• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انتخاب و ترتیب: یاسر حبیب

صفحات: 256، قیمت: 1200روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ، نوید اسکوائر، اُردو بازار، کراچی۔

ڈی ایچ لارنس نے11ستمبر 1885ء کو جنم لیا اور 2مارچ 1930ء کو اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ انہوں نے اس مختصر سے عرصے میں کئی بڑے کام کیے اور خاصی تعداد میں ادبی اثاثہ چھوڑا ہے۔مثلاً ناولز، کہانیاں، نظمیں، ڈرامے، سفرنامے، تراجم اور خطوط وغیرہ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جو افسانے لکھے، وہ تین جلدوں پر مشتمل ہیں۔ لارنس کے بیش تر ناول، افسانے اور تحریریں اُن کی اپنی زندگی ہی سے مستعار ہیں۔زیرِنظر کتاب میں ڈی ایچ لارنس کے تین تعارفی مضامین شامل ہیں، جو قیصر نذیر خاور، ڈاکٹر صہبا جمالی شاذلی اور یاسر حبیب نے تحریر کیے ہیں۔

نیز، 12 افسانوں کے تراجم بھی ہیں، جو مختلف مترجمین سے کروائے گئے، جب کہ ہر مترجم کا تعارف بھی دیا گیا ہے۔ افسانوں کے عنوانات اور ترجمہ نگاروں کے نام ملاحظہ فرمائیں۔ گلاب باغ میں سایہ (اسماء حسین)، نابینا شخص، آخری ہنسی (ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی)، دوسرا بہترین، مُسکراہٹ (فوزیہ مقبول)، اسپ فروش کی بیٹی (نبراس سہیل)، کاٹھ کا گھوڑا (قیصر نذیر خاور)، محبّت (سیّدہ نسیم ہمدانی)، پادری کی بیٹیاں، سورج (محمّد سلیم الرحمٰن) عورت ،جو سوار ہو کر چل دی (محمّد خالد اختر)، ماں اور بیٹی (عقیلہ منصور جدون) اتنے بڑے مصنّف کی کہانیوں کا ترجمہ کرنا کوئی معمول بات نہیں، لیکن ہر ترجمہ نگار نے جیسے اپنا دِل نکال کر رکھ دیا ہے۔

یاسر حبیب نے یہ کتاب مرتّب کرکے بہت اہم خدمت انجام دی ہے۔ یقیناً یہ کتاب ان کی شناخت کا بنیادی وسیلہ ٹھہرے گی۔ نیز، کتاب بہت سلیقے سے بھی چَھاپی گئی ہے۔ اگر یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ اس کتاب کا ظاہر و باطن ایک ہے۔ توقع ہے کہ یہ کتاب ادبی دُنیا میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کرے گی۔