• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنونیوں اور جمہوریوں کے نام ...پریشر گروپ…ایثار رانا

قلم ہاتھ میں تھامے سوچ رہا ہوں کیا لکھوں ؟
حالات نے تو سب کچھ دھندلا دیا ہے
ایک ایک پل اذیت ، ایک ایک پل قیامت
لاشیں ۔ ۔ سوختہ لاشیں ، ٹکڑے ٹکڑے جسم
بارود دھماکے اور میتیں
کیا لکھوں ؟ کس پر لکھوں
قوم کی بربادی کا قصہ
بے گناہوں کی موت کاالمیہ
شیرکے تازہ شکاروں کی کہانی
پٹرول ، بجلی کی زبانی
آئی ایم ایف کی نئی مہربانی
ہماری پوری قوم کی بے بسی کا تازہ شکار
ایک طرف دہشت گردی کے خلاف نامعلوم جنگ اور دوسری طرف جمہوریت کے نام پر غریب عوام کا قتل
مہنگا ئی سی مہنگائی ہے ۔ زندگی کو موت سجھاتی نہیں دے رہی ۔ لوگ اب زہر بھی نہ کھا سکیں گے ۔ پیسے ہونگے تو زہر خریدیں گے ۔
کس کس کا مرثیہ لکھوں۔
چند جنونیوں اور چند جمہوریوں کے ہاتھوں پورے 18کروڑ عوام یرغمال بن کر رہ گئے ہیں۔
را ، موساد ، ایف بی آئی ، ایم آئی فائیو، سب کیا چاہ رہی ہیں اور کیوں چاہ رہی ہیں ؟ بہتر ہے کہ ہم آنکھیں بند کئے بیٹھے رہیں ۔ چاہے کہیں پاکستان کو توڑنے کا فیصلہ ہی کیوں نہ ہو چکا ہو،اس کی تقسیم کیلئے نقشے تک بٹ چکیں، کہاں کہاں سے اس کی شہ رگ کاٹنی ہے نشان تک لگ چکیں اور اس ایجنڈے پر کام شروع نہیں ہوا، خاص کام ہو بھی چکا ، صدیوں تک اس دھرتی کاحصہ رہنے والے پٹھان پہلے القاعدہ قرار پائے پھر طالبان کہلائے، اور اب پاکستان کے دشمن بنا دئیے گئے ، جن کے پاس کھانے کو روٹی نہیں اور لاکھوں کے راکٹ لانچر چلاتے ہیں ، ایک طرف ان علاقوں میں بجلی نہیں اور دوسری طرف ان کے پاس جدید ترین الیکٹرانک سسٹم ہیں۔ وہ دھڑلے سے ایف ایم چلاتے ہیں اور ویڈیوز ریلیز کرتے ہیں ۔ پاک فوج کے ہزاروں جوان ان کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں۔ وہ پھر بھی زندہ رہتے ہیں ۔انہیں پاک فوج کی سٹریٹیجک چالوں کا علم ہوتاہے ۔۔۔ چور کو کہا تو چوری کر اور سادھ کو کہا تیرا گھر لٹ رہا ہے۔ اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کون ہے ہمارا دشمن ۔ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا چاہتا ہے ، صدیوں سے پہاڑوں پر رہنے والوں کو جس طرح آج درندے بنا کر پیش کر دیاگیا ہے اور جس طرح پاکستانی میڈیا کو حب الوطنی کے نام پر ہرا لابلا کا ساتھ دینے اور اپنی زبان و آنکھیں بند کرنے پر مائل کیا گیا ہے ، آپریشن کو تمام تر قباحتوں کے ساتھ قبول کرنے پر مجبور کر دیاگیا ،اگر کوئی بولا تو وطن دشمن قرار پائے گا ، واہ میرے قاتل ! واہ میرے مسیحا ! مارتے بھی ہو اور چیخنے بھی نہیں دیتے !
امریکی صدر باراک حسین اوباما کی کامیابی کے بعد کنزرویٹوز میں پاکستان کے خلاف خاصا کام ہو چکا تھا، عمل اب شروع ہوا ہے ، یہ سب سن لیں ۔۔۔ امریکہ پاکستان کو توڑ کر اتنا کمزور کرنا چاہتا ہے کہ وہ آئندہ کسی مسلم تحریک کا حصہ نہ بن سکے ۔۔ امریکہ سے لے کر بھارت اور اسرائیل سے لے کر روس تک کا خیال ہی ہے کہ دنیا میں کسی بھی جگہ مسلمانوں کی تحریک شروع ہو گی تو اس کی مالی ، افرادی اور روحانی امداد کے سوتے پاکستان سے ہی پھوٹتے ہیں۔
مبارک ہو ان تمام اہل دانش کو جو پاکستان کو اسلام کا قلعہ قرار دیتے رہے ہیں کہ اس قلعے میں نقب لگ چکی ہے، کمندیں ڈال دی گئی ہیں۔ اب کون ہے جو اس قلعے کو بچائے ؟ مسلم امہ کے بڑے بھائی کی طرف دیکھیں تو آنکھوں کو یقین نہیں آتا کہ وہ بھی پاکستان کی تباہی میں اپنی بقا کے مفادات کو سامنے رکھ کر کردارادا کرتا رہا ہے۔ اب کس کو رہنما کریں اور کس سے رہنمائی چاہیں ۔ ملک کے ان تمام مذہبی رہنمائوں کو مبارک ہو جو پوری دنیا کو اپنی تحاریک سے فتح کرنے نکلے تھے ۔ اریٹیریا سے فلپائن تک جو سمجھتے تھے کہ وہی ہیں جو پوری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرا دیں گے۔ ان کی مہم جوئی آج ملک کو اس سطح پر لے آئی ہے کہ اس کی اپنی بقا خطرے میں ہے ۔ رہی سہی کسر ایٹم بم کے اعلان نے نکال دی۔وہ طاقتیں جو پہلے ہی پاکستان میں مذہب کے نام پر مہم جوئی کرنے والے جنونیوں سے تنگ تھیں ، ایٹم بم کے بعد اور خوفزدہ ہو گئیں۔ آج میرا پاکستان تباہ حال ہے ، زخم زخم ہے ، خون خون ہے ، بدنصیبی ہے کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی جاتی ہے ،، وہ جنگ جو ہماری کبھی تھی ہی نہیں آج ہمارے گھروں کے آنگنوں میں لڑی جا رہی ہے ۔ آج ہمارے بچے یتیم ہو رہے ہیں ، بیوائوں کے بین ، بوڑھے والدین کی آہ و بکا، اب اتنی بڑھ چکی ہے کہ سن سن کر ہمارے کان پک گئے ، اب ہم ان آوازوں سے قطعاً متاثر نہیں ہوتے پہلے مرنے والوں کو دیکھ کر رک جاتے تھے اب ان لاشوں کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ لحظہ بھر رکنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔پشاور میں دھماکے سے درجنوں بے گناہ مارے گئے ۔۔ آگ و خون کا یہ کھیل جانے کب تھمے گا ؟ اب ہماری نسل جس کے سامنے ہر گھر میں چھوٹی موٹی لڑائی کرتے ہوئے احتیاط کیا کرتے تھے اب اپنی آنکھوں سے یہ جنگ دیکھ رہے ہیں ۔
میڈیا اور روز روز کے دھماکوں نے ان معصوموں کو بھی اتنا عادی کر دیا ہے۔ہم نے تو گذار لی اپنی زندگی جو رہ گئی ہے۔اس کے ضائع ہونے کا بھی پچھتاوا نہیں دکھ ہے تو اس نسل کا جس کے لئے ہم نے اپنی آنکھوں کے خواب ان سے منسوب کئےجن کی خوشیوں کی خاطر اپنی خوشیاں قربان کیں، جنہیں ایک پرسکون زندگی فراہم کرنے کے لئے ہم نے ہر دکھ ، تکلیف سے سمجھوتہ کیا ، کل نہ جانے وہ اور کیا کیا دیکھیں گے ، یہ فضا جو آہستہ آہستہ بارود سے آلودہ ہو رہی ہے،ان کے لئے کتنی گھٹن لائے گی ، میرا قلم ڈگمگا رہا ہے،ہاتھ کی لرزش اتنی بڑھ گئی ہے کہ لفظ پھیلتے جا رہے ہیں اور شاید آنکھیں بھی کچھ دھندلا سی گئی ہیں۔ اور پھر لکھوں بھی تو کیا لکھوں۔ دیکھیں جمہوری لوگوں کی مہربانی ہمیں کہاں لے کر جائے۔
تازہ ترین