• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غالبؔ نے خط لکھنے کے روایتی انداز کو مکالمے میں بدل دیا تھا۔عہدِ جدید نے اس کی شکل و صورت ہی بدل دی ہے۔خط سچ مچ کا مکالمہ بن چکا ہے۔میسج سے لے کر ویڈیوکال تک پتہ نہیں کیا کچھ سامنے آ چکا ہے اور کیا کچھ سامنے آنے والا ہے ۔زمانہ بڑی تیزرفتاری سےبدل رہا ہے ۔ایسے میں ایک دوست کاخط ملا ۔ڈاک سے نہیں ۔ اس نے واٹس ایپ پر ٹائپ کرکے بھیجا ہےمگر اسےپڑھ کرایسا لگا کہ جیسے ابھی ابھی ڈاکیا آیا تھا ۔ اس نے خط دیا۔میں نے لفافہ کھولا اور اسے پڑھ رہا ہوں ۔شاید خط کا اندازِ تحریر ہی کچھ ایسا ہے ۔یہ برقی خط پیش خدمت ہے:

بردارِ محترم منصور آفاق

سلام مسنون !میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ خوش ہوں گے کیونکہ ا س وقت ملک کے جو حالات ہیں ان کے سبب ہر ذی شعور آدمی پریشانی میں مبتلا ہے۔ آپ زیادہ تر سیاسی معاملات پر کالم لکھتے ہیں۔میں آج آپ کی وساطت سے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی توجہ اپنی اور آپ کی دھرتی ماں ’’میانوالی ‘‘ کی چند ضرورتوں اور مسائل کی طرف دلانا چاہتا ہوں ۔منصور بھائی آپ کے علم میں ہے کہ میانوالی کو 1901 میں ضلعی ہیڈ کوارٹر کا درجہ دیا گیا تھا۔قبل ازیں ہم بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بطور تحصیل شامل رہے۔بعد ازاں ہمیں صوبہ پنجاب میں شامل کیا گیا۔ہماری بدقسمتی کہیں کہ میانوالی صوبہ پنجاب کا آخری ضلع ہے۔ہمارے ضلع کی سر حدیں خیبر پختون خوا کے چاراضلاع کوہاٹ، کرک،لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملتی ہیں ۔خیبر پختون خوا والے ہمیں پٹھان نہیں مانتے ، پنجاب والے پنجابی ۔ البتہ سرائیکی ہونے کے ہم خود دعوے دار ہیں ۔کہنےکا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ اضلاع جو کبھی تحصیل ہوا کرتے تھے ، ضلع بن گئے ہیں بلکہ ڈویژن بننے کےلئے کوشاں ہیں ۔ہم وہیں کے وہیں ہیں ۔پہلی بار سابق وزیر اعظم عمران خان کے آبائی شہر ہونے کے باعث میانوالی کی طرف شفقت کی نظر ڈالی گئی اور ہمیں یونیورسٹی اور ایک ہسپتال دیا گیا۔ہمارے پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے انتخاب میں میانوالی والوں کی دعا اور دوا دونوں شامل تھیں ۔ان کی جانب سے نئے اضلاع کی منظوری یقیناً قابل تحسین عمل ہے۔ میانوالی سے صرف ساٹھ میل دورتلہ گنگ شہر کو ضلع کا درجہ دیا جانا ،وہاں میڈیکل کالج ، انجینئرنگ یونیورسٹی اور انڈسٹریل زون کا اعلان یقیناً وہاں کی ترقی کا باعث بنے گامگر عمران خان کے شہر میانوالی کے باسی بھی چوہدری پرویز الٰہی کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔سب سے اہم مسئلہ میانوالی شہر سے کوٹ بیلیاں سی پیک انٹرچینج تک ہیوی ٹریفک اور سنگل روڈ ہونے کے سبب آئے روز ہونے والےحادثات ہیں۔اس لئے فوری اس سڑک کو دو رویہ بنانے کی منظوری دی جائے ۔سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار یونیورسٹی کی منظوری دے چکے ہیں ۔آپ سے درخواست ہے کہ میانوالی ضلع کی بچیوں کےلئے وومن یونیورسٹی اور میڈیکل کالج کی منظوری دیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان ’’نمل جھیل ‘‘ کی تزئین و آرائش اور سیاحوں کےقیام کےلئے ریسٹ ہائوس بنانے کا حکم دے چکے ہیں مگر اس پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔اس کے علاوہ میانوالی کےسیاحتی شہرکالاباغ اور چکوال کے سیاحتی شہر کلرکہار کو سسٹر سٹی ڈیکلیئر کر کےانہیں سیا حوں کےلئے اور متاثر کن بنایا جائے ۔بارانی ایریا ہونے کے باعث میانوالی میں زرعی یونیورسٹی کے کیمپس کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی جس طرح دوسرے اضلاع کی ترقی کےلئے کوشاں ہیں ،میانوالی کی حالت بدلنے کےلئے بھی خصوصی اقدامات اٹھائیں گے۔

خیر اندیش۔تنویر حسین ملک

میانوالی کی مٹی

میانوالی میرا شہر ہے اور اس کی مٹی سے مجھے بے پناہ محبت ہے۔ ایک بار عمران خان کے حوالے سے ایک تحریر قلمبند کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا ، ’’میانوالی تیس میل چوڑی اور پچاس میل لمبی ایک شاداب وادی کا نام ہے جس کے تین اطراف میں سنگلاخ پہاڑ ہیں اور ایک طرف صحرا ہے جب کہ درمیان میں دریائے سندھ بہہ رہا ہے۔یعنی میانوالی کے لوگ فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرنے والے لوگ ہیں ۔وہ بندۂ صحرائی بھی ہیں اور مردِ کوہستانی بھی بلکہ اس کے ساتھ انہیں بندہ ِ دریائی اور مرد ِ میدانی بھی کہا جاسکتا ہے ۔‘‘۔میانوالی سے تعلق رکھنے والا شخص دنیا میں کہیں بھی ہواپنی پہچان ضرور کراتا ہے ۔کسی نہ کسی حد تک اپنے گرد و نواح کو ضرور متاثر کرتا ہے ۔یہ شاید اس مٹی کی عطا ہے ۔ میانوالی کا ایک آدھ کردار ایسا بھی گزرا ہے جس کے سبب ہم میانوالی کے لوگ اپنے اندر کچھ کچھ شرمندہ رہنے لگے تھے ۔اس نے ہمارے سر جھکا دئیے تھے مگر ہزار شکر ہے کہ عمران خان نے پھر ہمیں سر اٹھا کر چلنے کا موقع دیا ہے ۔جہاں ’’ چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے ۔‘‘وہاں صرف میانوالی نہیں اس وقت پوری پاکستانی قوم سر اٹھا کر چلتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔بے شک ۔بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی ۔کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں ۔۔مگر بلند حوصلوں اور مضبوط ارادوں سے بھری قوم کو منزل تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔بس اسی کو دوام ہے ،جو دوسروں کے لئے منافع بخش ہو۔ وہی چراغ جلے گا جس میں ہمت ہو گی۔ انشااللّٰہ وہی راستہ قدم قدم یادگار بنے گا جو میانوالی سے بنی گالا تک پھیلا ہوا ہے۔

تازہ ترین