• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

تُو عروسِ شامِ خیال بھی، تُو جمالِ روئے سحر بھی ہے ...

تحریر: نرجس ملک

ماڈل: ثنا شاہ

ملبوسات: منوش برائیڈل

زیورات: المکّہ جیولرز

آرائش: ماہ روز بیوٹی پارلر

کوآرڈی نیشن: محمّد کامران

عکّاسی: ایم کاشف

لےآؤٹ: نوید رشید

اعتبار ساجد کی ایک غزل ہے ؎ آنے والی تھی خزاں، میدان خالی کردیا…کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کردیا…ہم تِرے خوابوں کی جنّت سے نکل کر آگئے…دیکھ تیرا قصرِ عالی شان خالی کردیا…بانٹنے نکلا ہے وہ پھولوں کے تحفے شہر میں…اِس خبر پر ہم نے بھی گل دان خالی کردیا…لے گیا وہ ساتھ اپنے دل کی ساری رونقیں…کس قدر یہ شہر تھا گنجان، خالی کردیا…ساری چڑیاں اُڑ گئیں، مجھ کو اکیلا چھوڑ کر…میرے گھر کا صحن اور دالان خالی کردیا…ڈائری میں سارے اچھے شعر چُن کر لکھ لیے…ایک لڑکی نے میرا دیوان خالی کر دیا۔ تو بھئی، جب سارا دیوان ہو ہی ’’صنفِ نازک‘‘ کے مرہونِ منّت، اُسی کے نازو انداز، حُسن و دل کشی، آرائش و زیبائش، جامہ زیبی و دل آویزی، عِشوہ گری و دل بَری کے دَم قدم سے، تو پھر وہ خالی بھی کسی لڑکی کی ڈائری ہی پر ہوگا۔ 

ویسے شعرائے کرام کو اس ضمن میں عورت ذات کا بے حد ممنونِ احسان ہونا چاہئے کہ اُن کا تو سارا کاروبار ہی وجودِ زن کے توسّط سے ہے۔ وہ کیا ہے کہ ؎ انداز و ناز و غمزہ و شوخی و کج رَوی…ہیں ایک میرے دَم کے یہ قاتل الگ الگ۔ اور ؎ ناز و انداز کی قیمت ہے تیرے، میرے سبب…کس کی محفل میں بھلا اور غضب ڈھاؤ گے۔ اور پھر آسکر وائلڈ کے بھی بقول،’’عورتیں محبّت کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔‘‘ تو اک شعر و شاعری ہی نہیں، دنیا میں اوربھی بڑا کچھ مستورات ہی کی محبّت میں ہو رہا ہے، جیسا کہ فیشن انڈسٹری کا تو عورات کے بغیر تصوّر ہی محال ہے۔

تو لیجیے، ذرا ہماری آج کی بزم تو ملاحظہ فرمائیں، جو دو عروسی پہناووں کے ساتھ کچھ ہیوی تقریباتی ملبوسات اور بھاری بھرکم زیورات سے مرصّع ہے۔ گہرے عنّابی رنگ کے ساتھ فون کے دِل نشین کامبی نیشن میں حسین کڑھت سے مزیّن لہنگا، کُرتی اور بنارسی نیٹ کا بھاری کام دار دوپٹّا ہے، تو فون رنگ کے ساتھ مٹیالے کے امتزاج میں ہینڈ ایمبرائڈری سے آراستہ لہنگا، چولی بھی کسی ’’بات پکّی تقریب‘‘ کے لیے ایک شان دار انتخاب ثابت ہوسکتا ہے، جب کہ بلڈ ریڈ رنگ میں جارجٹ کا ایک حسین کام دار ڈبل شرٹ انداز (ایپرن اسٹائل) پہناوا ہے، تو گہرے جامنی رنگ، باٹل گرین رنگ اور ٹی پنک رنگ میں بھی بَھرے بَھرے، حسین و دل نشین سے رنگ و انداز ہیں۔

اور…ان تمام پہناووں کی خاصیت یہ ہے کہ نئی نویلی دلہنوں سے لے کر دلہن، دولھے کی بہنوں، دلہن کی قریبی سکھی سہیلیوں اور کزنز وغیرہ اگر نسبتاً بھاری، اسٹائلش زیورات اور متناسب میک اپ کے ساتھ اپنائیں گی، تو پوری بزم میں بس وہی چھائی نظر آئیں گی۔ بقول سرور بارہ بنکوی ؎ تُوعروسِ شامِ خیال بھی، تُو جمالِ روئے سحر بھی ہے… یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ میرا اہتمامِ نظر بھی ہے۔