• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کبھی آپ نے غورکیا ہے کہ چند برس قبل ہمارے ہاں چھوٹے سر والے بچے بکثرت نظر آتے تھے،ہرے رنگ کا چو لا پہنے یہ بچے نہ صرف گلیوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے بلکہ درگاہوں اور درباروں پر بھی ان بچوں اور بچیوں سے آمنا سامنا ہواکرتا تھا۔ اس طرح کے بچوں کو شاہ دولے کے چوہے کہا جاتا تھا مگر اب اس طرح کے بچے بہت کم نظر آتے ہیں، یہ کیا ماجرا ہے؟ غالباً2011ء میں اس حوالے سے کچھ جستجو کے بعدکالم میں اپنی معروضات پیش کی تھیں لیکن تازہ ترین سیاسی حالات کی روشنی میں انہیں دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔سائنسی اعتبار سے تو چھوٹا سر ایک جینیاتی خامی ہے جس کی وجہ سے بچے کی کھوپڑی کے جوڑ وقت سے پہلے ہی بند ہو جاتے ہیں لہٰذا اس کا سر چھوٹا رہ جاتا ہے۔ امریکہ کے نیشنل ہیومن جینوم ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے چند سال پہلے اس معاملے پر تحقیق کی تھی اور اس تحقیق میں ان 33 پاکستانی گھرانوں کو بھی شامل کیا گیا تھا جن کے ہاں بچوں کے سر چھوٹے رہ گئے لیکن امریکی ماہرین اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی پیدائش کی شرح معمول سے زیادہ کیوں ہے؟ اس کی ایک وجہ تو قریبی رشتہ داروں میں نسل در نسل شادیاں بھی ہیں اور دوسرا معاملہ پراسراریت کا ایسا گورکھ دھندہ ہے جو آج تک کوئی حل نہیں کر سکا اور یہ بھی سوالیہ نشان ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کو شاہ دولے کے چوہے کیوں کہا جاتا ہے؟ اس حوالے سے ایک روایت یہ ہے کہ حضرت شاہ دولہ دریائی بہت بڑے صوفی بزرگ ہوئے ہیں جن کا مزار گجرات میں ہے اور ان کا سلسلہ طریقت حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانی سے ملتا ہے۔ انہیں دریائی اس لئے کہا جاتا ہے کہ کبھی دریائے چناب یہاں سے گزرتا تھا۔ اس مزار کے سامنے جو چھوٹی سی سڑک ہے مغل بادشاہ اسی راستے سے گزر کر کشمیر جایا کرتے تھے، چھوٹے سر والوں کے شاہ دولہ سے منسوب ہونے کا پس منظر یہ ہے کہ بے اولاد جوڑے جب یہاں منت ماننے آتے تھے تو ان کاپہلا بچہ عموماً ایب نارمل یعنی اس کا سر چھوٹا ہوتا تھا جسے وہ شاہ دولہ کے دربار پر چھوڑ آتے تھے۔ کہاجاتا ہے کہ حضرت شاہ دولہ ایسے بچوں کی اولاد کی طرح پرورش کرتے تھے لہٰذا ملک بھر میںموجودچھوٹے سر والے بچوں کو شاہ دولہ کے چوہے کہا جانے لگا یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو سائیں، درویش اور اللہ والے سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا تاثر یہ ہے کہ یہ بچے بالکل نارمل ہوتے ہیں بھکاری مافیا ان بچوں کو اغوا کرتا ہے بچپن میں ہی ان بچوں کے سروں پر لوہے کے کنٹوپ یا آہنی پتریاں لگا کر رکھا جاتا ہے تاکہ ان کے سر چھوٹے رہ جائیں اور ان کی ذہنی نشو و نما نہ ہو سکے تاکہ انہیں درگاہوں اور بازاروں میں دولے شاہ کے چوہے کے طور پر پیش کیا جائے اور لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ کر بھیک کا کاروبار بڑھایا جائے، لوگوں میں چونکہ بتدریج شعور بیدار ہو رہا ہے ،جہالت اور لا علمی کے اندھیرے چھٹ رہے ہیں لہٰذا دولے شاہ کے چوہوں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے اور اب ایسے بچے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔

ان چھوٹے سر والے بچوں کے حوالے سے تو اب شعور بیدار ہو رہا ہے اور لوگ حقیقت جان گئے ہیں مگر ہمارا معاشرہ برسہابرس سے ایسے طفلان انقلاب کو جنم دے رہا ہے جو بظاہر ہیبت اور وضع قطع کے اعتبار سے توبھلے چنگے معلوم ہوتے ہیں مگر ذہنی نشونما کے حوالے سے کسی ’’شاہ‘‘کے چوہوں سے بھی بدتر ہیں ۔ یہ چوہے ہماری بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ یہ نئی طرز کے چوہے ہماری سیاسی ،اخلاقی ،معاشرتی اقدار کو کاٹ کر کھاچکے ہیں۔ ان کے سرچھوٹے نہیں ہوتے، سوچ محدود ہوتی ہے۔مذہب ،مسلک اور سیاست میں ان شاہ دولےکے چوہوں کی مانگ تو پہلے بھی ہوا کرتی تھی۔ سیاسی اکابرین اورمذہبی پیشواشروع سے ہی ان بچوںکے سروں پر اپنی محبت اور چاہت کے کھونٹے گاڑ دیا کرتے ، اوائل عمری سے ہی ان کے دماغوں پر مخالفین سے نفرت کی آہنی ٹوپیاں چڑھا دی جاتیں، وفاداری کے بجائے اطاعت و غلامی کا خود پہنا دیا جاتا تاکہ ان کی ذہنی نشوونما رک جائے اوریہ شاہ دولے کے وہ چوہے بن کر رہ جائیں جو صرف آوے ہی آوے کے نعرے لگائیں، اپنے لیڈر کے گن گائیں، اپنے ہی موقف پر اتر آئیں، باقی سب بھول جائیں اور اپنے قائد کے لیے لڑ مر جائیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔ دولے شاہ کے یہ چوہے صرف سیاست تک محدود نہیں ہیں، ہر ’’شاہ‘‘ نے اپنے ہاں چوہوں کی فوج تیار کر رکھی ہے۔یہ رجحان مذہبی طبقات میں بھی ہے،کہیں لسانیت کی پٹی بندھی ہے، کہیں صوبائیت کا شکنجہ ہے تو کہیں قوم پرستی کا ایسا سانچہ جس میں سر چھوٹا تو نہیں ہوتا مگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے، دماغ تو نہیں سکڑتا مگرتنگ نظری غالب آجاتی ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ جب ان کی سوچ پر پہرے بٹھائے جارہے ہوتے ہیں، سروں پر لوہے کے کڑے چڑھائے جارہے ہوتے ہیں تو انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے چوہے بننے جارہے ہیں، وہ بس دولے شاہ کے چوہوں کی طرح چندہ، ووٹ اور جلسوں کی رونق بڑھانے کے کام آتے ہیں۔2011ء میں سیاسی بندوبست کے تحت شروع کئے گئے ایک منصوبے ’’پروجیکٹ عمران‘‘کے تحت دولے شاہ کے چوہے تیار کرنے کے کام میں تیزی آئی ۔یہ منصوبہ تو فلاپ ہوچکا مگر مشکل یہ ہے کہ سیاسی بونوں کی جوکھیپ تیارکی گئی تھی وہ خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کا دفادار خیال کرتی ہے اور اپنے تخلیق کاروں پر تلملا رہی ہے ۔

تازہ ترین