• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صدر مملکت ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل مسترد کریں، ان کی بھی 2 بیٹیاں ہیں، والد نور مقدم

نور مقدم : فائل فوٹو
نور مقدم : فائل فوٹو 

نور مقدم کے والد شوکت مقدم کا کہنا ہے کہ صدر سے اپیل کروں گا کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل مسترد کریں، صدر مملکت کی اپنی بھی دو بیٹیاں ہیں۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ سزا پر عملدرآمد ہونا چاہیے، ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک میڈیا نے ہمارا بہت ساتھ دیا، میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

شوکت مقدم نے مزید کہا کہ بیٹیوں اور بچیوں کو یہی پیغام دوں گا کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نور مقدم کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی نظر ثانی درخواست مسترد کردی، سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا، فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے سزا میں رعایت کی درخواست کی، واقعے اور ٹرائل کےوقت موکل کی دماغی حالت ٹھیک نہ ہونے کے دلائل دیے، استغاثہ اور جج پر دباؤ میں فیصلہ دینے کا الزام عائد کیا۔

وکیل نے کہا کہ ریکارڈ موجود ہےظاہر جعفر Bipolar Disorder، شیزوفرینیہ اور ڈپریشن کی ادویات لیتا تھا، یہ وہ بیماریاں ہیں جس میں مریض جارحانہ مزاج میں آ جاتا ہے، ہماری میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواستیں بھی منظور نہیں ہوئیں۔

 جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ عدالت فیصلہ نہ اخباری رپورٹنگ پر کرتی ہے نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں، آپ نے ہائیکورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہ دینے کو بھی چیلنج نہیں کیا، جس سے وہ معاملہ تو حتمی ہوچکا۔

نور مقدم قتل، کب کیا ہوا؟

20 جولائی2021ء کو عیدالاضحیٰ کے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پولیس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم ظاہرجعفر واقعے سے قبل اپنے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سے مسلسل رابطے میں رہا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے والدین نے پولیس کو اطلاع دینے کی بجائے تھراپی ورکس سے رابطہ کیا، تھراپی ورکس کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی تو ملزم ظاہر جعفر نے مبینہ طور پر تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر دیا، پولیس کے پہنچنے تک نور مقدم کا قتل ہو چکا تھا اور مقتولہ کی سربریدہ لاش وہاں موجود تھی۔

نور مقدم کیسے قتل ہوئی ؟ CCTV ٹرانسکرپٹ میں دل دہلا دینے والے مناظر کا ذکر

پولیس نے ملزم کو خون آلودہ قمیض میں گرفتار کر کے جائے وقوع سے آلۂ قتل بھی برآمد کیا۔

شواہد چھپانے اور جرم میں معاونت کے الزام میں پولیس نے قتل کے 5 روز بعد 25 جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت دیگر ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نورمقدم کو پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر زخمی حالت میں گھر سے نکلنے کی کوشش کرتے اور ظاہر جعفر کو دست درازی کرتے دیکھا گیا۔

فوٹیج میں ملزم کے ملازمین بھی نظر آئے جنہوں نے کسی موقع پر ملزم کو روکنے یا نور مقدم کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔

کیس کا باقاعدہ ٹرائل 20 اکتوبر 2021ء سے شروع ہوا اور 25 سماعتوں پر مشتمل رہا۔

نور مقدم قتل کیس کا اسپیڈی ٹرائل 4 ماہ 8 دن جاری رہا،جس کے دوران 19 گواہان کے بیانات قلم بند ہوئے۔

پہلی پیشی سے ہی ملزم کبھی پولیس اور کبھی عدالت کے جج سے الجھتا اور کمرۂ عدالت میں عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا۔

دورانِ سماعت مرکزی ملزم نے خود کو ذہنی مریض ثابت کرنے کے لیے ہر حربہ آزمایا، پولیس بھی ملزم کو کبھی اسٹریچر تو کبھی وہیل چیئر پر عدالت لاتی رہی۔

قومی خبریں سے مزید