• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان دہشتگردوں کی بھرتی اور شدت پسندی پھیلانے کا مرکز، روسی خفیہ ایجنسی کا انکشاف



علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ اور شدت پسندی کے مرکز کے طور پر سامنے آنے لگا ہے۔

روسی خفیہ ایجنسی کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے انکشاف کیا ہے کہ داعش خراسان وسط ایشیائی ممالک کے شہریوں کو دہشتگرد نیٹ ورکس میں بھرتی کر رہی ہے اور خطے میں خفیہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

روسی جریدے کے مطابق داعش خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغزستان اور قازقستان سمیت روسی مزدوروں کو بھی اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنا رہی ہے۔

الیگزینڈر بورٹنیکوف کا کہنا ہے کہ تاجکستان اور ازبکستان میں داعش سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام کیلئے دہشتگردی کے خلاف علاقائی تعاون ناگزیر ہے جبکہ افغان پاکستان خطے میں امن مشترکہ سلامتی کیلئے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ 

روسی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد جنگجو گروہ خطے کے امن کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر بھی متعدد بار افغانستان سے دہشتگردی کے خطرات کے حوالے سے خبردار کرچکے ہیں۔ 

ان کا کہنا تھا کہ علاقائی اور عالمی دہشتگرد گروہ افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں اور افغانستان دہشتگردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید