سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے متفقہ فیصلہ سنایا۔
سماعت کے دوران ظاہر جعفر کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے کے وقت میرے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے تاہم عدالت نے بیماری، علاج اور میڈیکل ریکارڈ سے متعلق تفصیلی شواہد طلب کیے۔
بینچ نے استفسار کیا کہ مجرم کا علاج کب شروع ہوا؟ کون سے ڈاکٹرز نے علاج کیا اور وقوعے کے وقت علاج جاری تھا یا نہیں۔
عدالت نے لندن کے کلینک سے پیش کیے گئے خط پر بھی سوالات اٹھائے اور دفاعی مؤقف میں تضادات کی نشاندہی کی۔
خواجہ حارث نے مؤقف اپنایا کہ استغاثہ نے مجرم کا نشے کا ٹیسٹ نہیں کروایا اور ٹرائل کے دوران دباؤ موجود تھا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں نہ میڈیا رپورٹنگ اور نہ ہی سوشل میڈیا کے دباؤ میں فیصلے کرتی ہیں۔
وکیل نے عدالت سے دوبارہ ٹرائل کے بجائے سزا میں رعایت دینے کی درخواست کی تاہم عدالت نے قرار دیا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل سے متعلق معاملہ پہلے ہی حتمی ہو چکا ہے اور دفاع اس نکتے کو مؤثر انداز میں ثابت نہیں کر سکا۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کی سزا پر نظرِثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔