• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تذکرہ اللہ والوں کا ’’حضرت خواجہ مودود چشتیؒ‘‘

محمّد احمد غزالی

افغانستان کے شہر، ہرات سے 164 کلومیٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب تقریباً 40 ہزار کی آبادی پر مشتمل’’ چِشت‘‘ نام کا مردم خیز قصبہ واقع ہے، جسے سلسلۂ چشتیہ کے مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ اسے خواجہ ابو اسحاق شامیؒ سے شہرت ملی، جنھیں اُن کے مرشد، حضرت ممشاد علوی دینوریؒ نے’’ چشتی‘‘ کا لقب دیا تھا۔ وہ بعدازاں شام چلے گئے اور وہیں مدفون ہیں۔ پھر حضرت خواجہ احمد ابدال چشتیؒ، خواجہ ابو محمّد بن ابو احمد چشتیؒ اور بعدازاں اُن کے بھانجے، خواجہ ناصر الدّین ابو یوسفؒ جیسے اولیائے کرامؒ نے اِس قصبے کو شہرت بخشی۔ اِن ہی خواجہ ناصر الدّین ؒ کے ہاں قطب الدّین مودودؒ پیدا ہوئے، جن کے سبب اِس قصبے کو شہرتِ دوام حاصل ہوئی اور آج اِن ہی کے نام سے دنیا اس مرکزِ علم و عرفان کو جانتی ہے۔

ولادت، خاندان، تعلیم

خواجہ مودود چشتیؒ430 ہجری میں ایک علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ والد، خواجہ ناصر الدّین ابو یوسفؒ سلسلۂ چشتیہ کے پیرِ طریقت تھے، جن سے ہزار ہا افراد روحانی استفادے کے لیے حاضر ہوتے۔ خواجہ عبداللہ انصاریؒ بھی، جو پیرِ ہرات کے نام سے معروف ہیں اور جن کے نام پر وہاں ایک بڑی سرکاری یونی ورسٹی ہے، اُن کے خلفاء میں شامل تھے۔ والد کی طرف سے آپؒ کا نسب 14 واسطوں سے حضرت سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے، جب کہ والدہ کی جانب سے حسنیؓ تھے۔

والد کی شادی کا واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ہرات کے ایک گائوں میں ایک درویش رہتا تھا، جس کی بیٹی اپنی نیک سیرت اور پرہیزگاری میں معروف تھی۔ ایک روز اُس لڑکی نے خواب دیکھا کہ چودھویں کا چاند اُس کے پاس اُترا اور اُسے کہہ رہا ہے کہ’’ تم میری بیوی ہو اور تمھیں اللہ سے مانگا ہے۔‘‘ جب لڑکی کا والد خواب کی تعبیر پوچھنے خواجہ ابو یوسفؒ کے پاس آیا، تو آپؒ نے اُس کے کچھ کہنے سے قبل ہی اُسے خواب بتا دیا اور پھر کہا،’’وہ چاند میں ہی ہوں۔‘‘یوں آپؒ کی اُس سے شادی ہوئی، جس کے بطن سے دو بیٹے، خواجہ مودود چشتیؒ اور تاج الدّینؒ پیدا ہوئے۔

آپؒ نےابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا اور 16 برس کی عُمر میں دینی علوم کی تکمیل کرلی۔ بچپن ہی سے متقّی و پرہیز گار تھے، اِسی لیے اُنھیں ’’مادر زاد ولی‘‘ کہا جاتا تھا۔ مجاہدات اور ریاضت میں ایک خاص مقام کے حامل تھے کہ اُن کے جن مجاہدات کی تفصیلات مختلف کُتب میں درج ہیں، وہ انتہائی حیران کُن ہیں۔ سلوک کی تکمیل پر والد نے خلافت سے سرفراز فرمایا۔جب والد کا وقتِ رخصت آیا، تو اُنھوں نے آپؒ کو طلب کیا اور اپنا جانشین مقرّر کردیا، اُس وقت آپؒ کی عمر 26 یا 29 برس تھی۔

نیز، آپؒ نے معروف صوفی بزرگ، مصنّف اور شاعر، شیخ احمد جام عرف زندہ پیلؒ سے بھی استفادہ کیا۔ دونوں بزرگوں کی ملاقات کا قصّہ مختلف کُتب میں روایات کے اختلاف کے ساتھ درج ہے، جس کا خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ابتدا میں دونوں کے درمیان بعض شرپسندوں کی سازشوں کے سبب کچھ تلخی ہوئی، تاہم، جب ملاقات ہوئی، تو باہم شِیر و شکر ہوگئے۔حضرت مودود چشتیؒ نے شیخ احمد جامؒ سے بہت استفادہ کیا، جب کہ بعض روایات کے مطابق، اُن کے کہنے پر حصولِ تعلیم کے لیے مختلف علاقوں کا سفر بھی کیا۔

شخصیت، تعلیمات

آپؒ سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے۔ انتہائی عاجزانہ طبیعت پائی تھی، کوئی آتا، تو اُس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے، ہمیشہ سلام میں پہل کرتے، سادہ لباس پہنتے ، اکثر روزے سے ہوتے، سلجوق سلطان آپؒ کے عقیدت مندوں میں سے تھا اور قیمتی تحائف بھی بھیجتا، جو آپؒ ضرورت مندوں میں تقسیم کردیتے۔ کثرت سے سماع کی مجالس میں شریک ہوتے، تاہم وہ مجالس آج کی طرح کی نہیں ہوتی تھیں۔ اُن میں علما اور مشائخ کی بڑی تعداد شریک ہوتی ،مجلس کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوتا، پھر مختلف اشعار پڑھے جاتے، جو خلافِ شرع نہ ہوتے۔

آپؒ پر سماع کے دوران ایک خاص کیفیت طاری رہتی، جس کے دَوران کبھی گریہ کرنے لگتے، تو کبھی لبوں پر تبسّم ہوتا۔صاحبِ علم تھے اور اہلِ علم کو پسند فرماتے، جاہل صوفیوں کو اپنے قریب بھی نہ آنے دیتے۔ فرماتے،’’جاؤ! پہلے دینی علوم حاصل کرو، پھر راہِ سلوک میں قدم رکھنا۔‘‘ اِسی ضمن میں آپؒ کا قول ہے کہ’’ زاھد بی علم مسخرۂ شیطان است‘‘ یعنی جاہل صوفی شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے۔ 

حصولِ علم، روحانی استفادے اور مریدین کی تعلیم و تربیت کے لیے حجازِ مقدّس، فلسطین، عراق، بلخ اور بخارا وغیرہ کا سفر کیا، جب کہ آپؒ کی بلوچستان آمد کے بھی تاریخی حوالے ملتے ہیں۔ ایک موقعے پر اپنے خلیفہ، حضرت عثمان ہارونیؒ سے فرمایا، ’’ا للہ تعالیٰ تین گروہوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے۔ وہ باہمّت لوگ، جو محنت کرکے اپنے کنبے کو پالتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اپنے پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرتے ہیں اور وہ عورت جس سے اُس کا شوہر راضی ہو۔ تیسرے وہ جو فقیروں اور عاجزوں کو کھانا کِھلاتے ہیں۔‘‘

چشتیہ سلسلے کا فروغ

گو کہ یہ سلسلہ خواجہ ابو اسحاق شامیؒ سے منسوب ہے اور اُنھیں ہی اِس کا بانی قرار دیا جاتا ہے، تاہم، اِسے فروغ خواجہ مودود چشتیؒ ہی سے حاصل ہوا اور اب وہی اِس سلسلے کے مرکز اور مقتدا سمجھے جاتے ہیں۔ آپؒ 29 برس کی عُمر میں مسند نشین ہوئے اور پھر عوام کی اصلاح و تربیت کا فریضہ اس محنت و خوش اُسلوبی سے سرانجام دیا کہ آپؒ کے پیروکار دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف پھیل گئے۔ آپؒ کی تعلیمات میں خدمتِ خلق اور اللہ کی مخلوق سے محبّت نمایاں ہے، اِسی پر آپؒ نے اپنے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اِس کی مزید وضاحت خواجہ معین الدّین چشتیؒ کے اِس قول سے بھی ہوتی ہے کہ ’’عاجزوں کی فریاد رَسی، حاجت مندوں کی حاجت روائی اور بھوکوں کو کھانا کھلانے سے بڑھ کر کوئی نیک کام نہیں۔‘‘ 

آپؒ کے فیض یافتگان کی کثرت کا اندازہ اِس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سوانح نگاروں نے آپؒ کے خلفاء کی تعداد 10ہزار تک بیان کی ہے، جب کہ مریدین اور معتقدین کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ اگر ہم برّ ِصغیر پاک و ہند کی بات کریں، تو یہاں خواجہ مودود چشتیؒ کے خلیفہ، خواجہ عثمانؒ کے تربیت یافتہ، خواجہ معین الدّین چشتیؒ نے اِس سلسلے کو عوام وخواص میں ایسا مقبول بنایا کہ اسے مریدین کی تعداد کے لحاظ سے خطّے کے سب سے بڑے روحانی سلسلے کا مقام حاصل ہوگیا۔ 

خواجہ نظام الدّین اولیاءؒ، خواجہ فرید الدّین گنج شکرؒ، حضرت قطب الدّین بختیار کاکیؒ، حضرت صابر کلیریؒ، خواجہ نصیر الدّین چراغ دہلویؒ، خواجہ گیسو درازؒ، شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ، پیر مہر علی شاہؒ، خواجہ سلیمان تونسویؒ، خواجہ شمس الدّین سیالویؒ، خواجہ نور محمّد مہارویؒ اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکّیؒ سمیت پاک و ہند کے بہت سے مشائخ اِسی سلسلے کے چشم و چراغ ہیں۔اگر ہم قیامِ پاکستان کے قریب کی مسلکی تقسیم کی بنیاد پر جائزہ لیں، تو دیوبند مکتبِ فکر کے بیش تر مشائخ چشتی نسبت کے حامل ہیں۔ 

ان میں مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ، ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ، مولانا یوسف لدھیانویؒ، حکیم محمد اخترؒ وغیرہ چشتی سلسلے ہی میں بیعت کیا کرتے تھے۔ بریلوی مکتبِ فکر کی بات کریں، تو وہاں گو کہ قادریہ سلسلے کی نسبت غالب ہے کہ مولانا احمد رضا خانؒ اِسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور اب مولانا الیاس قادری وغیرہ اُسی نسبت کے امین ہیں، تاہم اس کے باوجود، بریلوی مکتبِ فکر میں بھی چشتی سلسلے کے بنیادیں بہت وسیع اور گہری ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی ہزاروں چھوٹی بڑی خانقاہیں مسلکی طور پر بریلوی مکتبِ فکر کی پیروکار ہیں اور روحانی طور پر چشتی طریقے کی نمایندگی کرتی ہیں۔

وفات، اولاد

خواجہ مودود چشتیؒ کے وصال کی تاریخ میں اختلاف ہے۔آپؒ نے رجب525 ہجری یا 527 ہجری میں 97 برس کی عُمر میں وفات پائی اور چِشت میں سپردِ خاک کیے گئے۔ جب آپؒ پر نزع کی کیفیت طاری ہوئی، تو بار بار دروازے کی طرف دیکھتے، جیسے کسی کے آنے کا انتظار ہو۔ اِسی اثنا، ایک نورانی چہرے والا شخص اندر آیا اور آپؒ کو ایک ریشمی کپڑے کا ٹکڑا پیش کیا، جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ آپؒ نے کپڑے کو ایک نظر دیکھا، اپنی آنکھوں پر رکھا اور اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ نمازِ جنازہ میں اِس قدر ازدحام تھا کہ کئی بار نماز ادا کرنی پڑی۔

تقریباً تمام سوانح نگاروں نے یہ روایت بیان کی ہے کہ آپؒ کی نمازِ جنازہ سب سے پہلے رجال الغیب (اولیاء کرام کا ایک طبقہ) نے پڑھی، پھر عام افراد نے ادا کی۔ جب نمازِ جنازہ ختم ہوئی، تو تابوت خود بخود ہوا میں اُٹھ گیا اور آپؒ کی آخری آرام گاہ کی طرف چلنے لگا، جسے دیکھ کر بہت سے افراد مسلمان ہوگئے۔ آپؒ کے کئی بیٹے تھے، جن سے آپؒ کی نسل خُوب پھلی پھولی۔ پاکستان میں بھی کئی خاندانوں کی آپؒ کی جانب نسبت ہے، جن میں جماعتِ اسلامی کے بانی، مولانا ابو الاعلیٰ مودودیؒ کا خاندان بھی شامل ہے کہ اُن کا سلسلۂ نسب 14 ویں پُشت میں خواجہ مودود چشتیؒ سے جا ملتا ہے اور اُن کی نسل سے ہونے پر خود کو’’ مودودی‘‘ کہلواتے ہیں، جب کہ اُن کا ’’ پیر گھرانہ‘‘ بھی تھا کہ خاندان کے بزرگ سلسلۂ چشتیہ میں باقاعدہ بیعت کیا کرتے تھے۔ اِسی طرح بلوچستان میں بھی آپؒ سے تعلق رکھنے والے کئی خاندان آباد ہیں۔

تصنیفات

منہاج العارفین اور خلاصتہ الشریعۃ سمیت کئی کتب آپؒ سے منسوب ہیں، لیکن اب وہ دست یاب نہیں ہیں۔ اِس ضمن میں کہا جاتا ہے کہ614 ہجری میں منگولوں نے حملہ کرکے چشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اُسی کے نتیجے میں تمام کتابیں ضایع ہوگئیں۔ غوری سلاطین چشتی سلسلے سے عقیدت رکھتے تھے اور اُنھوں نے چشت میں ایک بڑا مدرسہ بھی قائم کیا تھا، جہاں ایک روایت کے مطابق، دو ہزار سے زاید طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے، جب کہ ایک بڑا کتب خانہ بھی بنایا گیا تھا۔