آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ23؍ صفرالمظفّر 1441ھ 23؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
آئیے فرض کر لیتے ہیں کہ ہم نے یکساں نظام تعلیم کی راہ میں حائل معاشی، علمی اور انتظامی مشکلات جادو کی چھڑی سے دور کر لی ہیں۔ طے یہ پایا کہ امیر ہو یا غریب، سب کو سرکاری اسکولوں میں ایک جیسی تعلیم فراہم کی جائے گی۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ یکساں نظام تعلیم کے لیے ہمیں ایک معیاری نصاب بھی طے کرنا ہو گا تاکہ اس نظام سے فارغ التحصیل ہونے والے طالب علم دنیا بھر میں اپنے ہم عمر طلبا اور طالبات کا مقابلہ کر سکیں۔ سوال یہ ہے کہ عشروں کی نظریاتی تلقین کے زیر اثر ہم نے اپنے نصاب کی جو صورت بگاڑی ہے ،کیا اس پر نظرثانی کی زحمت کی جائے گی۔ بنیادی تعلیم میں جغرافیے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ ہم نے جغرافیے کی تعلیم کو مطالعہ پاکستان کے ایک یا دو ابواب تک محدود کر رکھا ہے۔ مطالعہ پاکستان میں شامل تاریخ کا تاریخی حقائق سے کوئی واسطہ نہیں۔ شہریت ہے تو ہمارے خصوصی تناظر میں گھڑے ہوئے مفروضات کے تابع۔ مرحوم خورشید کمال عزیز نے ’تاریخ کے قتل‘ کے نام سے ایک عمدہ کتاب لکھی تھی جس میں ہماری نصابی کتابوں کا تجزیہ کر کے بتایا تھا ہم کس طرح تنگ نظری، تفرقہ پروری اور رجعت پسندی کی آبیاری کر رہے ہیں۔ دوسری طرف سائنس کے مضامین میں ہم نے مذہبی لغت کو دخل دے رکھا ہے۔ سائنس کے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد سائنسی طریقہ کار کے بنیادی مفروضات ہی سے

آگاہ نہیں۔ بیالوجی کے اساتذہ کی اکثریت کا کہنا ہے کہ ارتقا کا نظریہ نصابی طور پر ٹھیک ہے لیکن مذہبی اعتبار سے اس پر یقین رکھنا درست نہیں۔ علم اور عقیدے کی اس ثنویت میں آپ کے فارغ التحصیل طلبا کا کیا بنے گا؟ اس سوال کا جواب فارسی شاعر نے تو بہت پہلے دے دیا تھا، گر ہمیں مکتب است و ایں ملا، کار طفلاں تمام خواہد شد۔
یکساں نظام تعلیم کے نعرے اور مادری یا مقامی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کا مطالبہ امیر طبقے کے خلاف نہیں بلکہ متوسط اور نچلے طبقے کے خلاف سازش ہے۔ گزشتہ 80 برس میں انتظامیہ، تدریس، طب، عدلیہ، صحافت، علم و ادب اور دوسرے پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ ترین مناصب پر پہنچنے والے ان افراد کی تعداد گن جائیے جن کے والدین نچلے درجے کے سرکاری اہلکار تھے۔ ان میں سے کسی کے والد ریلوے اہلکار تھے تو کسی کا تعلق محکمہ تار اور ڈاک سے تھا۔ کسی کے والد پرائمری استاد تھے تو کسی کے والد کچہری میں عرائض نویس۔ ظاہر ہے کہ اس ترقی میں اس نسل کی ذاتی محنت کا بھی دخل ہے لیکن اس نسل کی معاشی اور سماجی ترقی میں ایک بڑا حصہ اس نظام تعلیم کا تھا جو آزادی سے پہلے اور کچھ بعد تک قائم تھا اور جسے گزشتہ تیس برس میں سوچ سمجھ کر تباہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ ہمیں تعلیم پر قومی وسائل خرچ کرنا پسند نہیں تھا نیز یہ کہ ہم ایسی تعلیم یافتہ رائے عامہ سے خوفزدہ تھے جو اپنی بہتر علمی استعداد اور تجزیے کی اہلیت کی مدد سے اجتماعی سطح پر ہونے والی دھاندلی اور ناانصافی کے خلاف مؤثر آواز اٹھا سکے۔ یکساں نظام تعلیم اور مقامیت کے حامی عناصر کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ نسلوں کو بیرونی دنیا سے کاٹ دیا جائے اور داخلی مسائل کے شعور سے بیگانہ کر دیا جائے تاکہ غریب اور مشتعل نوجوانوں کی ایسی کھیپ فراہم ہو سکے جو علم، اہلیت، ہنر اور بنیادی انسانی ہمدردی سے اس حد تک بے نیاز ہو کہ اسے عبادت گاہوں، پرہجوم بازاروں اور قومی سلامتی کے اداروں، غرض کہیں بھی خودکش دھماکے کرنے میں عار نہ ہو۔
معاشی عالمگیریت کا ایک ذیلی مظہر روزگار کی آئوٹ سورسنگ (Out sourcing ) ہے اور عالمی سطح پر اس مظہر سے سب سے زیادہ فائدہ بھارت نے اٹھایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بھارت میں انگریزی زبان میں معتدبہ صلاحیت رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ سے زائد ہے اور ہمارے تعلیمی نظام میں انگریزی زبان کا عمل دخل ایک صدی پر محیط ہے۔ اصولی طور پر پاکستان کو بھی بھارت کی سطح پرنہ سہی، کم از کم اس پیمانے پر آئوٹ سورسنگ سے فائدہ ہونا چاہیے تھا کہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کے اپنے ملک میں بیٹھ کر کام کرنے سے ہمیں ایسا ہی معاشی فائدہ حاصل ہوتا جو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے ہو رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اس میں محض پاکستان میں امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال یا پاکستان کی بیرونی دنیا میں ساکھ ہی کو دخل نہیں بلکہ تسلیم کرنا چاہیے کہ انگریزی خواندگی اور بول چال میں ہمارے اوسط درجے کے تعلیم یافتہ افراد کی استعداد بھارت کے ساتھ قابل مسابقت نہیں۔
یہ امر تو طے ہے کہ عمران خان اور فرید پراچہ کے موعودہ یکساں نظام تعلیم میں اشرافیہ کے مہنگے اسکولوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی لیکن سرکاری اسکولوں کے نتائج پر غور کرنے میں بھی حرج نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان معتوب اشرافیہ اسکولوں کے طالب علم گزشتہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تعلیمی مستقبل کے ضمن میں امید کی واحد کرن بن کر ابھرے ہیں۔ ماہر تعلیم محترمہ بیلا جمیل کا ادارہ ہر برس ملک بھر کے درجنوں اضلاع میں تین سے سولہ برس تک کی عمر کے تقریباً ہزاروں بچوں میں نہایت سادہ اردو اور انگریزی خواندگی نیز مبادی ریاضی کی مہارتوں پر تحقیق کے نتائج پیش کرتا ہے۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ پاکستان میں تین سے سولہ برس کی عمر کے پچاس فیصد سے زائد طالب علم اردو کے سہ حرفی لفظوں پر مشتمل تین سطریں پڑھنے سے قاصر ہیں۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یکساں نظام تعلیم کے علمبرداروں کے اپنے بطون مقدسہ سے صدور پانے والے ماہتاب اور آفتاب کہاں تعلیم پاتے ہیں۔ عمران خان، صاحبزادہ فضل کریم، سید منور حسن، طاہر القادری، قاضی حسین احمد اور ساجد میر سمیت درجنوں مذہبی سیاست دانوں کے بچے دنیا بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم پا تے ہیں اور پھر پیشہ ورانہ شعبوں میں اعلیٰ مقامات پر فائز ہو جاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے عربی زبان کا نسخہ اور اپنے زائیدگان کے لیے دنیاوی ترقی کے مدارج کی دو رخی پالیسی پر اہل جبہ و عمامہ کا اجارہ نہیں۔ طبقاتی اونچ نیچ کے ہاتھوں بے حال اشتراکیوں کے ہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ وہاں بھی ایک کہکشاں ہے جس کی ذریات حصول تعلیم کے لیے دیار مغرب میں سرگرداں نظر آتی ہے۔ لطف یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر امیر حیدر، ڈاکٹر سید حسین، اقبال شیدائی، ڈاکٹر اشرف یا ڈاکٹر اقبال احمد بھی نہیں تھے کہ سیاسی تبدیلی کے لیے دربدر ہوتے۔ انقلاب کے ان خودساختہ داعیوں کی ’دارالحرب‘ کی طرف ہجرت کی ایک پوچ سی وجہ تھی، ذاتی آسائش، مطالبات مدخولہ کی آسودگی نیز گاہے گاہے وطن واپس آکر پسماندگان کو سرمایہ دار دنیا کے ’ناگزیر انہدام‘ کی خوش خبری دینا۔
اس مسئلے کا حل غیر طبقاتی تعلیم کے نام پر مصنوعی یکسانیت پیدا کرنا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے تمام بچوں کو ایسی تعلیم کا کم از کم معیار کیسے فراہم کیا جائے جس کی مدد سے وہ آج کی دنیا سے بامعنی مکالمہ کر سکیں، معاشرے کے مفید رکن بن سکیں اور اپنا معیار زندگی بہتر بنا سکیں۔ ہمارے دائیں اور بائیں بازو کے سامراج دشمنوں کو یکسانیت بالخصوص نظریاتی یکسانیت سے بہت شغف ہے لیکن انسانی معاشرے میں بنیادی مساوات شہریت کی ہے جس کی بنیاد یکساں قوانین پر رکھی جاتی ہے ۔ جہاں شہریت کی بنا پر یکساں حقوق اور یکساں رتبہ حاصل نہ ہو ، وہاں تعلیم بھی یکساں نہیں ہوتی۔ جہاں معاشرے کے مختلف گروہوں کے لیے مختلف قوانین ہوں، اس معاشرے میں یکساں نظام تعلیم کا خواب خوش کن تو ہو سکتا ہے، شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کرتا۔