• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کوہِ ہمالیہ کے بلند پہاڑوں کے دامن میں واقع خُوب صُورت ترین خطّے چترال کا نام آتے ہی ذہن میں حسین و پُراسرار وادی ’’وادئ کیلاش‘‘ بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ذہن میں آجاتی ہے۔ اُن دنوں ہم چترال کی سیّاحت کی غرض سےگئے ہوئے تھے اور اپنے ایک قریبی دوست کے گھر پر ہمالیہ سلسلے کی سب سے بلند ترین چوٹی، ترچ میر سے متعلق گفتگو کررہے تھے کہ ہمارے دوست کے ایک عزیز، جو چترال ٹورازم ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ ہیں، ہمارے سامنے وہاں کی خُوب صُورت ترین وادی ’’گولن گول ویلی‘‘ کے جنگل کے حُسن کا ایسا نقشہ کھینچا کہ دل اُس کی سیّاحت کو مچل اٹھا۔ ہماری بے تابی دیکھ کر انہوں نے وہاں کی مسافت اورسفر کی دیگر تفصیلات سے بھی آگاہ کردیا، جس کے بعد ہم نے اپنے میزبان سے فوری رخصت چاہی اور گولن گول ویلی کی سیّاحت کے لیے روانہ ہوگئے۔ 

چترال شہر کے شاہی قلعے، شاہی مسجد اور پُررونق شاہی بازار سے ہوتے ہوئے ہم چترال مستوج روڈ پر عازمِ سفر ہوئے، تو ہمارے ایک طرف دریائے چترال موجیں مار رہا تھا، تو دوسری طرف میدان، کھیت بھی ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ راستے میں ’’کجو‘‘ کے مقام پر لکڑی کا ایک قدیم پُل نظر آیا، جہاں تصاویر لینے رُک گئے۔ پُل کے اِرد گرد کا منظر انتہائی دل کش اور دل فریب تھا۔ اس کے دوسری طرف درختوں کے جھرمٹ کے پیچھے آبادی واقع ہے، جب کہ چاروں طرف چترال کے پُرشکوہ خشک پہاڑ کھڑے ہیں، جن کے عقب میں دُور برف پوش چوٹیوں کے نیچے دریائے مستوج، گلیشیئرز اور چشموں سے آنے والے پانیوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ یہ چترال کا وہ مقام ہے،جہاں دریائے مستوج اور دریائے لوٹ کوہ آپس میں ضم ہوتے ہیں۔

دل کش مقامات کی جی بھر کے تصاویر اتارنے کے بعد آگے روانہ ہوئے، تو چند منٹ بعدچترال کے مضافاتی علاقے ’’کوغذی‘‘ کو عبور کرتے ہی ’’گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘‘ کا مقام آگیا، جہاں پہاڑ کی ایک سرنگ کے دہانے پر تیزی سے کام جاری تھا۔ ڈرائیور نے بتایا کہ’’108میگاواٹ کے اس پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد چترال اور اس سے ملحقہ علاقوں سمیت نیشنل گرڈ کو بھی بجلی فراہم کی جائے گی۔‘‘ گولن گول سے تیمرگرہ تک ٹرانسمیشن لائن لے جانے کے لیے بلند اور دشوار پہاڑی سلسلوں پر ٹرانسمیشن ٹاورز بھی نصب کیے گئے ہیں۔ 

اس وسیع و عریض مقام سے مختلف علاقوں کے راستے نکلتے ہیں، جو پھنڈر ویلی، یارخون ویلی اور بروغل ویلی کی کرمبر جھیل تک جاتے ہیں۔ اس سے آگے کے تمام علاقے ڈسٹرکٹ اپر چترال میں شمار ہوتے ہیں۔ لوئر اور اپَر چترال کے دونوں ضلعوں میں بہت سی دل کش جھیلیں اور خُوب صُورت وادیاں موجود ہیں، لیکن ہم اُن تمام راستوں کو چھوڑ کر سحر انگیز مقام ’’گولن گول ویلی‘‘ جانے کے لیے دائیں جانب مڑگئے۔ یہاں کی ایک وجہ شہرت پہاڑ کی بلندی سے گرتا آب شار نُما چشمہ بھی ہے۔ اگرچہ ہم اس سے کافی دُور تھے، لیکن اس کے باوجود اس کے پانی کی ٹھنڈک، ہوا کے تھپیڑوں کے ساتھ ہمارے جسموں کو چُھو رہی تھی، اُس سے آگے پہاڑوں میں گم ہوتا گولن وادی کا راستہ تھا۔

یہاں سے تقریباً چھے کلومیٹر کی مسافت کے بعد وادی کا پہلا گائوں بابوکا آتا ہے۔ ہمارے دونوں طرف بھورے سنگلاح پہاڑ کے ایک جانب دریا، جب کہ برف پوش پہاڑوں پر کہیں کہیں ہریالی دکھائی دے رہی تھی، اور دُور اونچائی پر برف ہی برف اپنی چَھب دکھلارہی تھی۔ جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے، چڑھائی طویل تر اور راستہ دشوار سے دشوار تر ہوتا جارہا تھا۔ طویل تھکادینے والے خطرناک سفر کے بعد بلندی پر پہنچے تو ایک انتہائی خوب صورت اور سحر انگیز مقام ہمارا منتظر تھا۔ صنوبر کے ہزاروں سال پرانے درختوں سے گِھرے قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھ کر ہم ایک دَم ہی تروتازہ ہوگئے۔ 

اونچائی پر دائیں طرف ’’خوش آمدید گولن ویلی‘‘ کا ایک بہت بڑا بورڈ نظر آیا،جس پر وادی آنے والے سیّاحوں کے لیے خصوصی ہدایات بھی درج تھیں۔ سامنے ایک وسیع ٹرائوٹ فِش فارم تھا، جسے عبور کرنے کے بعد پتھروں سے اٹے میدانی راستے پر پیدل ہی چل پڑے۔ کچھ آگے بڑھے، تو ازغور گائوں سامنے تھا۔ پہاڑی کے بیچ اس چھوٹے سے گائوں کے ایک طرف پہاڑی چشموں سے آنے والا پانی انتہائی تیز رفتاری سے بہہ رہا تھا۔ 

گلیشیئر پگھلنے کی وجہ سے یہاں بہہ کر آنے والا پانی اکثر سیلابی دریا کی شکل اختیار کرلیتا ہے، تو پھر تباہی کی داستان رقم کرکے گزرتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر ممکنہ تباہی سے بچنے کے لیے جگہ جگہGLOF(گلیشیئرز لیک آئوٹ برسٹ فلڈ) کے بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں، جن میں گلیشیئرز پھٹنے کے سبب ہونے والے نقصانات سے بچائو اور حفاطتی تدابیر اختیارکرنے کی ہدایات درج ہیں۔ 

یاد رہے، بلند و بالا پہاڑوں اور گلیشیئرز سے بہہ کر آنے والے ان ہی پانیوں کو گولن گول پراجیکٹ میں استعمال کیا جارہا ہے۔ ان ناہم وار پہاڑیوں پر کوئی پکّی اور ہم وار سڑک نہیں۔ واضح رہے کہ 2018ء میں گولن پاور پراجیکٹ کے افتتاح کے ایک سال بعد گلیشیئر پھٹنے سے آنے والے تباہ کُن سیلاب کے نتیجے میں وادی کی شاہ راہوں اور پراجیکٹ کو شدید نقصان بھی پہنچ چکا ہے۔ خیر، آگے بڑھے تو کچھ مزدور دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ انھوں نے بڑے پُرخلوص انداز میں دعوت دی، لیکن ہم شکریہ ادا کرکے بستی کی جانب بڑھ گئے۔ یوں تو اس پوری وادی کا نام گولن گول ہے، لیکن ہمیں ’’گولن جنگل‘‘ جانا تھا، جہاں سوائے جیپ کے کوئی گاڑی نہیں جاتی۔

یہاں سے جیپ کےحصول کے بعد ایک بار پھر دشوار گزار، پُرخطر سفر شروع ہوگیا۔ برموغ نامی گائوں سے شروع ہونے والا سفر آخری گائوں استور پر ختم ہوتا ہے۔ یہاں کے تمام راستے ٹوٹے پھوٹے، انتہائی خستہ حال اور خطرناک ہیں، لہٰذا کسی مقامی اور مشّاق ڈرائیور کے ساتھ ہی جانا بہتر ہے۔ انتہائی پُرخطر پہاڑی راستےپر جپپ کا انجن بہت زور لگا رہا تھا اور کنارے سے پتھر سلپ ہوکر نیچے بہتے ہوئے تیز رفتار نالے میں گر رہے تھے۔ موڑ دَر موڑ اور دہل دہلا دینے والے خطرناک سفر میں ہماری ہمّت جواب ہی دینے والی تھی کہ معاً نگاہوں کے سامنے لینڈ اسکیپ کے آثار نمایاں ہونے لگے اور پھر دل فریب و دل کش مناظر کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔

بخدا ہم نے زندگی میں اتنی خُوب صُورت جگہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ چترال کے اس دل کش و دل فریب مقام پر صنوبر کے ہزاروں سال پرانے درختوں کے ساتھ ہرے بھرے گھاس کے میدان اور اُن سے ملحق خوش نُما چشمہ رواں دواں تھا۔ چشمے کا پانی اتنا شفّاف تھاکہ نیچے کے پتھر تک صاف نظر آرہے تھے اور یہی ہماری منزل تھی، یعنی ’’گولن جنگل۔‘‘ چشمے کے اِرد گرد خُوب صُورت پُھولوں کے پودے اپنی بہار دکھارہے تھے اور دُور دُور تک پھیلی ہریالی کے چاروں طرف پہاڑ کی چوٹیوں پر جمی برف ایک عجب ہی احساس سے سرشار کررہی تھی۔ 

اس پُرسکون منظر میں اگر کوئی آواز تھی، تو وہ چشمے کے بہتے پانی کی مُدھر آواز، جو کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ یہ جگہ کوہ نوردوں اور سیّاحوں کے لیے ایک زبردست کیمپنگ سائٹ بھی ہے۔ تاہم، ہمیں زیادہ حیرت اور افسوس اس بات پر ہوا کہ چترال شہر سے محض 45کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس جنّت نظیر، خُوب صورت، دل کش وادی گولن خصوصاً ’’گولن جنگل‘‘ سے آج بھی لوگوں کی اکثریت ناواقف ہے اوراس کی سب سے بڑی وجہ رستے کی ٹوٹی پھوٹی، خستہ حال سڑکیں ہیں، جن کی وجہ سے مقامی افراد بھی یہ مختصر فاصلہ دو سے ڈھائی گھنٹے میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔

اس ضمن میں محکمہ سیّاحت کو فوری خصوصی توجّہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ یہاں ملکی و غیر ملکی سیّاحوں کی آمدورفت یقینی بنائی جاسکے۔ مانا کہ چترال شہر سے تقریباً تین گھنٹے سے زائد کے اس سفر میں ہمیں خاصی دشواری تو ہوئی، لیکن فطرت کے حسین مناظر کا دیدار مشقّت کیے بغیربھلا کہاں نصیب ہوتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید