• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد قوموں کی حیاتِ جاوداں میں قومی پرچم، ترانے، دستور اور زبان کا جو مقام ہے، وہ کسی مقدّس قومی سرمائے کے مترادف ہے۔ مہذّب اقوام کے قدیم ادوار سے آج تک قومی پرچم ہی عظیم قوموں کی نشانی رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخ ساز حقیقت ہے کہ برّصغیر کے مسلمانوں نے سخت جدوجہد اور ہزاروں قربانیوں کے بعد اپنے مُلک کے قیام پر سبز ہلالی پرچم تلے ایک آزاد ملک میں سُکھ کا سانس لیا۔ اس طرح فرنگی سامراج کے تسلّط کا خاتمہ ہوا اور ایک مملکتِ خداداد، پاکستان معرضِ وجود میں آئی۔

پاکستان کے قومی پرچم کا ڈیزائن بانئ پاکستان، قائداعظم، محمّد علی جناح کی ہدایت پر امیر الدین قدوائی نے بنایا اور پہلا پاکستانی پرچم تیار کرنے کا اعزاز ماسٹر الطاف حسین اورافضال حسین کو حاصل ہوا۔ گہرے سبز (سبزکاہی) اور سفید رنگ کا یہ چاند ستارے والا مستطیل پرچم ہماری قومی آزادی اور ملّی جذبے کا عظیم مظہر ہے۔ 11اگست 1947ء کو دستور ساز اسمبلی میں قائدِ ملّت، لیاقت علی خاں نے پاکستان کا قومی پرچم پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا گروہ کا پرچم نہیں، بلکہ یہ پاکستان کا قومی پرچم ہے۔ اُس پاکستانی ریاست کا، جو 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آرہی ہے۔ 

جناب عالی! کسی قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی اہمیت اس امر میں ہے کہ وہ کس کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور میں بلا خوفِ تردید یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو پرچم، مَیں نے پیش کیا ہے، وہ اُن لوگوں کی آزادی و حریّت اور مساوات کا ضامن ہے، جو اس سے وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔ یہ پرچم شہریوں کے جائز حقوق کی حفاظت کرے گا۔ یہ پرچم ریاستِ پاکستان کی سالمیت کی حفاظت اور دفاع کرے گا۔ مجھے یہ کہنے میں قطعاً کوئی باک نہیں کہ یہ پرچم اقوامِ عالم کی نظروں میں عزت حاصل کرے گا، کیوں کہ میرا یقین ہے کہ جب پاکستان کا قیام عمل میں آگیا اور سات کروڑ عوام کی تقدیر ہمارے ہاتھ میں آگئی، تو ہم اس قابل ہوں گے کہ تمام دنیا کو دکھا سکیں کہ ہم ایک نئی ریاست ہیں، جو سات کروڑ پاکستانیوں کے شایانِ شان ہے۔ 

ہماری ریاست اقوامِ عالم میں اپنا کردار نہایت متانت اور وقار کے ساتھ ادا کرے گی۔ یہ ریاست ایسی نہیں ہوگی، جس میں محض دوسروں پر غلبہ پانے کی حرص ہو۔ یہ ریاست امن و امان کی ضامن ہوگی اور دنیا میں امن قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ جناب صدر! یہ پرچم نہ صرف پاکستان کی آزادی کا پرچم ہوگا بلکہ دنیا بھر میں امن اور قیامِ امن کا چمکتا ہوا نشان بھی ہوگا۔ اس پرچم میں نہ صرف اُن اقلیتوں کے لیے، جو اس وقت ملک میں موجود ہیں، گنجائش ہے، بلکہ اُن کی نمائندگی بھی نمایاں ہے، جو بعد میں کسی بھی وقت اس ملک میں اُبھریں گی۔ یہ قومی پرچم اس لیے مذہبی پس منظر نہیں رکھتا، بلکہ یہ اُن تمام لوگوں کے لیے آزادی و حریّت اور مساوات کی علامت ہے، جنہوں نے اس قومی پرچم اور مملکتِ خداداد پاکستان سے وفاداری کاعہد کیا ہے۔‘‘

عملی طور پر تقریباً دنیا کے ہر ملک نے اپنے پرچم کی بے حرمتی یا غلط استعمال کے ضمن میں تعزیزی قوانین بنا رکھے ہیں اور پاکستان میں بھی اسی قسم کے ضابطے موجود ہیں۔ ایک پاکستانی شہری ہونے کے حیثیت سے ہمیں بھی اپنے پرچم کے استعمال کا صحیح علم ہونا ضروری ہے تاکہ اس سلسلے میں دوسروں کی بھی رہنمائی کرسکیں۔ پاکستان کے قومی پرچم کی لمبائی اور چوڑائی میں 3:2کی نسبت مقرر کی گئی ہے، یعنی اگر لمبائی تین فٹ ہو، تو چوڑائی دو فٹ ہوگی، جب کہ پرچم پر سفید پٹّی کُل لمبائی کا ایک چوتھائی اور بقیہ تین چوتھائی گہرے سبز رنگ پر مشتمل ہے۔ سبز حصّے میں ایک ہلال اور ایک پانچ کونے والا ابھرتا ہوا ستارہ سفید رنگ سے بنا ہوا ہے۔

چاند اور ستارے کا رُخ دائیں کونے پر اوپر کی طرف ہے۔ واضح رہے کہ پرچم کا سبز رنگ صلح و امن کا پیغام دیتا ہے، جب کہ سفید پٹّی مُلک کی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ چاند، رفعت و عظمت کی علامت ہے اور پانچ کونے والا ستارہ اسلام کے پانچ ارکان کی نشان دہی کرتا ہے۔ دستور ساز اسمبلی میں پاکستانی پرچم کی منظوری کے بعد 14اگست 1947ء کو مُلک بھر میں عوام نے بھرپور جوش و جذبے سے قومی پرچم لہرایا اور یہ وہ دن تھا، جب نوزائیدہ مملکت، پاکستان کو اختیارات کی منتقلی ہوئی۔

بیرونِ ملک سب سے پہلے پاکستانی پرچم لہرانے کا اعزاز:پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے فوراً بعد بیرونِ ملک سب سے پہلے پاکستانی قومی پرچم بوائے اسکائوٹس نے لہرایا اور یہ امتیاز پاکستان بوائے اسکائوٹس کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اس تاریخی پرچم کے بنانے اور لہرانے میں ان اسکائوٹس نے ملّی جوش و جذبے، قومی محبت و مودّت کا بھرپور مظاہرہ کیا، جو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ قائداعظم نے بھی اُن اسکاؤٹس کی وطن واپسی پر اُن کے اس جذبۂ حب الوطنی کی قدر کی اور16 اکتوبر 1947ء کو انھیں گورنر جنرل ہائوس کراچی میں چائے پر مدعو کیا۔ نیز، اُن کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی بنوایا۔ 

ان اسکائوٹس کی زبانی فرانس میں پہلا پاکستانی پرچم لہرانے کا واقعہ سُن کر قائداعظم بے حد خوش ہوئے اور انھیں پاکستان کے پہلے سفیر کا خطاب دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’مجھے امید ہے کہ آپ مستقبل میں پاکستان کے وارث ثابت ہوں گے۔‘‘ واقعہ دراصل کچھ یوں ہے کہ قیامِ پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان کے اسکائوٹس فرانس میں منعقد ہونے والی چھٹی ورلڈ اسکائوٹس جمبوری میں شریک تھے۔ وہاں جب اسکائوٹس کو اس بات کا علم ہوا کہ دنیا میں پاکستان اور بھارت دو علیحدہ ممالک معرضِ وجود میں آگئے ہیں، تو متحدہ ہندوستان کے اسکائوٹس نے جمبوری انتظامیہ سے اپنے اپنے پرچم لہرانے کی اجازت مانگی۔ 

اجازت ملنے کے بعد ہندو اسکائوٹس تو خوش ہوگئے کہ وہ ہندوستانی پرچم اپنے ساتھ لائے تھے، لیکن مسلمان اسکائوٹس پریشان ہوگئے، کیوں کہ انہیں اپنے پرچم کی ہیئت کا علم ہی نہیں تھا۔ اُن کی پریشانی الجزائرکے ایک اسکائوٹ نے دُور کی۔اُس کے ہاتھ میں فرانس کا روزنامہ ’’انٹرکانٹی نینٹل‘‘ تھا۔ اس نے مسلمان اسکائوٹس کو اخبار دیتے ہوئے مبارک باد دی کہ ’’آپ کو پاکستان مبارک ہو۔‘‘ اخبار میں تقسیم ِہند کے اعلان کے ساتھ دونوں ممالک کے نقشے، قائد اعظم کی تصویر اور پاکستانی جھنڈے کی تصویر سمیت بناوٹ کی تفصیلات بھی درج تھیں۔ پاکستانی اسکائوٹس نے اس غیبی مدد پر اللہ کا شُکر ادا کیا اور اس الجزائری اسکائوٹ کے ممنون ہوئے۔ 

پھر اُسی وقت تمام اسکائوٹس اکٹھے ہوکر اپنے خیمے میں اخباری نمونے کے مطابق پاکستانی پرچم بنانے کی تیاری میں لگ گئے۔ اس موقعے پر بھائی چارہ ملاحظہ ہو کہ پرچم کے لیے سبز رنگ کا کپڑا شملہ کے ایک ہندو اسکائوٹ نے اپنی پگڑی سے اور سفید کپڑا ملتان کے ایک اسکائوٹ خورشید عباس گردیزی نے اپنی قمیص پھاڑ کردیا۔ نمونے کے مطابق پرچم تیار کرنے کی کوشش میں رات کے گیارہ بج گئے۔ اس دوران فرانسیسی گرل گائیڈز، مس الف پالی اور مس جی ڈیلیکوٹ نے اُدھر سے گزرتے ہوئے پاکستانی اسکائوٹس کو رات گئے مصروف دیکھا اورانھیں معلوم ہوا کہ وہ معرضِ وجود میں آنے والے ایک نئے ملک کا پرچم تیار کررہے ہیں، تو انھوں نے اپنی مدد کی پیش کش کی، پھر ان گرل گائیڈز نے جلد ہی سلائی مشین لاکر مطلوبہ پرچم کی سلائی کا کام مکمل کیا اور اس کی اجرت قبول کرنے سے بھی انکار کردیا۔

بلاشبہ، قومی پرچم ہماری آزادی کا ضامن اور قوم کا اعزاز ہے۔ اس کا احترام ہر شہری پر لازم اور اس کا تقدّس ملک و قوم سے محبّت کی نشانی ہے۔ اسی لیے یومِ آزادی کے موقعے پر پاکستان بھر کے عوام روایتی جوش و جذبے سے اپنے گھروں، کارخانوں، دکانوں اور گاڑیوں پر قومی پرچم لہراتے ہیں۔ بازاروں میں پرچم اور جھنڈیاں فروخت ہوتی ہیں۔ آزاد قومیں اپنے قومی پرچم یا ترانے کی عظمت کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتیں۔ جہاں کہیں بھی پرچم لگانے، اُتارنے کے دوران بے حرمتی ہوگی یا معینہ امتیاز برقرار نہ رہے گا، وہاں قومی زوال کے آثار نمایاں ہوں گے، ملّی شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا اور قومی و ملکی وضع داریاں مفلوج ہوجائیں گی۔ 

گویا پرچم کا احترام قومی عزّت و عظمت کا موجب ہے۔ قوم کے افراد پر جہاں ملک و ملّت کی جانب سے دیگر بے شمار فرائض اور ذمّے داریاں عائد ہوتی ہیں، وہیں اُن پر اپنے قومی پرچم کا احترام بھی لازم ہے۔ اس فریضے سے کوتاہی اپنی عظمت و حرمت سے منہ موڑ لینے کے مترادف ہے۔ چناں چہ ہر فرد خود کو ایسے پیکر میں ڈھالنے کی سعی کرے، جو کسی بھی سطح پر قومی وجود کے لیے باعثِ ندامت نہ ہو۔ درحقیقت آزاد و منظّم قوم کے افراد فرض شناسی کے اس مقدّس جذبے کو خود پر احسان مندی سے تعبیر کرتے ہیں۔ 

وہ اپنی سربلندی کے ان گراں قدر نشانات کی عزت و تکریم شایانِ شان طریقے سے کرتے ہیں اور زندہ قومیں اپنی اس ذمّے داری کو کسی لمحے بھی فراموش نہیں کرتیں، حتیٰ کہ لاشعوری طور پر بھی اس فریضے سے بے اعتنائی نہیں برتتیں۔ چوں کہ پرچم قوم کی آزادی کا سب سے بڑا اور نمایاں ثبوت ہوتا ہے، لہٰذا قومی بیداری کا تقاضا یہی ہے کہ ہر فرد کو اس کے متعلق تمام تر معلومات حاصل ہوں۔ یہاں تک کہ پرچم کی بناوٹ اور لہرانے کا طریقہ بھی ہر فرد کے لیے جاننا ضروری ہے۔

قومی پرچم کی بناوٹ:پرچم کے سبز حصّے میں چاند اور ستارے کا مقام اس ترتیب کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر پرچم کا پول آپ کے بائیں ہاتھ کی طرف ہو اور پھریرا دائیں طرف، تو ہلال اس طرح بنایا جائے کہ سبز رنگ کے اوپر والے دائیں طرف کے کونے سے بائیں ہاتھ کے نچلے کونے تک خطِ مستقیم یا وتر کھینچا جائے، اس وتر پر دو نقطے اے اور بی متعیّن کیے جائیں۔ نقطہ اے اس وتر کے عین درمیان میں ہو اور نقطہ بی دائیں طرف کے اوپر والے کونے سے پرچم کی چوڑائی کے 13/20فاصلے پر ہونا چاہیے۔ 

اب نقطہ اے کو مرکز مان کرپرچم کی چوڑائی کے 3/10کے برابر نصف قطر کے ساتھ ایک قوس لگائی جائے اور پھر نقطہ بی کو مرکز مان کر پرچم کی چوڑائی کے 1/4کے برابر نصف قطر کے ساتھ دوسری قوس لگائی جائے۔ ان دونوں قوسوں کے درمیان جو جگہ آئے، وہاں پرچم کا ہلال ہوگا۔ ہلال کے بیچ میں پانچ کونوں والا ستارہ بنانے کے لیے پرچم کی چوڑائی کے 1/10کے برابر ایک ایسا دائرہ بنایا جائے، جس میں ستارے کے پانچ کونے سما جائیں۔ ستارے کی ایک نوک بالکل وتر کے اوپر ہو اور اس کا رُخ پرچم کے دائیں طرف والے اوپر کے کونے کی طرف ہونا ضروری ہے۔

پرچم لہرانے کے آداب:قومی پرچم لہراتے اور اتارتے وقت احتراماً خاموش کھڑے رہنا چاہیے۔ ٭بوسیدہ، خراب اور غلط بنا ہوا پرچم نہیں لہرانا چاہیے۔ ٭الٹا پرچم لہرانا بے حرمتی کے مترادف ہے۔ ٭ سینے پر دائیں جانب جیب سے اوپر لگایا جائے۔ ٭کسی بھی گاڑی کے پچھلے حصّے پر نہ لہرایا جائے، بلکہ گاڑی کے اگلے حصّے پردائیں جانب لگا ہونا چاہیے۔ گاڑی یا کار پر لہرانے والے پرچم کی لمبائی 12انچ اور چوڑائی 8انچ ہونی چاہیے۔ ٭دیوار پرچسپاں یا آویزاں کرنا مقصود ہو، تو اس کا سفید حصّہ دیکھنے والے کے بائیں جانب رہے۔ ٭اسٹیج پر مقرّر کی داہنی جانب ہونا چاہیے۔ ٭سڑک یا گلی پر لٹکائیں تو اس کا سفید حصّہ اوپر کی جانب ہونا چاہیے۔ ایسے پرچم کی لمبائی 9فٹ اور چوڑائی 6فٹ ہونی چاہیے۔ ٭عمارتوں اور مکانوں پر تین فٹ لمبا اور دو فٹ چوڑا پرچم لہرانا چاہیے۔ ٭قومی پرچم زمین سے نہیں لگنا چاہیے۔ ٭تین پرچموں میں قومی پرچم درمیان میں، جب کہ دو پرچموں میں داہنی جانب (دیکھنے والے کے بائیں جانب) ہونا چاہیے۔ ٭کسی بڑے سوگ یا سانحے کی موقعے پر، سرکاری اعلان پر قومی پرچم سرنگوں کیا جاتا ہے، یعنی پرچم اوپر تک لہرا کر واپس، اس کی چوڑائی کے برابر نیچے لاکر باندھا جاتا ہے۔ 

پرچم پر کچھ لکھا جائے، نہ چھاپا جائے اور نہ ہی اس کے اوپر کوئی نشان بنایا جائے، البتہ صدرِ مملکت چاہیں تو اجتماعی بہادری کے کارنامے کے سلسلے میں پرچم کے سفید حصّے پر کوئی نشان یا الفاظ لکھوا کر پیش کرسکتے ہیں۔ جیسا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں بہادری و شجاعت کا مظاہرہ کرنے پر سیال کوٹ، لاہور اور سرگودھا کے شہریوں کو عطا کیے گئے۔

قومی پرچم لہرانے کی تقاریب یومِ پاکستان (23 مارچ)، یومِ آزادی (14 اگست) اور یومِ قائد اعظم (25 دسمبر) کو منعقدکی جاتی ہیں۔ اسی طرح قائد اعظم کے یومِ وفات (11 ستمبر)، علامہ اقبال کے یومِ وفات (21 اپریل) اور لیاقت علی خان کے یومِ وفات (16 اکتوبر) پر قومی پرچم سرنگوں رہتاہے۔ سرکاری دفاتر کے علاوہ قومی پرچم جن رہائشی مکانات پر لگایا جاسکتا ہے، اُن میں صدرِ پاکستان، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، صوبوں کے گورنرز، وفاقی وزراء کی یا ان افراد کی، جنہیں وفاقی وزیر کا درجہ حاصل ہو، رہائش گاہیں شامل ہیں۔ 

نیز، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزیر، چیف الیکشن کمشنر، ڈپٹی چیئرمین آف سینیٹ، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز اور دوسرے ممالک میں پاکستانی سفیروں کی رہائش گاہیں بھی شامل ہیں۔ قومی پرچم طلوع ِ آفتاب سے لے کر غروبِ آفتاب تک لہرایا جاتا ہے۔ خاص مواقع پر غروب ِ آفتاب کے بعد بھی لہرایا جاسکتا ہے، جب کہ ایوان ِ صدر، پارلیمنٹ کی عمارت پر ہمہ وقت لہرایا جاسکتا ہے۔ سرکاری عمارات پر روزانہ پرچم لہرائے اور اتارے جاتے ہیں، بالخصوص یومِ آزادی پر محبِ وطن افراد اپنے گھروں اور گاڑیوں پر پرچم لہراتے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ قومی تہوار کے اختتام پر پرچم لازماً اتار لیے جائیں۔ (مضمون نگار، سندھ بوائے اسکائوٹس ایسوسی ایشن کے صوبائی سیکریٹری ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید