• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

75؍ واں یوم آزادی، بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے عزائم

واراناسی، بنارس (اے ایف پی) ہندوئوں کے لئے مقدس دریا گنگا کے کنارے ایک ہندو سادھو جے رام مشرا نے اجتماع کے دوران آزادی کے 75؍ سال مکمل ہونے پرگاندھی کے سیکولرازم کے نظریہ کو مسترد کرتے ہوئے بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 15؍ اگست 1947ء کو بھارت کے رہنما موہن داس کرم چند گاندھی جنہیں بھارتی قوم نے مہاتما کا خطاب دے رکھا ہے انہوں نے بھارت کو ایک لادین (سیکولر) ملک قرار دیاتھا، بھارت کا آئین بھی اسی بنیاد پر مرتب کیا گیا تھا، بھارت میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہیں اور وہ وہاں پاکستان کی آبادی سے زیادہ آباد ہیں، دیگر اقلیتوں میں سکھ اور مسیحی بھی نمایاں ہیں، اکثریت ہندوئوں کی ہے ، اب ان کا ہندوتوا کاانتہا پسند نظریہ اس قدر جڑ پکڑ گیا ہے کہ بھارت کی خالق جماعت کانگریس پس منظر میں چلی گئی اور اس کی جگہ انتہا پسند ہندوجماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے لے لی ہے جس کے رہنما وزیراعظم نریندرمودی کا دیگرمذاہب سے بغض و عناد ڈھکا چھپا نہیں ۔ جے رام مشرا نے کہا کہ اب جو ہاتھ بھی ہندوتوا کے خلاف بلند ہوگا وہ کاٹ دیا جائے گا، ان عناصر کامطالبہ ہے کہ بھارت کو ہندو ریاست قرار دیا جائے،ہندوئوں کی بالادستی کو قانونی تحفظ دیا جائے، اس مطالبے نے بھارت کے 22؍ کروڑ سے زائد مسلمانوں کو بے چین اور عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے۔ ہندو قوم پرست ہی وزیراعظم مودی کے دست و بازو اور قوت ہیں۔ مودی حکومت نے جو ہندو نواز پروجیکٹس ترتیب دیئے ہیں ان میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر اور بنارس میں ایک بڑا مندر تعمیر کرنا بھی شامل ہے۔ مہاتما گاندھی جو ہندو مذہب کے پیروکار تھے لیکن انہیں سیکولر نظریات پر ایک انتہا پسند ہندو نتھورام گوڈے نے قتل کیا جبکہ خود بی جے پی کے حقیقت پسند رہنما لال کشن ایڈوانی اور جسونت سنگھ بھی معتوب کردیئے گئے۔ پاکستان کو ایک حقیقت قرار دینے والے بی جے پی کے وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کا بھی آج کوئی نام لینے والا نہیں، پاکستان کے ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کا کلام بھارت میں ممنوع قرار پایا۔

دنیا بھر سے سے مزید