• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایلون مسک کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر واپسی سے انکار پر ردِعمل

ایلون مسک کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر واپسی سے انکار پر ردِعمل، فائل فوٹو
ایلون مسک کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر واپسی سے انکار پر ردِعمل، فائل فوٹو

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے نئے چیف ایلون مسک کا کہنا ہے کہ کیپیٹل حملے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کرنا سنگین غلطی تھی۔

ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر کو نظر انداز کرنے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

اُنہوں نے ایک ٹوئٹرصارف کو جواب دیتے ہوئے لکھا کہ’مجھے ٹرمپ کے ٹوئٹ نہ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے‘۔

اُنہوں نے لکھا کہ’اہم بات یہ ہے کہ ٹوئٹر نے ٹرمپ کے اکاؤنٹ کو بند کرنے کی ایک سنگین غلطی کو درست کرلیا ہے‘۔

اُنہوں نے مزید لکھا کہ ٹرمپ نے ٹوئٹر کے قوانین یا سروس کی شرائط کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی‘۔

ایلون مسک نے لکھا کہ’ملک کے موجودہ صدر کے اکاؤنٹ کو بند کرنے سے آدھے امریکی عوام کا ٹوئٹر پر جو اعتماد ہے اسے نقصان پہنچے گا‘۔

ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال کر دیا

واضح رہے کہ ایلون مسک نے گزشتہ ہفتے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بحال کر دیا تھا۔

ایلون مسک نے ٹوئٹر پر جمعے کے روز سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی بحالی سے متعلق لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ایک پول کروایا تھا۔ 

پول کے نتائج اکاؤنٹ کی بحالی کے حق میں آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بحال کردیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پابندی کیوں لگی؟

واضح رہے کہ 6 جنوری کو کیپیٹل ہل حملے کے تناظر میں 2021ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔

پابندی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئٹر پر فالوورز کی تعداد 88.8 ملین تھی۔


سابق امریکی صدر نے بار بار ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ نومبر 2020ء کے انتخابات میں ان کی شکست ووٹروں کی بڑے پیمانے پر دھوکا دہی کی وجہ سے ہوئی۔

ماضی میں ٹوئٹر اکاؤنٹ مستقل طور پر بند کرنے سے قبل 7 جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ 12 گھنٹے کے لیے لاک کر دیا گیا تھا اور ساتھ ہی انہیں پابندی کی وارننگ بھی دی گئی تھی۔

اس حوالے سے ٹوئٹر انتظامیہ نے کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے 3 ٹوئٹ ڈیلیٹ کیے گئے ہیں اور ان کا اکاؤنٹ 12 گھنٹوں کے لیے لاک کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید