولنا چھوڑ دیا تھا۔اُس کی تمام صلاحیتیں بتدریج ختم ہو گئی تھیں۔
یعنی مجھے اپنے تین، ساڑھے تین سال کے بیٹے کے لیے اسکریچ سے محنت کرنی تھی۔ خیر، جب ڈاکٹر کو دکھا کر واپس آئی، تو میرے ذہن میں بس ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ! آخر مَیں ہی کیوں…؟؟ میرے بچّے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔‘‘ پھر مَیں نے خود کو سنبھالا اور ابراہیم کی تعلیم و تربیت کے لیے مختلف سینٹرز کی تلاش شروع کردی۔ اس دوران مجھے کسی نے فرزین خواجہ کے بارے میں بتایا، جو کراچی میں تھیں۔ فرزین نے تھراپیز وغیرہ کے حوالےسے میری بہت مدد کی، اچھی طرح گائیڈ کیا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میرے شوہر اُس وقت آرمی میں تھے اور ہم پشاور میں پوسٹڈ تھے، تو وہاں اسپیشل بچّوں کے لیے کوئی اسکول یا ادارہ نہیں تھا۔ پھر ہمیں پتا چلا کہ کراچی میں روحی معروف ’’سینٹر فار آٹزم‘‘ کے نام سے ایک ادارہ چلا رہی ہیں، تو ہم نے فوج سے خصوصی درخواست کی، تو ہماری پوسٹنگ کراچی ہوگئی۔ اس طرح 2010ء میں ہم نے سینٹر فار آٹزم جوائن کیا، جہاں دو بہت ہی خاص تھراپیز ہوتی ہیں، ’’اے بی اے اور ٹیچ‘‘ ان دونوں پروگرامز کو ملا کر ہفتے میں پانچ دن، تین گھنٹے کی کلاسز ہوتی ہیں، جن میں ماؤں کا جانا لازمی ہے کہ یہ ہے ہی ’’مدر چائلڈ ٹریننگ پروگرام‘‘۔
ہم ماں، بیٹے نے ڈیڑھ سال وہاں تربیت لی، جس کی وجہ سے ابراہیم میں بہت بہتری آئی۔ پھر میڈم روحی نے کہا کہ ’’اب آپ اسے مین اسٹریم اسکول میں داخل کروادیں۔‘‘ جس پر ہم نے اسے کراچی کے ایک بہترین نجی اسکول میں داخل تو کروادیا، لیکن تجربہ اچھا نہیں رہا۔ یہاں مَیں معاشرتی رویّوں کے حوالے سے ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ کمیاں، خامیاں کس میں نہیں ہوتیں، یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ وہ ان پر پردہ رکھتا ہے، تو ہم کیوں خصوصی افراد پر یہ زمین تنگ کرنے پہ تُلے رہتے ہیں؟
خصوصی بچّوں کے والدین پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، اُس پر لوگوں کے منفی رویّے، جملے بازیاں ان کی پریشانیاں مزید بڑھا دیتے ہیں۔ خیر، پھر میرے شوہر ریٹائر ہوگئے اور ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ یہاں ہم نے ’’لاہور اسکول آف لرننگ‘‘ میں ابراہیم کا داخلہ کروایا، ویسے یہ ایک مین اسٹریم اسکول ہے، لیکن انہوں نے ہر کلاس میں اسپیشل نیڈز بچّوں کا بھی کوٹا رکھا ہوا ہے۔ میرے بیٹے نے کلاس وَن سے اس اسکول میں جانا شروع کیا تھا اور اب الحمدُللہ یہیں سے او لیولز کر رہا ہے۔ لیکن مجھے ہر وقت بس ایک ہی بات ستاتی ہے کہ ابھی تو ہم (مَیں اور میرے شوہر) ابراہیم کے ساتھ ہیں، لیکن ہماری آنکھ بند ہونے کے بعد اس کا کیا ہوگا کہ یہ معاشرہ تو آٹزم یا معذور فرینڈلی معاشرہ ہے، نہ یہاں ایسے لوگوں کے لیے ملازمت کے مواقع ہیں،تو ہمارے بعد کیا یہ معاشرہ اسے اپنائے گا…؟‘‘
قوّتِ گویائی و سماعت سے محروم اور چلنے پِھرنے سے قاصر محمّد ذیشان اور محمّد فرقان کی 70 سالہ نانی، سائرہ خاتون نے نم آنکھوں سےاپنی کتھا کچھ اس طرح سُنائی ’’ یہ دونوں بچّے میری مرحوم بیٹی کی آخری نشانی ہیں ۔جب تک میری بیٹی زندہ تھی، تو وہی ان کی دیکھ بھال کرتی تھی، لیکن اس کی وفات کے بعد ان کی تمام تر ذمّے داری مجھ بڑھیا پر آگئی کہ میر ے داماد نے بیوی کی آنکھ بند ہوتے ہی، دوسری شادی کرلی تھی اور دوبارہ مُڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ اس کے بچّے کس حال میں ہیں۔ ایسے میں اگر مَیں بھی ان بچّوں سے منہ موڑ لیتی، تو ان کا کیا ہوتا۔
جب ہمیں پتا چلا کہ یہ چل پھر سکتے ہیں، نہ سُن ،بول سکتے ہیں، تواپنی استطاعت کے مطابق کچھ دن ڈاکٹرکو بھی دکھایا اور دَم درود بھی کروایا، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ پھر ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں تھے کہ بڑے اسپتالوں میں ان کا علاج کرواتے۔ ویسے تو ان کا خیال رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہوں، لیکن عُمر رسیدگی اور بیماریوں کی وجہ سے اب مجھ میں اِتنی ہمّت نہیں رہی کہ ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرسکوں۔اکثر یہ خیال مجھے تڑپا کے رکھ دیتا ہے کہ میرے بعد ان دونوں کا کیا ہوگا۔‘‘
نو جوان ارسلان کی ماں صغریٰ بی بی کا کہناہےکہ’’ میرا بیٹا ارسلان آنکھوں کی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہے، جس میں شام ہوتے ہی اس کی بینائی چلی جاتی ہےاوروہ کوئی چیز دیکھنے کے قابل نہیں رہتا۔ نیز، جسمانی طور پرانتہائی لاغرہونے کے ساتھ دیگر کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہے ۔ جب ارسلان پیدا ہوا تھا، تو سب نے خوب مبارک باد دی تھی کہ ’’تمہارے بڑھاپے کا سہارا آگیا‘‘، لیکن کون جانتا تھا کہ یہ تا حیات میرے سہارے کا محتاج رہے گا۔‘‘
پندرہ اور بارہ برس کےنبیل اور عدیل (بالترتیب) کی والدہ، استانی جی کا (بچّوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے سبب اسی نام سے مشہور ہیں) دُکھ کچھ اور بھی سوا ہے۔ کہتی ہیں،’’جانے میرے دونوں ہی بچّے کس بیماری میں مبتلا ہیں کہ نہ یہ بنا سہارے اُٹھ، بیٹھ سکتے ہیں، نہ اپنا کوئی کام خود کر سکتے ہیں۔ جب بڑا بیٹا، نبیل پیدا ہوا، تو مَیں بہت خوش تھی کہ چلو شوہر کا ہاتھ بٹانے والا آگیا، لیکن جیسے جیسے یہ بڑا ہوتا گیا تو پتا چلا کہ یہ تو معذور ہے، پھر چھوٹے بیٹے عدیل کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ہمارے بچّوں کا معذور ہونا تو اللہ کی مرضی ہے، لیکن جب اپنے بچّوں کی بے بسی ، ان کے ہم عُمر باقی بچّوں کو کھیلتا کودتا، پڑھتا لکھتا دیکھتی ہوں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔نیز، ایک بات ہمیشہ مجھے پریشان کرتی ہے کہ آخر ہمارا معاشرہ میرے نبیل، عدیل جیسے بچّوں کواپنانے سے انکاری کیوں ہے، کیوں انہیں انسان نہیں، کوئی دوسری مخلوق سمجھا جاتا ہے…‘‘
اے ڈی ایچ ڈی(Attention Deficit Hyperactivity Disorder) کے شکار، ساڑھے گیارہ برس کے حُسین کی والدہ زیب النّسا نےبات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’حُسین کی پیدائش سے ہم سب کی زندگیوں میں رنگ بھر گئے تھے۔ خاندان کا پہلا بچّہ ہونے کی وجہ سے یہ ننھیال، ددھیال دونوں کا بے حد لاڈلا تھا، گول مٹول بھی تھا، لیکن مجھے اس کا رویّہ عام بچّوں سے مختلف لگتا تھا۔ پھر ایک روز جب عام نزلہ، بخار کی وجہ سے مَیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی، تو انہوں نے اسے دیکھ کر کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے، آپ کا بچہ اے ڈی ایچ ڈی ہے،آٹزم کا شکار ہے۔‘‘
جس پر مَیں نے اپنے شوہر سے کہا کہ ’’حُسین کے معائنے کے لیے کسی اچھے ڈاکٹر سے وقت لیں۔‘‘ سب کہتے تھے کہ ’’تم بلا وجہ پریشان ہو رہی ہو، بچّے کو کوئی بیماری نہیں ہے۔‘‘ مجھے یاد ہے، جس دن ہم حُسین کو معائنے کے لیے لے کر جا رہے تھے، تو میرے شوہر نے مجھ سے کہا تھا’’مَیں صرف تمہارے کہنے پر اسے لے کر جا رہا ہوں، ورنہ میرا بچّہ بالکل فِٹ ہے۔ اسکول میں ایڈمیشن ہوجائے گا، تو یہ بولنا بھی شروع کر دے گا۔‘‘ لیکن مَیں اس بات پر ڈَٹ گئی کہ ’’مجھے تو اسے ڈاکٹر کو دِکھانا ہی ہے۔‘‘ کیوں کہ جو مَیں محسوس کر رہی تھی، وہ باقی لوگوں کو نظر نہیں آرہا تھا۔
اسی لیے مَیں باقی ماؤں سے بھی یہی کہوں گی کہ اپنے بچّوں کے معاملے میں صرف اپنی چھٹی حِس پر بھروسا کریں۔ پھر جب حُسین کی تھراپیز شروع ہوئیں، تو وہ بھی ایک بہت ہی مشکل مرحلہ تھا کہ اے ڈی ایچ ڈی کے شکار بچّے ہائپر ایکٹیو ہوتے ہیں، ایک جگہ ٹِک کر نہیں بیٹھتے، ایک ہی چیز پر زیادہ دیر تک فوکس نہیں رکھ پاتے۔
خیر، اب میرے حُسین میں بہت بہتری آگئی ہے۔ بس یہ ضرور ہے کہ اس کی وجہ سے باقی بچّے، بالخصوص اس سے ایک سال چھوٹا، حسن بہت نظر انداز ہوا، کیوں کہ ہماری ساری توجّہ حُسین پر مرکوز تھی۔ اس تمام سفر میں میرے شوہر، سُسرال والوں، بالخصوص سُسر نے بہت ساتھ دیا۔ حُسین کو سوئمنگ کا بہت شوق ہے، جنگ اخبار بہت شوق سے پڑھتا ہے، اس کی کٹنگز سنبھال کے رکھتا ہے۔ اور ہاں، مَیں ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ اگر کسی فیملی میں کوئی اسپیشل نیڈز بچّہ ہے، تو خاندان والوں کی ذمّے داری ہے کہ والدین کی حوصلہ افزائی کریں، ان کی ہمّت بندھائیں۔ یقین جانیے، تعریف کے دو بول بھی اُن کے لیے کسی بڑے انعام سے کم نہیں ہوتے۔‘‘
دس سالہ آٹسٹک بچّے عیان کی ماما ،وردہ شرمین نے کہا کہ ’’لفظ آٹسٹک مَیں نے پہلی بار تب ہی سُنا، جب پتا چلا کہ میرا عیان اس بیماری میں مبتلا ہے۔ ورنہ اس سے پہلے تک تو مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ اس طرح کا کوئی نیورو لوجیکل ڈِس آرڈر بھی ہوتا ہے۔ عیان 3 سال کا تھا، جب ہمیں اس کے آٹسٹک ہونے کا پتا چلا۔ پہلے پہل تو مَیں بہت گھبرا گئی، کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا، لیکن پھر سمجھ آیا کہ اللہ پاک نے اپنے ایک خاص بندے کی پرورش کے لیے مجھے چُنا ہے۔ بس ایک بات ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بچّوں کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے شعور و آگہی فراہم کی جانی چاہیے۔
جب کوئی پلٹ پلٹ کر میرے بچّے کو دیکھتا یا ہنستا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ آٹسٹک یا کسی بھی دوسری بیماری کے شکار بچّوں کا بھی اس دنیا پر اُتنا ہی حق ہے، جتنا باقی بچّوں کا، تو کیوں انہیں مین اسٹریم اسکولز میں داخلہ نہیں مل پاتا؟ یقین کریں، ہماری ذرا سی برداشت اور تحمّل میرے عیان جیسے کئی بچّوں کو نارمل زندگی گزارنے میں مددفراہم کر سکتی ہی۔ آپ سب سے التماس ہے کہ خدارا! اگر ایک بچّہ کچھ غیر معمولی حرکتیں کر رہاہے، زارو قطار رو رہاہے، تو کبھی بلا وجہ ہنس رہا ہے،تو اسے تحقیر آمیز نگاہوں سے مت دیکھیں، اس کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بچّے محبّت اور توجّہ کے طالب ہیں، نہ کہ عدم توجہی و حقارت کے۔‘‘