• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور: پولیس لائنز کی مسجد میں خود کش دھماکا، 59 افراد شہید، 140 زخمی

مسجد کا بیرونی منظر - فوٹو: اے ایف پی
مسجد کا بیرونی منظر - فوٹو: اے ایف پی

پشاور کی پولیس لائنز میں واقع مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 59 افراد شہید جبکہ 140 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس کے مطابق پولیس لائنز کی مسجد میں باجماعت نمازِ ظہر ادا کی جا رہی تھی جس کے دوران پہلی صف میں موجود خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

خود کش دھماکے سے پولیس لائن کی مسجد کی 2 منزلہ عمارت گر گئی جس کے ملبے تلے متعدد افراد ابھی بھی دبے ہوئے ہیں، دھماکے میں امامِ مسجد صاحبزادہ نورالامین بھی شہید ہو گئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکا خیز مواد 10 کلو سے زائد بھی ہوسکتا ہے۔

پولیس شہدا میں 5 سب انسپکٹر، ایک اے ایس آئی بھی شامل ہے، دھماکے میں ایک خاتون بھی شہید ہوئی۔

مسجد کا بیرونی منظر - فوٹو: اے ایف پی
مسجد کا بیرونی منظر - فوٹو: اے ایف پی

خودکش دھماکے کی ذمے داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) منتقل کیا۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ نے شہریوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال محمد عاصم کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد 157 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا

 ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لیڈی ریڈنگ اسپتال میں دھماکے کے تقریباً 65 زخمی زیرعلاج ہیں، جن میں کچھ کی حالت نازک ہے زیادہ تر کی حالت تسلی بخش ہے۔

ترجمان کے مطابق زخمیوں اور جاں بحق افراد میں زیادہ تر پولیس اہلکار شامل ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں ایس پی نور زمان زخمی ہوئے ہیں جنہیں سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا آئی جی سے سوال

وزیراعظم نے آئی جی سے استفسار کیا کہ خود کش حملہ آور کیسے پولیس لائنز میں داخل ہوگیا؟

اس پر آئی جی معظم جاہ انصاری نے کہا کہ کیا پتا حملہ آور کہاں سے آیا اور کیسے داخل ہوگیا۔

وزیراعظم نے سوال کیا کہ پولیس لائنز میں داخلے کا ایک ہی گیٹ ہے، حملہ آور کہاں سے آیا؟

آئی جی خیبر پختونخوا نے جواب دیا کہ پولیس لائنز میں فیملی کوارٹرز بھی ہیں، ہوسکتا ہے حملہ آور پہلے سے ہی اندر رہ رہا ہو۔

آئی جی معظم جاہ نے وزیراعظم کو بتایا کہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور حملہ آور پولیس لائنز پشاور میں کیسے داخل ہوا۔

دھماکے کے27 شہداء کی نمازجنازہ

پشاور پولیس لائنز مسجد دھماکے کے27 شہداء کی نمازجنازہ ادا کر دی گئی۔

نماز جنازہ میں کور کمانڈر پشاور، آئی جی پولیس، کمانڈنٹ ایف سی نے شرکت کی، پولیس کے دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی۔

اس موقع پر پولیس لائنز اطراف سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے۔

قومی خبریں سے مزید